جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ مَنْ نَازَعَ الإِمَامَ الْقِرَاءَةَ فِيمَا جَهَرَ لَمْ يُؤْمَرْ بِالإِعَادَةِ. · حديث 226
226 - وَرَوَى هِشَامٌ، وَسَعِيدٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، وعدة (1)، عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا: "إِذَا قَرَأَ الإمام فَأَنْصِتُوا". وَلَوْ صَحَّ لَكَانَ يَحْتَمِلُ أن يكون سِوَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأنْ يَقْرَأُ فِيمَا يَسْكُتُ الإِمَامُ وَأَمَّا فِي تَرْكِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَلَمْ يَتَبَيَّنْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ہشام (بن ابی عبدالله الدستوائی) سعید (بن ابی عروبہ) ہمام (بن یحییٰ) ابوعوانہ (وضاح بن عبدالله)، ابان بن یزید العطار اور (ابو) عبیدہ (مجاعہ بن الزبیر العتکی الازدی) نے قتادہ سے یہ روایت بیان کی اور ’’إذا قرأ فأنصتوا“ کے الفاظ بیان نہیں کئے اور اگر یہ الفاظ ثابت ہو جائیں تو انہیں سورۂ فاتحہ کے علاوہ پر محمول کیا جائے گا اور یہ کہ امام کے سکتوں میں قراءت کی جائے۔ رہا مسئلہ ترکِ قراءت کا تو میں اس حدیث سے واضح (اور ظاہر) نہیں ہے۔
وَرَوَى هِشَامٌ، وَسَعِيدٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، وعدة
Hadith 226
