Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 674

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَآَنِ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالْوُضُوءُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ وَكُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا

حضرت ابومالک اشعری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں طہارت نصف ایمان ہے اور الحمدللہ میزان یعنی نیکیوں کے پلڑے کو بھر دیتا ہے اور لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنا آسمان اور زمین میں موجود خلا کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ برہان ہے وضو روشنی ہے قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر شخص روزانہ اپنے نفس کا سودا کرتا ہے یا تو وہ اپنے آپ کو شیطان سے آزاد کروا لیتا ہے یا ہلاکت کا شکار کردیتا ہے۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زيد1 ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 674

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 675

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَقَدَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ قَالَ عَقَدَهُنَّ فِي يَدِهِ وَيَدُهُ فِي يَدِي سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ

جرمی نہدی بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا، راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا اور آپ کا دست اقدس میرے ہاتھ میں تھا وہ باتیں یہ تھیں۔ سبحان اللہ پڑھنا نصف میزان کے برابر ہے اور الحمدللہ پڑھنا میزان کے نیکیوں کے پلڑے کو بھر دیتا ہے اللہ اکبر کہنا آسمان اور زمین کے خلا کو بھردیتا ہے۔ وضو نصف ایمان اور روزہ نصف صبر ہے۔

عَقَدَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ فِي يَدِي أَوْ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 675

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 676

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَقَالَ الْآخَرُ إِنَّ مِنْ خَيْرِ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةَ وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ

حضرت ثوبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سیدھے رہو، حالانکہ تم لوگ مکمل طور پر سیدھے نہیں رہ سکتے، یہ جان لو کہ تمہارا سب سے بہتر عمل نماز پڑھنا ہے ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں تمہارے بہترین اعمال نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ اور حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں صرف مومن وضو کی حفاظت کرتا ہے۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 676

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 677

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ قَالَ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ

حضرت ثوبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں درست راستہ اختیار کرو ایک دوسرے کے قریب رہو تمہارا سب سے بہتر عمل نماز پڑھنا ہے اور صرف مومن ہی وضو کی حفاظت کرسکتا ہے۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 677

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 678

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ سَعْدًا كَانَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَأَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ الْآيَةَ

عکرمہ بیان کرتے ہیں حضرت سعد تمام نمازیں ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کرلیا کرتے تھے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت از سر نو وضو کیا کرتے تھے اور اپنے اس عمل کی تائید میں قرآن کی یہ آیت پڑھا کرتے تھے "جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنے چہروں اور بازوؤں کو دھو لو"۔

مَسْعُودِ بْنِ عَلِيٍّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 678

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 679

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ تَوَضُّؤَ ابْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّ ذَلِكَ قَالَ حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ أُمِرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَى أَنَّ بِهِ عَلَى ذَلِكَ قُوَّةً فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ

محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ سے دریافت کیا آپ کے علم کے مطابق کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت از سر نو وضو کرتے تھے خواہ وہ پہلے سے باوضو ہوں یا نہ ہوں۔ عام طور پر ایسا ہی ہوتا تھا تو انہوں نے جواب دیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو اسماء بنت زید بن خطاب نے یہ بات بتائی تھی کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے انہیں یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت وضو کرنے کا حکم دیا ہے خواہ وہ انسان باوضو ہو یا بے وضو ان میں یہ صلاحیت ہے کہ ہر وہ نماز کے وقت وضو کرلیا کریں۔ اسی لئے وہ کسی بھی نماز کے وقت وضوترک نہیں کرتے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 679

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 680

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ إِنِّي عَمْدًا صَنَعْتُ يَا عُمَرُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد فَدَلَّ فِعْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ الْآيَةَ لِكُلِّ مُحْدِثٍ لَيْسَ لِلطَّاهِرِ وَمِنْهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

ابن بریدہ بیان اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لئے از سر نو وضو کیا کرتے تھے یہاں تک کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کیں۔ اور اس دن آپ نے موزوں پر مسح کیا حضرت عمر نے آپ کی خدمت میں عرض کی آج میں نے آپ کو ایسا عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اے عمر میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ کے اس فرمان کا تعلق بے وضو شخص کے ساتھ ہے با وضو شخص کے ساتھ نہیں اللہ کا فرمان ہے" جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنے چہرے دھو لیا کرو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ وضو ٹوٹنے پر ہی لازم ہوتا ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 680

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 681

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى الْحَاجَةِ أَبْعَدَ

حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں ایک سفر میں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو دورچلے جاتے۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 681

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 682

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ تَبَاعَدَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هُوَ الْأَدَبُ

حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کرنا ہوتی تو آپ دور چلے جاتے۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ آداب کا حصہ ہے۔

أَبُو مُحَمَّد هُوَ الْأَدَبُ ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا تَبَرَّزَ تَبَاعَدَ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 682

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 683

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ مَنْ أَكَلَ فَلْيَتَخَلَّلْ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبَ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَتَلَاعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سرمہ ڈالے اسے طاق عدد میں ڈالنا چاہیے جو ایسا کرے گا وہ اچھا کرے گا اور جو نہ کرے اس میں کوئی حرج نہیں جو شخص استنجا کرتے وقت پتھر استعمال کرے وہ طاق تعداد میں کرے جو ایسا کرے گا وہ اچھا کرے گا جو ایسا نہیں کرے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں جو شخص کچھ کھا لے اسے خلال کرنا چاہیے خلال کے ذریعے جو نکلے اسے تھوک دے جو زبان کے ذریعے باہر آئے اسے نگل لے۔ جو ایسا کرے گا وہ اچھا کرے گا لیکن جو نہیں کرتا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جو شخص قضائے حاجت کے لئے آئے اسے پردہ کرلینا چاہیے اگر اسے صرف ریت کا ٹیلہ ہی میسر ہو تو اسی کی طرف پیٹھ کرلے کیونکہ شیاطین اولاد آدم کے مقاعد یعنی سیرین کے ساتھ کھیلتے ہیں جو شخص ایسا کرے گا تو وہ اچھا کرے گا اور جو ایسا نہیں کرے گا تو یہ بہتر ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْرُ ← حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 683

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 684

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ

حضرت عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے وقت ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ کی اوٹ میں ہونا پسند کرتے تھے۔

كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيٌّ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 684

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 685

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا

حضرت سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اہل مکہ کی طرف میرے نمائندے ہو تم انہیں بتانا کہ اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو سلام بھیجا ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ جب تم قضائے حاجت کرنے لگو تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ پھیر کر نہ کرو۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← الْوَلِيدِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 685

chevron_left Previous
1…565758…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door