جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ مَنْ [48/ب] قَرَأَ فِي سَكَتَاتِ الإِمَامِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ · حديث 240
240 - حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبيد اللَّهِ (1)، قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَاقْرَأْ بِهَا وَاسْبُقْهُ، فَإِنَّ الإِمَامَ إِذَا قَضَى السُّورَةَ قَالَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ: آمِينَ، فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُكَ قَضَاءَ الإِمَامِ أُمَّ الْقُرْآنِ كَانَ قَمِنًا أَنْ يُسْتَجَابَ. _حاشية_________ (1) قوله: "عبيد الله"، من طبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري. وتحرف في طبعة مكتبة المنار إلى: "عبد الله". وقد سبق على الصواب برقم (202).
ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا ،محمد بن عبیداللہ (بن محمد بن زید بن ابی زيد القرشی الاموی ابوثابت) نے کہا: ہمیں (عبدالعزيز) بن ابی حازم نے حدیث بیان کی، وہ علاء (بن عبدالرحمٰن) سے، وہ اپنے ابا (عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے، وہ ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ جب امام سورۂ فاتحہ پڑھے تو تم (بھی) اسے پڑھو اور امام سے پہلے ختم کر لو۔ پس امام جب سورت پوری کر کے کہتا ہے، (غيـر المغضوب عليهم ولا الضالين) تو فرشتے کہتے ہیں: آمین، پس اگر تمہاری بات، امام کی فاتحہ پوری ہونے کے ساتھ مل جائے تو یہ اس کے زیادہ مستحق ہے کہ قبول کی جائے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،
Hadith 240
