Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.11

وَقَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، وَإِنْ سمعت قِرَاءَتَهُ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَحْدَثُوا مَا لَمْ يَكُونُوا يَصْنَعُونَهُ. لأنَّ السَّلَفَ كَانَ إِذَا أَمَّ أَحَدُهُمْ الناس كَبَّرَ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَظُنَّ أَنَّ مَنَ خَلْفَهُ قَرَأَ بفَاتِحَةَ الْكِتَابَ، ثُمَّ قَرَأَ وَأَنْصَتُوا

( عبداللہ بن عثمان ) بن خثیم نے کہا: میں نے سعید بن جبیر ( رحمۃاللہ علیہ) سے کہا: کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ (تو) انہوں نے فرمایا: جی ہاں اگرچہ تو اس کی قراءت سن رہا ہو، کیونکہ ( آج کل کے ) ان لوگوں نے ایسی بدعت نکال لی ہے جو سلف (صالحین) نہیں کرتے تھے۔ ان میں سے جب کوئی شخص لوگوں کا امام بنتا ( تو) تکبیر کہتا پھر خاموش ہو جاتا۔ حتیٰ کہ جب یہ گمان ( ظاہر ) ہو جاتا کہ اس کے مقتدیوں نے سورۂ فاتحہ پڑھ لی ہے ۔ پھر وہ قراءت کرتا تو وہ خاموش ہو جاتے۔

«نَعَمْ، وَإِنْ ← ابْنُ خُثَيْمٍ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟

Hadith 25.11

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.12

وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْرَأَ سَكَتَ سَكْتَةً

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قراءت کا ارادہ کرتے تو تھوڑی دیر خاموش ہو جاتے۔“

أَبُو هُرَيْرَةَ، كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْرَأَ سَكَتَ سَكْتَةً

Hadith 25.12

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.13

وَكَانَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، وَغَيْرُهُمْ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ [10/ب] يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ عِنْدَ سُكُوتِ الإِمَامِ لكي يكون مقتديا (1) بقَوْلِ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ"، فَيكُونُ قِرَاءَتُهُ في السكتة فَإِذَا قَرَأَ الإِمَامُ أَنْصَتْ حَتَّى يَكُونَ مُتَّبَعًا لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ} (النساء) وَقَوْلِهِ: {وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} (النساء). وَإِذَا تَرَكَ الإِمَامُ شَيْئًا مِنَ حق الصَّلاَةِ، فَحَقَّ عَلَى مَنْ خَلْفَهُ أَنْ يُتِمُّوا. - قَالَ عَلْقَمَةُ: إِنْ لَمْ يُتِمَّ الإِمَامُ أَتْمَمْنَا.

اور ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن (بن عوف) میمون بن مہران وغیرہم اور سعید بن جبیر، امام کے نعبد کی نون ( کہنے ) تک سکتوں میں قراءت کے قائل تھے۔ ان کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ’’سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ‘‘ پس فاتحہ (ہی ) اس کی قراءت ہوتی ہے۔ پھر جب امام قراءت کرتا ہے تو وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے قول : ”جو رسول کی اطاعت کرے تو یقینًا اس نے اللہ کی اطاعت کی‘‘ اور قول ’’ہدایت واضح ہونے کے بعد جو شخص رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کے (اجماعی ) راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرح وہ پھرا ہے اور (پھر) اسے ہم جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔‘‘ پر عمل کرنے والا بن جاتا ہے۔ (یعنی فاتحہ خلف الامام پڑھنے والا قرآن و حدیث سب کا متبع ہے ) اور اگر امام اپنی نماز میں سے کچھ چھوڑ دے تو مقتدیوں کو چاہیے کہ اسے پورا کر لیں۔ علقمہ ( بن قیس) نے کہا: اگر امام پورا نہ کرے تو ہم پورا کر لیں گے۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← وَكَانَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Hadith 25.13

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.14

وَقَالَ الْحَسَنُ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ: أَقْرَأُ بِالْحَمْدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. - وَقَالَ آخَرُونَ مِنْ هَؤُلاَءِ: يُجْزِيهِ أَنْ يَقْرَأَ بِالْفَارِسِيَّةِ، وَيُجْزِيهِ أَنْ يَقْرَأَ بِآيَةٍ يَنْقَضُّ آخِرُهُمْ عَلَى أَوَّلِهِمْ بِغَيْرِ كِتَابٍ وَلاَ سُنَّةٍ. وَقِيلَ لَهُ: مَنْ أَبَاحَ لَكَ الثَّنَاءَ وَالإِمَامُ يَقْرَأُ بِخَبَرٍ أَوْ بِقِيَاسٍ وَحَظر عَلَى غَيْرِكَ الْفَرْضَ وَهُوَ الْقِرَاءَةُ وَلاَ خَبَرَ عِنْدَكَ [11/أ] وَلاَ اتِّفَاقَ. لِأَنَّ عِدَّةً مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، لَمْ يَرَوُا الثَّنَاءَ لِلإِمَامِ وَلاَ لِغَيْرِهِ (وَ) يُكَبِّرُونَ ثُمَّ يَقْرَؤُونَ، فَتَحَيَّرَ عِنْدَه {فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ} مَعَ أَنَّ هَذَا صَنَعَهُ (1) فِي أَشْيَاءَ مِنَ الْفَرْضِ، فجَعَلَ الْوَاجِبَ أَهْوَنَ مِنَ التَّطَوُّعِ، زَعَمْتَ أَنَّهُ إِذَا لَمْ يَقْرَأْ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ أَوِ الْعِشَاءِ يُجْزِيهِ وَإِذَا لَمْ يَقْرَأْ فِي رَكْعَةٍ مِنْ أَرْبَعٍ مِنَ التَّطَوُّعِ لَمْ يُجِزِهِ؟ (قُلْتَ: وَإِذَا لَمْ يَقْرَأْ فِي رَكْعَةٍ مِنَ الْمَغْرِبِ أَجْزَأَتهُ وَإِذَا لَمْ يَقْرَأْ فِي رَكْعَةٍ مِنَ الْوِتْرِ لَمْ يُجِزِهِ) ..... فَكَأَنَّهُ مُولِعٌ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ مَا فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ يُفَرِّقُ بَيْنَ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اور حسن (بصری ) ، سعید بن جبیر اور حمید بن ہلال (رحمہم اللہ ) نے کہا: جمعہ کے دن سورۂ فاتحہ پڑھ اور ان (منکرین فاتحہ خلف الامام ) میں سے دوسرے لوگوں نے کہا: فارسی میں قراءت جائز ہے اور ( فاتحہ میں سے) ایک آیت پڑھنی جائز ہے۔ ان کے پچھلے اپنے اگلوں پر رد کر رہے ہیں۔ (ان کے پاس) نہ کتاب ہے اور نہ سنت۔ ایسے آدمی سے کہا جاتا ہے کہ: ’’جب امام ( قرآن ) پڑھ رہا ہو تو کس نے تیرے لیے ثنا( پڑھنا) مباح ( جائز) قرار دیا ہے؟ کوئی حدیث یا قیاس؟ اور کس نے تیرے علاوہ دوسرے پر قراءت جو فرض ہے، اسے منع کر دیا ہے؟ تیرے پاس کوئی حدیث نہیں اور نہ اس ثنا پر اتفاق (ہوا) ہے کیونکہ مدینہ والے کئی ( علماء ) ثنا کے قائل نہیں ہیں۔ نہ امام کے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے۔ وہ تکبیر کہتے ہیں۔ پھر قراءت کرتے ہیں‘‘ تو ایسا شخص حیران و (پریشان) رہ جاتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے شک میں سرگرداں پھر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ اس نے فرض کی کئی چیزوں میں ( عجیب و غریب ) کام کر رکھا ہے۔ اس نے واجب (فرض ) کونفل سے کم درجے کا بنا دیا ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ اگر ظہر ، عصر یا عشاء کی دو ( آخری) رکعتوں میں (مطلق ) قراءت نہ کرے تو ( بھی ) جائز ہے اور اگر نفل کی چار رکعتوں میں سے ایک میں قراءت نہ کرے تو جائز نہیں ہے، تو یہ کہتا ہے کہ اگر مغرب کی ایک رکعت میں نہ پڑھے تو ( نماز ) جائز ہے اور اگر وتر کی ایک رکعت میں نہ پڑھے تو جائز نہیں ہے۔ گویا یہ شخص اس پر تُلا ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے جدا کیا اسے یہ اکٹھا کر دے اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھا کیا اسے یہ جدا کر دے۔

حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ: أَقْرَأُ بِالْحَمْدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. ← الحسن، وسعيد بن جبيرٍ،

Hadith 25.14

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.15

قال البخاري: وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عن علي (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ): مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ. وَهَذَا لم يَصِحُّ لِأَنَّهُ لاَ يَعْرِفُ الْمُخْتَارَ وَلاَ يُدْرَى أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ (2)، وَأَبُوهُ مِنْ عَلِيٍّ (رضي الله عنه)، وَلاَ يَحْتَجُّ أَهْلُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِهِ. وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عبيد اللَّهِ (3) بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عليٍ أولى، وأصح

اور بخاری نے کہا: علی بن صالح نے الاصبہانی سے، اس نے مختار بن عبداللہ بن ابی لیلی ٰسے، اس نے اپنے ابا ( عبداللہ بن ابی لیلیٰ ) سے اس نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جس نے امام کے پیچھے ( جہر کے ساتھ ) قراءت کی تو اس نے یقیناً فطرت(اسلام) کی مخالفت کی۔ یہ (اثر بلحاظِ سند) صحیح نہیں ہے کیونکہ مختار ( مذکور ) معروف نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی پتا ہے کہ اس نے فی الاصل اپنے باپ سے اور اس کے باپ نے علی رضی اللہ عنہ ( بن ابی طالب ) سے سنا ہے۔ اہل حدیث اس جیسی روایت سے حجت نہیں پکڑتے اور زہری کی عبیداللہ بن ابی رافع سے ، اس کی اپنے ابا ابو رافع سے روایت زیادہ صحیح اور زیادہ دلالت کرنے والی ہے۔

أَبِيهِ ← الْمُخْتَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← الْأَصْبَهَانِيُّ، ← البخاري: وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ،

Hadith 25.15

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.16

وَرَوَى دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ بجاد (1)، رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، وَدِدْتُ [11/ب] أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ فِي فِيهِ جمر [ة] (2). وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَابْنُ بجاد (1) لَمْ يُعْرَفْ، وَلاَ سُمِّيَ. وَلاَ يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ فِي فيِّ الْقَارِئِ خَلْفَ الإِمَامِ: جَمْرَةٌ، لأن الجمرة مِنْ عَذَابِ اللَّهِ

اور داود بن قیس نے اولادِ سعد میں سے ابن نجاد ( نامی کسی مجہول شخص) سے ( اس نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ) روایت کیا ہے کہ ’’بے شک جو شخص امام کے پیچھے (اونچی) قراءت کرتا ہے اس کے منہ میں انگارہ ہو‘‘ اور یہ (روایت) مرسل (یعنی منقطع) ہے اور ابن نجاد معروف نہیں ہے اور نہ اس کا نام معلوم ہے اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ کہہ دے کہ امام کے پیچھے پڑھنے والے کے منہ میں انگارہ ہو۔ [کیونکہ انگارہ اللہ کے عذاب میں سے ہے]۔

فِي فيِّ الْقَارِئِ خَلْفَ الإِمَامِ: جَمْرَةٌ، لأن الجمرة مِنْ عَذَابِ اللَّهِ ← ابْنُ بجاد لَمْ يُعْرَفْ، وَلاَ سُمِّيَ. وَلاَ يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ ← سَعْدٍ، وَدِدْتُ أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ فِي فِيهِ جمر وَهَذَا مُرْسَلٌ، ← ابْنِ بجاد رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ، ← وَرَوَى دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ،

Hadith 25.16

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.17

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ"، وَلاَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُتَوَهَّمَ ذَلِكَ عَلَى سَعْدٍ مَعَ إِرْسَالِهِ وَضَعْفِهِ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو اور کسی آدمی کے لیے یہ وہم کرنا جائز نہیں ہے کہ ( سیدنا ) سعد ( بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے ایسا فرمایا ہوگا۔ باوجود اس کے کہ میں روایت مرسل اور ضعیف ہے۔

Hadith 25.17

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.18

وَرَوَى أَبُو جناب (3)، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ عَبْدِ اللَّهِ - رضي الله عنه -: وَوَدِتُ أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ مُلِئَ فُوهُ نَتِنًا. وَهَذَا مُرْسَلٌ لاَ يُحْتَجُّ بِهِ وَخَالَفَهُ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عن الأَسْوَدِ وَقَالَ: "رَضْفًا"، وَلَيْسَ هَذَا مِنْ كَلاَمِ أَهْلِ الْعِلْمِ لوُجُوهٍ

اور ابوحباب نے سلمہ بن کہیل سے ، انہوں نے ابراہیم ( بن یزید النخعی ) سے روایت کیا، ایک نسخے میں عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) ہے، کہا: میں چاہتا ہوں کہ جو شخص امام کے پیچھے (جہراً) قراءت کرتا ہے اس کا منہ گندگی سے بھر جائے اور یہ (روایت) مرسل (یعنی منقطع) ہے اور اس سے حجت پکڑنا (جائز) نہیں ہے اور (عبدالله) ابن عون نے اس (سند) کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ابراہیم (النخعی) سے، اسود (بن یزید) سے بیان کیا ہے (کہ اسود نے کہا) گرم پتھر (سے منہ بھر جائے ) اور کئی لحاظ سے یہ کلام علماء کے شایانِ شان نہیں ہے۔

"رَضْفًا"، وَلَيْسَ هَذَا مِنْ كَلاَمِ أَهْلِ الْعِلْمِ لوُجُوهٍ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← هَذَا مُرْسَلٌ لاَ يُحْتَجُّ بِهِ وَخَالَفَهُ ابْنُ عَوْنٍ ← عَبْدِ اللَّهِ وَوَدِتُ أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ مُلِئَ فُوهُ نَتِنًا. ← إِبْرَاهِيمَ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← وَرَوَى أَبُو جناب

Hadith 25.18

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.19

أَحَدُهَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ تَلاَعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلاَ بِالنَّارِ وَلاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهوَالْوَجْهُ الآخَرُ: أنه لاَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَتَمَنَّى أَنْ يَمْلأَ أَفْوَاهَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [مثل] (4) عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَحُذَيْفَةَ - رضي الله عنهم -، وَمَنْ ذَكَرْنَا رَضْفًا وَلاَ نَتِنًا وَلاَ تُرَابًا. وَالْوَجْهُ الثَّالِثُ: إِذَا ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنْ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَلَيْسَ فِي الأَسْوَدِ [12/أ] وَنَحْوِهِ حُجَّةٌ

ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی لعنت اور ( جہنم کی) آگ کے ساتھ (کسی پر) لعنت نہ بھیجو اور نہ اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب دو۔‘‘ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی ایک کے لیے یہ تمنا (کرنا ) جائز نہیں ہے کہ (بقول اس کے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مثلًا عمر بن الخطاب، ابی بن کعب، حذیفہ اور جن کا ہم نے ذکر کیا ہے (رضی اللہ عنہم) کے منہ گرم پتھر، گندگی یا مٹی سے بھر جائیں۔ (نعوذ باللہ) تیسری وجہ یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کے آثار ثابت ہو جائیں تو اسود ( بن یزید) وغیرہ کے اقوال میں حجت باقی نہیں رہتی۔

Hadith 25.19

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.2

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ: لَيْسَ أَحَدٌ بَعْدَ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلاَّ ويُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيُتْرَكُ إِلاَّ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اور ( عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد (بن جبر) نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر آدمی کی بات رد بھی ہو سکتی ہے اور قبول بھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات قبول ہے۔ کوئی بات رد نہیں ہوسکتی۔

Hadith 25.2

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.21

وَقَالَ حَمَّاد بن سلمة: وَدِدْتُ أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ مُلِئَ فُوهُ سَكَرًا.

حماد (بن ابی سلیمان) نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ جو امام کے پیچھے (سورۂ فاتحہ سراً) پڑھتا ہے اس کا منہ شکر سے بھر جائے۔

دِدْتُ أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ مُلِئَ فُوهُ سَكَرًا. ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،

Hadith 25.21

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.22

قال البخاري: وَرَوَى عمر (1) بْنُ محمد، عن مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَلاَ صَلاَةَ له. وَلاَ يُعْرَفُ لِهَذَا الإِسْنَادِ سَمَاعٌ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَلاَ يَصِحُّ مِثْلُهُ

اور بخاری نے کہا: عمر بن محمد نے موسیٰ بن سعد سے ، اس نے زید بن ثابت ( رضی اللہ عنہ ) سے روایت کیا کہ ”جو شخص امام کے پیچھے (جہراً) قراءت کرے تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔‘‘ اس سند کے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع معلوم نہیں ہے اور ایسی روایت صحیح نہیں ہوتی۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← مُوسَى بْنِ سَعْدٍ ← البخاري: وَرَوَى عمر بْنُ محمد،

Hadith 25.22

chevron_left Previous
1234…26
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter