Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 70

70 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ ثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةٍ جهر فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: "هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا"؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ: "إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ"؟.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں اسماعیل (بن ابی اویس) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مالک (بن انس) نے حدیث بیان کی ، وہ (محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ) بن شہاب ( الزہری) سے، وہ( عمارہ یا عمار) ابن اکیمہ اللیثی سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے فارغ ہوئے جس میں قراءت جہر سے کی جاتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میرے ساتھ ابھی، تم میں سے کسی نے (فاتحہ کے علاوہ) قراءت کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے (کی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں بھی کہتا ہوں کہ کیوں مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے؟“

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← إِسْمَاعِيلُ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 70

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 71

71 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يوسف، قَالَ: حَدَّثَنَي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيَّ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، [22/ب] يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ -وَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ: صَلاَةَ الْفَجْرِ- فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: "أَلاَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ " قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الإِمَامُ وَقَرَؤُوا فِي أَنْفُسِهِمْ سِرًّا فِيمَا لاَ يَجْهَرُ فِيهِ الإِمَامُ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَوْلُهُ: فَانْتَهَى النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ بَيَّنَهُ لِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَاحٍ، قَالَ: ثَنَا مُبَشِّرٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَؤونَ فِيمَا جُهِرَ. وَقَالَ مَالِكٌ: قَالَ رَبِيعَةُ، لِلزُّهْرِيِّ: إِذَا حَدَّثْتَ عن النبي - صلى الله عليه وسلم - فَبَيِّنْ كَلاَمَكَ مِنْ كَلاَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ. وَسَلَّمَ.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن محمد (المسندی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں لیث (بن سعد) نے حدیث بیان کی ، کہا: مجھے یونس (بن یزید الایلی) نے حدیث بیان کی ، وہ (محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ) بن شہاب (الزہری) سے روایت کرتے ہیں (انہوں نے کہا) میں نے ابن اکیمہ اللیثی کو سنا، وہ سعید بن المسیب کے سامنے حدیث بیان کر رہے تھے (ابن اکیمہ ) کہہ رہے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں قراءت جہر سے کی جاتی ہے۔ مجھے صرف یہی معلوم ہے کہ انہوں نے صبح کی نماز کا کہا تھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے۔ تو لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: کیا میرے ساتھ تم میں سے کسی نے پڑھا ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبر دار میں کہتا ہوں کہ کیوں میرے ساتھ قرآن میں منازعت کی جا رہی ہے۔ (راوی نے) کہا پس جس (نماز) میں امام جہر سے پڑھتا ہے ، لوگ (فاتحہ کے علاوہ) قراءت سے رک گئے اور جس میں امام جہر سے نہیں پڑھتا تو لوگ اپنے دل میں (فاتحہ کے علاوہ) سرا ًپڑھنے لگے۔ بخاری نے کہا: اور راوی کا قول کہ لوگ رک گئے، زہری کا کلام ہے۔ یہ بات مجھے حسن بن صباح نے بتائی ہے، کہا: ہمیں مبشر ( بن اسماعیل الحلبی) نے حدیث بیان کی ،وہ ( عبدالرحمٰن بن عمرو) الاوزاعی سے بیان کرتے ہیں کہ زہری نے کہا ، پس مسلمانوں نے اس سے نصیحت پکڑی، پھر وہ جہری نمازوں میں (سورۂ فاتحہ سے زیادہ) قراءت نہیں کرتے تھے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 71

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 72

72 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ، ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ ثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةً يجهر (1) فِيهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ: "مَنْ قَرَأَ مَعِيَ؟ "، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: "إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ"؟. _حاشية_________ (1) في طبعة مكتبة المنار: "جهر". والمثبت من طبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابوالولید (ہشام بن عبدالملک الطیالسی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں لیث (بن سعد) نے حدیث بیان کی ، وہ (محمد بن مسلم بن عبیداللہ) الزہری سے ، وہ ابن اکیمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری قراءت کی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری فرمائی (تو) کہا: میرے ساتھ کس نے پڑھا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں کہ کیوں میرے ساتھ قرآن میں منازعت کی جا رہی ہے۔

رَجُلٌ: ← "مَنْ قَرَأَ مَعِيَ؟ ← صَلَّى النَّبِيُّ صَلاَةً يجهر فِيهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ أُكيمَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← اللَّيْثُ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 72

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 73

73 - حَدَّثَنَا [23/أ] مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ ثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ عِيسَى بْنَ يُونُسَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ ثنا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اخْرُجْ فَنَادِ فِي الْمَدِينَةِ: أَلا صَلاَةَ إِلاَّ بِقُرْآنٍ وَلَوْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ".

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں اسحاق (بن راہویہ) نے حدیث بیان کی ، انہوں نے عیسیٰ بن یونس سے سنا، وہ جعفر بن میمون سے بیان کرتے ہیں ، ابوعثمان النہدی (عبدالرحمٰن بن مل) نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہر جاؤ۔ اور مدینے میں اعلان کرو کہ قرآن کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ اگرچہ (صرف) سورۂ فاتحہ ہی ہو۔ پس جو زیادہ کرے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ ← الْبُخَارِيِّ ← [20/أ] مَحْمُودُ

Hadith 73

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 74

74 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أو َالْعَصْرِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ: "أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي؟ " قَالَ الرَجُلٌ: أَنَا. قَالَ: "قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا".

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ابوالنعمان (محمد بن فضل: عارم) اور مسدد دونوں نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابوعوانہ (الوضاح بن عبداللہ) نے حدیث بیان کی ، وہ قتادہ سے ، وہ زرارہ بن اوفیٰ سے، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ظہر و عصر (کی نماز) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قراءت کی تو جب آپ نے نماز ختم کی (تو) پوچھا: میرے پیچھے کس نے پڑھا ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پتا چل گیا تھا کہ تم میں سے کوئی اسے مجھ سے چھین رہا ہے۔

"قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا". ← الرَجُلِ ← "أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي؟ ← قَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ فِي الظُّهْرِ أو َالْعَصْرِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ، وَمُسَدَّدٌ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 74

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 75

75 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ عَيَّاشٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي السَّايبِ، -رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قال: صَلَّى رَجُلٌ والنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ له النبي - صلى الله عليه وسلم -: "ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَقَامَ الرَّجُلُ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْجِعْ فَصَلِّ فإنك لم تصل -ثَلاَثًا-" قَالَ: فَحَلَفَ لَهُ، لقد اجْتَهَدْتَ فَقَالَ لَهُ: "ابْدَأْ فَكَبِّرْ وَتَحْمَدُ اللَّهَ وَتَقْرَأُ أُمِّ الْقُرْآنِ ثُمَّ تَرْكَعُ حَتَّى يَطْمَئِنَّ صُلْبُكَ ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ حَتَّى يَسْتَقِيمَ [23/ب] صُلْبُكَ، فَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ انَتقَصْتَ مِنْ صَلاَتِكَ".

ہمیں محمود(بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یحییٰ بن (عبداللہ بن) بکیر نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن سويد (بن حيان المصری) نے حدیث بیان کی۔ وہ عیاش (بن عباس القتبانی المصری) سے، وہ بکیر بن عبداللہ (بن الاشج) سے ، وہ علی بن یحییٰ (بن خلاد الزرقی) سے ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ابوالسائب ( رضی اللہ عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نماز پڑھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے۔ پھر جب اس نے نماز پوری کی (تو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تیری نماز نہیں ہوئی ہے۔ آپ نے تین دفعہ فرمایا تو آدمی کھڑا ہو گیا۔پھر جب اس نے نماز پڑھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جا ، پھر نماز پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ فرمائی۔ تو اس نے قسم اٹھا کر کہا کہ میں کس طرح کوشش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: شروع کر، پھر تکبیر کہہ اور اللہ کی حمد بیان کر اور سورۂ فاتحہ پڑھ، پھر رکوع کر حتیٰ کہ تیری پیٹھ اطمینان سے (سیدھی) ہو جائے۔ پھر اپنا سر اٹھا حتیٰ کہ تیری پیٹھ سیدھی ہو جائے۔ پس تو نے اس سے جو ناقص کیا تو تیری نماز سے وہ ناقص ہو جائے گا۔

له النبي "ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَقَامَ الرَّجُلُ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ ← صَلَّى رَجُلٌ والنَّبِيُّ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ ← أَبِي السَّايبِ، -رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَيَّاشٌ، ← عبد الله بن سويد ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 75

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 76

76 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: أَنا أَبِي، عَنْ عَمِّهِ، -وَكَانَ بَدْرِيًّا- قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا. وَقَالَ: كَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ.

ہمیں محمود(بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا ، ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابراہیم بن حمزہ نے حدیث بیان کی ، وہ حاتم بن اسماعیل سے ، وہ (محمد) ابن عجلان سے، وہ علی بن یحییٰ بن خلاد بن رافع سے بیان کرتے ہیں، کہا: مجھے میرے ابا (یحییٰ بن خلاد) نے خبر دی، وہ اپنے چچا سے جو بدری صحابی تھے ( رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ حدیث بیان کی اور کہا: تکبیر کہہ، پھر قراءت کر، پھر رکوع کر۔

كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ بِهَذَا. وَقَالَ: كَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ. ← عَمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا ← أَبِي ← عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 76

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 77

77 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ، قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سليمان، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، قال:

ہمیں محمود(بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں اسماعیل (بن عبداللہ بن عبداللہ بن اویس بن مالک ، یعنی: اسماعیل بن ابی اویس) نے حدیث بیان کی ، کہا: مجھے میرے بھائی ( ابوبکر عبدالحميد بن ابی اویس) نے حدیث بیان کی ، وہ سلیمان (بن بلال) سے ، وہ (محمد) ابن عجلان سے بیان کرتے ہیں(اور بخاری نے کہا) اور ہمیں حسن بن ربیع نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں (عبداللہ) بن ادریس نے حدیث بیان کی ، وہ (محمد) ابن عجلان سے، وہ علی بن خلاد بن السائب الانصاری سے ، وہ اپنے ابا (یحییٰ بن خلاد بن السائب) سے ،وہ اپنے ابا کے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی اور کہا : تکبیر (اللہ اکبر) کہہ، پھر قراءت کر، پھر رکوع کر۔

ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← أَخِي ← إِسْمَاعِيلُ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 77

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 78

78 - وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عِنْ عَلِيِّ بْنِ خَلاَّدِ بْنِ السَّايبِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ قَالَ: قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بهذا وقال: "كَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ".

عَمِّ أَبِيهِ ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ خَلاَّدِ بْنِ السَّايبِ الأَنْصَارِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Hadith 78

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 79

79 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ: ثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ ثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى -مِنْ آلِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ- (1)، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ". _حاشية_________ (1) تصرف محقق طبعة دار الصميعي في النص فجعله: "عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى -مِنْ آلِ رِفَاعَةَ- عن (رفاعة) بْنِ رَافِعٍ". والمثبت هو الصواب، كما في طبعتي مكتبة المنار، ومكتبة الإمام البخاري. فرفاعة بن رافع هو عم أبي علي بن يحيى، وقد أخرج الحديث بإسناد البخاري، النسوي في "الأربعين" (24)، والبيهقي في "السنن الكبير (4002).

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں قتیبہ (بن سعید) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں لیث (بن سعد) نے حدیث بیان کی ، وہ (محمد) ابن عجلان سے، وہ آل رفاعہ بن رافع میں سے علی بن یحییٰ سے، وہ اپنے ابا (یحییٰ بن خلاد) سے وہ اپنے بدری چچا سے بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے اسے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر کہہ، پھر قراءت کر ، پھر رکوع کر۔

عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، مِنْ آلِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 79

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 80

80 - قَالَ الْبُخَارِيُّ رَوَى هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: "أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [24/أ] أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ" وَلَمْ يَذْكُرْ قَتَادَةُ سَمَاعًا مِنْ أَبِي نَضْرَةَ فِي هَذَا.

(امام) بخاری نے کہا: ہمام ( بن یحییٰ) نے قتادہ (بن دعامہ) سے، انہوں نے ابونضرہ (منذر بن مالک) سے ، وہ ابوسعید (سعد بن مالک الخدری) رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ:’’ ہمیں نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے سورۂ فاتحہ اور جو میسر ہو پڑھنے کا حکم دیا‘‘ قتادہ نے اس روایت میں ابونضرہ سے سماع کی تصریح نہیں کی ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← الْبُخَارِيُّ رَوَى هَمَّامٌ،

Hadith 80

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 81

81 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ: ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْعَوَّامِ بْنِ حَمْزَةَ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الإِمَامِ فَقَالَ: "بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَهَذَا أَوْصَلُ.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں مسدد (بن مسرہد) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید (القطان) نے حدیث بیان کی ، وہ عوام بن حمزہ المازنی سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہمیں ابونضره (منذر بن مالک) نے حدیث بیان کی ، کہا: میں نے ابوسعید الخدری ( رضی اللہ عنہ) سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے۔

الْبُخَارِيُّ: وَهَذَا أَوْصَلُ. ← القراءة خلف الإمام، فقال: بفاتحة الكتاب ← سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَمْزَةَ الْمَازِنِيُّ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 81

chevron_left Previous
1…111213…26
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter