جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 170
170 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى أَبُو خَلَفٍ [36/ب] الْخَزَّازُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاَةَ الصُّبْحِ، فَسَمِعَ نَفَسًا شَدِيدًا أَوْ بُهرًا مِنْ خَلْفِهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصلاة قَالَ لِأَبِي بَكْرَةَ: أَنْتَ صَاحِبُ هَذَا النَّفَسِ؟ قَالَ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، خَشِيتُ أَنْ يفُوتَنِي رَكْعَةٌ مَعَكَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ، فَقَالَ له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلاَ تَعُدْ صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ وَاقْضِ مَا سَبَقْتَ".
ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں محمد بن مرداس (ابو عبداللہ الانصاری) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن عیسیٰ ابوخلف الخزاز نے حدیث بیان کی، وہ یونس (بن عبید) سے ، وہ حسن (بصری) سے، وہ ابوبکرہ ( نفيع بن الحارث بن کلدہ) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اپنے پیچھے (کسی آدمی کے) شدید سانسوں یا ہانپنے کی آواز سنی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کمل کی (تو) ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ سے کہا (تیز تیز) سانس لینے والے تم ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرے مجھے یہ ڈ رتھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میری رکعت فوت ہو جائے گی، پس اس لیے میں تیز تیز چل کر آیا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص زیادہ کرے ۔ آئندہ ایسا نہ کرنا جو ملے پڑھ لو اور جو پہلے گزر چکا ہو اسے قضا (یعنی پورا) کر لو۔
أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى أَبُو خَلَفٍ [36/ب] الْخَزَّازُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،
Hadith 170
