جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 118
118 - قَالَ ابْنُ جَرِيجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ يَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ، وقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ بُوقًا، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ. وَهَذَا خِلاَفُ مَا ذَكَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
اور (عبدالملک بن عبدالعزیز) بن جریج نے کہا: مجھے نافع (مولیٰ ابن عمر) نے حدیث بیان کی ، وہ (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو اکٹھے ہو کر (وقت کے) اندازے سے نماز پڑھ لیتے تھے تو بعض (لوگوں) نے کہا: ناقوس (بجانا) مقرر کر لو۔ اور بعض نے کہا: سینگ بنا لو۔ پھر عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: تم کوئی آدمی مقرر کیوں نہیں کر لیتے جو نماز کے لیے منادی کرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! اٹھ اور نماز کے لیے منادی کر (یعنی اذان دے)۔ عبدالرحمٰن (بن اسحاق) نے زہری عن سالم عن ابن عمر کی سند سے جو روایت بیان کی ہے۔ یہ ( درج بالا) روایت اس کے خلاف ہے اور عبدالرحمٰن (مذکور) نے (محمد بن مسلم بن عبیداللہ) الزہری عن سعيد عن ابی ہريرہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے روایت کیا کہ جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے اور یہ (حدیث) مالک (بن انس) معمر (بن راشبد) اور یونس (بن یزید الأیلی) وغیرہم سے مشہور و متواتر ہے وہ (سب) زہری عن عطاء بن یزید ( اللیثی) عن ابی سعید (الخدری)عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بیان کرتے ہیں۔
ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← النَّبِيُّ يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ. وَهَذَا خِلاَفُ مَا ← عُمَرُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ؟ ← بَعْضُهُمْ: بَلْ بُوقًا، ← بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا، ← ابْنِ عُمَرَ، كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ يَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ، ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ،
Hadith 118
