جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.11
وَقَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، وَإِنْ سمعت قِرَاءَتَهُ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَحْدَثُوا مَا لَمْ يَكُونُوا يَصْنَعُونَهُ. لأنَّ السَّلَفَ كَانَ إِذَا أَمَّ أَحَدُهُمْ الناس كَبَّرَ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَظُنَّ أَنَّ مَنَ خَلْفَهُ قَرَأَ بفَاتِحَةَ الْكِتَابَ، ثُمَّ قَرَأَ وَأَنْصَتُوا
( عبداللہ بن عثمان ) بن خثیم نے کہا: میں نے سعید بن جبیر ( رحمۃاللہ علیہ) سے کہا: کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ (تو) انہوں نے فرمایا: جی ہاں اگرچہ تو اس کی قراءت سن رہا ہو، کیونکہ ( آج کل کے ) ان لوگوں نے ایسی بدعت نکال لی ہے جو سلف (صالحین) نہیں کرتے تھے۔ ان میں سے جب کوئی شخص لوگوں کا امام بنتا ( تو) تکبیر کہتا پھر خاموش ہو جاتا۔ حتیٰ کہ جب یہ گمان ( ظاہر ) ہو جاتا کہ اس کے مقتدیوں نے سورۂ فاتحہ پڑھ لی ہے ۔ پھر وہ قراءت کرتا تو وہ خاموش ہو جاتے۔
«نَعَمْ، وَإِنْ ← ابْنُ خُثَيْمٍ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟
Hadith 25.11
