جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ لاَ يُجْهَرُ خَلْفَ الإِمَامِ بِالْقِرَاءَةِ. · حديث 216
216 - حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أنا النَّضْرٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْمٍ كَانُوا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ فَيَجْهَرُونَ بِهِ: "خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ". وَكُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ، فَقِيلَ لَنَا: "إِنَّ فِي الصَّلاَةِ لَشُغْلاً".
ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن مقاتل (المروزی) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں نضر (بن شمیل) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یونس (بن اسحاق) نے خبر دی، وہ ابواسحاق سے، وہ ابوالاحوص سے، وہ عبداللہ (بن مسعود ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا جو (امام کے پیچھے) قرآن جہر سے پڑھ رہے تھے ’’تم نے مجھ پر قرآن (کی قراءت) کو خلط ملط کر دیا‘‘ اور ہم نماز میں (زبان سے) سلام (وجواب) دیتے تھے۔ پھر ہمیں کہا گیا : بے شک نماز میں مشغولیت ہے۔حسن
عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسَ ← النَّضْرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،
Hadith 216
