Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 446

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ قَالَ كَانَ طَاوُسٌ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ اتْرُكْهُمَا قَالَ إِنَّمَا نُهِيَ عَنْهَا أَنْ تُتَّخَذُ سُلَّمًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَلَا أَدْرِي أَتُعَذَّبُ عَلَيْهَا أَمْ تُؤْجَرُ لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ قَالَ سُفْيَانُ تُتَّخَذَ سُلَّمًا يَقُولُ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ

ہشام بیان کرتے ہیں طاؤس عصر کے بعد دو رکعت ادا کیا کرتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا انہیں پڑھناچھوڑ دو۔ طاؤس نے عرض کی کہ ان سے اس لئے منع کیا گیا کہ انہیں سیڑھی کے طور پر نہ پڑھا جائے۔ ابن عباس نے ارشاد فرمایا عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے مجھے نہیں پتاکہ تمہیں ان نوافل کے پڑھنے پر عذاب دیا جائے گا یا اجر ملے گا کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کسی بھی مومن مرد یا عورت کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بھی معاملے میں فیصلہ دے دیں تو انہیں اپنے کسی معاملے میں کسی قسم کا کوئی اختیار ہو اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی کا شکار ہوجائے گا۔ ۔ سفیان بیان کرتے ہیں سیڑھی کے طور پر استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک مسلسل نوافل ادا کئے جائیں۔

إِنَّمَا نُهِيَ عَنْهَا ← لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ اتْرُكْهُمَا. ← كان طاوس يصلي ركعتين بعد العصر ← هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 446

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 447

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَةٍ مِنْ التَّوْرَاةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ نُسْخَةٌ مِنْ التَّوْرَاةِ فَسَكَتَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ يَتَغَيَّرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ مَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ بَدَا لَكُمْ مُوسَى فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِي لَاتَّبَعَنِي

حضرت جابر بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول یہ تورات کا ایک نسخہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حضرت عمر نے اسے پڑھنا شروع کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہونے لگا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں عورتیں روئیں کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ نہیں رہے؟ حضرت عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو عرض کی میں اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہم اللہ کے پروردگار ہونے اسلام کے دین حق ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اب اگر موسی تمہارے سامنے آجائیں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو تو تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے اور اگر آج موسی زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پالیتے تو وہ بھی میری پیروی کرتے۔

جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ بِنُسْخَةٍ مِنْ التَّوْرَاةِ فَقَالَ ← عَامِرٍ، ← مجالد ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 447

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 448

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي رَبَاحٍ شَيْخٌ مِنْ آلِ عُمَرَ قَالَ رَأَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ الرَّكْعَتَيْنِ يُكْثِرُ فَقَالَ لَهُ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَيُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا وَلَكِنْ يُعَذِّبُكَ اللَّهُ بِخِلَافِ السُّنَّةِ

حضرت عمر کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ابورباح نامی ایک بزرگ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ سعید بن مسیب نے ایک شخص کو عصر کے بعد نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو اسے منع کیا۔ اس شخص نے ان سے دریافت کیا اے ابومحمد کیا اللہ مجھے نماز پڑھنے پر عذاب دے گا تو سعید بن مسیب نے جواب دیا نہیں بلکہ اللہ تمہیں سنت کی خلاف ورزی کرنے پر عذاب دے گا۔

لَا وَلَكِنْ يُعَذِّبُكَ اللَّهُ بِخِلَافِ السُّنَّةِ ← يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَيُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَى الصَّلَاةِ ← لَهُ: ← رَأَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ الرَّكْعَتَيْنِ يُكْثِرُ ← أَبِي رَبَاحٍ شَيْخٌ مِنْ آلِ عُمَرَ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 448

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 449

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ الْعَجْلَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَقَالَ لَهُ فَتًى قَدْ سَمَّاهُ وَهُوَ فِي حُلَّةٍ لَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَهَكَذَا كَانَ يَمْشِي ذَلِكَ الْفَتَى الَّذِي خُسِفَ بِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَعَثَرَ عَثْرَةً كَادَ يَتَكَسَّرُ مِنْهَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لِلْمَنْخَرَيْنِ وَلِلْفَمِ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ایک مرتبہ ایک شخص اپنی دو چادروں پر اتراتے ہوئے چل رہا تھا تو اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین دھنستا رہے گا حاضرین میں ایک نوجوان نے جس کا نام راوی نے بیان کیا تھا اسی قسم کا کپڑا پہنا ہوا تھا وہ بولا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا وہ نوجوان اس طرح چل رہا تھا جسے زمین میں دھنسایا گیا پھر اس نوجوان نے اپنے ہاتھ کو جھٹکا تو وہ گرگیا اور قریب تھا کہ اس کی کوئی چیز ٹوٹ جاتی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے نتھنوں اور منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ارشاد بانی " بے شک مذاق اڑانے والوں کے لئے تمہاری طرف سے ہم کافی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← العجلان ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 449

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 450

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ خِرَاشِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَتًى يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ شَيْخٌ لَا تَخْذِفْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَذْفِ فَغَفَلَ الْفَتَى وَظَنَّ أَنَّ الشَّيْخَ لَا يَفْطِنُ لَهُ فَخَذَفَ فَقَالَ لَهُ الشَّيْخُ أُحَدِّثُكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ الْخَذْفِ ثُمَّ تَخْذِفُ وَاللَّهِ لَا أَشْهَدُ لَكَ جَنَازَةً وَلَا أَعُودُكَ فِي مَرَضٍ وَلَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا فَقُلْتُ لِصَاحِبٍ لِي يُقَالُ لَهُ مُهَاجِرٌ انْطَلِقْ إِلَى خِرَاشٍ فَاسْأَلْهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَحَدَّثَهُ

خراش بن جبیر بیان کرتے ہیں میں نے مسجد میں ایک نوجوان کو دیکھا جو کنکریوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ایک بزرگ نے اس سے کہا کنکریوں کے ساتھ نہ کھیلو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کنکریوں سے کھیلنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے وہ نوجوان اپنے عمل میں مصروف رہا اس نے یہ سمجھا کہ شاید وہ بزرگ اس کا جائزہ نہیں لے رہا اور ویسے یہ کنکریوں سے کھیلتا رہا۔ اس بزرگ نے اس سے کہا میں نے تمہیں حدیث بیان کی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کنکریوں سے کھیلنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور تم پھر ان کے ساتھ کھیل رہے ہو اللہ کی قسم اب میں تمہارے جنازے میں بھی شریک نہ ہوں گا اور کبھی بیماری کے دوران تمہاری عیادت کے لئے بھی نہیں آؤں گا اور تم سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گا۔ زبیر نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے اپنے ساتھی جس کا نام مہاجر تھا سے کہا چلو خراش کی طرف چلتے ہیں اور ان سے اس بارے میں دریافت کرتے ہیں پھر وہ ان کے پاس آئے اور اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ بات سنائی۔

رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← لَهُ الشَّيْخُ أُحَدِّثُكَ أَنِّي ← الْخَذْفِ فَغَفَلَ الْفَتَى وَظَنَّ أَنَّ الشَّيْخَ لَا يَفْطِنُ لَهُ فَخَذَفَ ← رَسُولَ اللهِ نَهَى ← لَهُ شَيْخٌ لَا تَخْذِفْ فَإِنِّي ← رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَتًى يَخْذِفُ ← خِرَاشِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الزبير بن عدي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← هَارُونَ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 450

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 451

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَذْفِ وَقَالَ إِنَّهَا لَا تَصْطَادُ صَيْدًا وَلَا تَنْكِي عَدُوًّا وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ فَرَفَعَ رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعِيدٍ قَرَابَةٌ شَيْئًا مِنْ الْأَرْضِ فَقَالَ هَذِهِ وَمَا تَكُونُ هَذِهِ فَقَالَ سَعِيدٌ أَلَا أُرَانِي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَهَاوَنُ بِهِ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا

حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں سے کھیلنے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے تم کسی چیز کو شکار نہیں کرسکتے اور دشمن کو قتل نہیں کرسکتے یہ صرف دانت توڑ سکتی ہے اور آنکھ پھوڑ سکتی ہے۔

الْخَذْفِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 451

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 452

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ فَقَالَ لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ الْخَذْفِ وَكَانَ يَكْرَهُهُ وَإِنَّهُ لَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ وَلَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ أَلَمْ أُخْبِرْكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْهُ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا

عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مغفل نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکری کے ذریعے کھیلتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا تم ایسا نہ کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری سے کھیلنے سے منع کیا ہے یا اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا اس کے ذریعے دشمن کو مارا نہیں جاسکتا کسی چیز کو شکار نہیں کیا جاسکتا اس کے ذریعے صرف آنکھ کو پھوڑا جاسکتا ہے اور دانت کو توڑا جاسکتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مغفل نے پھر اس نوجوان کو کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو اس سے کہا میں نے تمہیں بتایا نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے میں تمہیں دیکھ رہاہوں کہ تم پھر اس کے ساتھ کھیل رہے ہو اللہ کی قسم میں اب تمہارے ساتھ کبھی بھی بات نہیں کروں گا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 452

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 453

أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ ابْنُ سِيرِينَ رَجُلًا بِحَدِيثٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ أُحَدِّثُكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ قَالَ فُلَانٌ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا

قتادہ بیان کرتے ہیں ابن سیرین نے ایک شخص کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی وہ شخص بولا فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ ابن سیرین نے کہا میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ آئندہ میں کبھی تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کروں گا۔

فُلَانٌ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا ← النَّبِيِّ وَتَقُولُ ← فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ أُحَدِّثُكَ ← النَّبِيِّ فَقَالَ رَجُلٌ ← حَدَّثَ ابْنُ سِيرِينَ رَجُلًا بِحَدِيثٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 453

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 454

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمْ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا فَقَالَ فُلَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِذًا وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ فَشَتَمَهُ شَتِيمَةً لَمْ أَرَهُ يَشْتِمُهَا أَحَدًا قَبْلَهُ قَطُّ ثُمَّ قَالَ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ إِذًا وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی کی بیوی مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ کے فلاں صاحبزادے کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کی قسم میں تو اپنی بیوی کو ضرور منع کروں گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے وہ گالی دی جو میں نے انہیں کبھی کسی اور کو دیتے ہوئے نہیں سنا اور پھر بولے میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو اللہ کی قسم میں تو روکوں گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 454

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 455

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ مَعْرُوفٍ عَنْ أَبِي الْمُخَارِقِ قَالَ ذَكَرَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ فَقَالَ فُلَانٌ مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ عُبَادَةُ أَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ لَا أَرَى بِهِ بَأْسًا وَاللَّهِ لَا يُظِلُّنِي وَإِيَّاكَ سَقْفٌ أَبَدًا

ابومخارق بیان کرتے ہیں حضرت عبادہ بن صامت نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درہم کے عوض میں دو درہموں کے لین دین سے منع کیا ہے تو ایک شخص نے میرے خیال میں اگر یہ دست بدست لین دین ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے حضرت عبادہ نے ارشاد فرمایا یہ میں نے بیان نہیں کیا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اور تم یہ کہہ رہے ہو کہ میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے اللہ کی قسم آج کے بعد میں اور تم کبھی ایک چھت کے نیچے اکٹھے نہیں ہوں گے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْمُخَارِقِ ← مَعْرُوفٍ ← هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 455

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 456

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَنْ زَمْعَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا قَالَ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا فَانْسَاقَ رَجُلَانِ إِلَى أَهْلَيْهِمَا فَكِلَاهُمَا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سفر سے واپسی پر شہر پہنچنے پر جب رات ہوجائے تو رات کے وقت کوئی اپنی بیوی کے پاس نہ جائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قافلے کی شکل میں کسی سفر سے تشریف لائے تھے۔ دولوگ اپنے گھرچلے گئے تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی کے ساتھ ایک شخص کو پایا۔

لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 456

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 457

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ الْمُعَرَّسَ ثُمَّ قَالَ لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا فَخَرَجَ رَجُلَانِ مِمَّنْ سَمِعَ مَقَالَتَهُ فَطَرَقَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو رات کے وقت پڑاؤ کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہ جائے جن لوگوں نے آپ کی بات سنی تھی ان میں دو صاحبان نکلے اور اپنے گھرچلے گئے تو ان دونوں میں ہر ایک نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا۔

مَقَالَتَهُ فَطَرَقَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ← لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا فَخَرَجَ رَجُلَانِ مِمَّنْ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ الْمُعَرَّسَ ثُمَّ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 457

chevron_left Previous
1…373839…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door