Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 386

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ الرَّجُلَ يَنْسَى الْعِلْمَ كَانَ يَعْلَمُهُ لِلْخَطِيئَةِ كَانَ يَعْمَلُهَا

قاسم بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا میں یہ سمجھتا ہوں کہ آدمی علم اس وقت بھولتا ہے جب وہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ الرَّجُلَ يَنْسَى الْعِلْمَ كَانَ يَعْلَمُهُ لِلْخَطِيئَةِ كَانَ يَعْمَلُهَا ← الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← يعلى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 386

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 387

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِتُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ تُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ وَلَا تَتْرُكْ الْعِلْمَ زُهْدًا فِيهِ وَرَغْبَةً فِي الْجَهَالَةِ يَا بُنَيَّ اخْتَرْ الْمَجَالِسَ عَلَى عَيْنِكَ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَاجْلِسْ مَعَهُمْ فَإِنَّكَ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا يُعَلِّمُوكَ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ فَيُصِيبَكَ بِهَا مَعَهُمْ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَلَا تَجْلِسْ مَعَهُمْ فَإِنَّكَ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا لَا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا زَادُوكَ غَيًّا وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِعَذَابٍ فَيُصِيبَكَ مَعَهُمْ

حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں مجھے یہ پتا چلا ہے کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے یہ کہا تھا اے میرے بیٹے علم اس لئے حاصل نہ کرنا تاکہ اس کے ذریعے علماء کے ساتھ مقابلہ کر سکو یا بیوقوف لوگوں کے ساتھ بحث کرسکو یا اس کے ذریعے محافل میں اپنا آپ دکھا سکو اور اس علم سے بے رغبت ہو کر جہالت کی طرف راغب ہوتے ہوئے علم کو چھوڑ نہ دینا۔ اے میرے بیٹے محافل کا جائزہ لیتے رہنا جب تم کسی ایسی قوم کو دیکھو جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جانا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں فائدہ دے گا اور اگر تم جاہل ہو گے تو وہ لوگ تمہیں تعلیم دیں گے ہوسکتا ہے کہ اللہ کی رحمت ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو اور اس میں سے کچھ حصہ تمہیں بھی نصیب ہوجائے۔ اسی طرح اگر تم کچھ لوگوں کو دیکھو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کر رہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں وہاں کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اگر تم جاہل ہوگے تو وہ لوگ تمہاری جہالت میں مزید اضافہ کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ اللہ کا عذاب ان کی طرف متوجہ ہوجائے اور اس کے ساتھ وہ تمہیں بھی پہنچ جائے۔

بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 387

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 388

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ قَالَ لَا تُحَدِّثْ الْبَاطِلَ الْحُكَمَاءَ فَيَمْقُتُوكَ وَلَا تُحَدِّثْ الْحِكْمَةَ لِلسُّفَهَاءِ فَيُكَذِّبُوكَ وَلَا تَمْنَعْ الْعِلْمَ أَهْلَهُ فَتَأْثَمَ وَلَا تَضَعْهُ فِي غَيْرِ أَهْلِهِ فَتُجَهَّلَ إِنَّ عَلَيْكَ فِي عِلْمِكَ حَقًّا كَمَا أَنَّ عَلَيْكَ فِي مَالِكَ حَقًّا

کثیر بن مرہ ارشاد فرماتے ہیں باطل بات عقل مند لوگوں کے سامنے بیان مت کرنا ورنہ وہ تمہیں شرمندہ کردیں گے اور حکمت کی بات بیوقوف لوگوں کے سامنے بیان مت کرنا وہ تمہیں جھٹلا دیں گے اور جو شخص علم کا اہل ہو اس سے علم کو روکنا ورنہ تم گناہ گار ہوجاؤ گے اور نا اہل شخص کے سپرد علم نہ کرنا ورنہ تمہیں جاہل قرار دیا جائے گا تمہارے علم کا تم پر حق ہے جیسے تمہارے مال کا تم پر حق ہے۔

كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ ← حَرِيزٌ ← إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 388

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 389

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ أَنَّ أَبَا فَرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَانَ يَقُولُ لَا تَمْنَعْ الْعِلْمَ مِنْ أَهْلِهِ فَتَأْثَمَ وَلَا تَنْشُرْهُ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ فَتُجَهَّلَ وَكُنْ طَبِيبًا رَفِيقًا يَضَعُ دَوَاءَهُ حَيْثُ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَنْفَعُ

ابوفروہ بیان کرتے ہیں حضرت عیسی بن مریم ارشاد فرماتے ہیں علم کو اس کے اہل سے نہ روکو ورنہ تم گناہ گار ہوگے اور نا اہل کے سامنے اسے نہ پھیلاؤ ورنہ تمہیں جاہل قرار دیا جائے گا تم ایسے مہربان طبیب بن جاؤ جو دوا کو وہیں رکھتا ہے جہاں اسے پتا ہو کہ وہ دوا فائدہ دے گی۔

أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَانَ ← مُعَاوِيَةُ أَنَّ أَبَا فَرْوَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 389

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 390

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ لَا تُطْعِمْ طَعَامَكَ مَنْ لَا يَشْتَهِيهِ

مطرف بیان کرتے ہیں تم اپنا کھانا ایسے شخص کو نہ کھلاؤ جسے اس کی خواہش نہ ہو۔

لَا تُطْعِمْ طَعَامَكَ مَنْ لَا يَشْتَهِيهِ ← مُطَرِّفٍ ← غَيْلَانَ ← مَهْدِيٌّ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 390

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 391

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ يَقُولُ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ وَلَا تَتْرُكْ الْعِلْمَ زَهَادَةً فِيهِ وَرَغْبَةً فِي الْجَهَالَةِ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَاجْلِسْ مَعَهُمْ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا عَلَّمُوكَ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ فَيُصِيبَكَ بِهَا مَعَهُمْ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَلَا تَجْلِسْ مَعَهُمْ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا لَمْ يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا زَادُوكَ غَيًّا أَوْ عِيًّا وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِسَخَطٍ فَيُصِيبَكَ بِهِ مَعَهُمْ

حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں مجھے یہ پتا چلا ہے کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے یہ کہا تھا اے میرے بیٹے علم اس لئے حاصل نہ کرنا تاکہ اس کے ذریعے علماء کے ساتھ مقابلہ کر سکو یا بیوقوف لوگوں کے ساتھ بحث کر سکو یا اس کے ذریعے محافل میں اپنا آپ دکھا سکو اور اس علم سے بے رغبت ہو کر جہالت کی طرف راغب ہوتے ہوئے علم کو چھوڑ نہ دینا۔ اے میرے بیٹے محافل کا جائزہ لیتے رہنا جب تم کسی ایسی قوم کو دیکھو جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جانا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں فائدہ دے گا اور اگر تم جاہل ہو گے تو وہ لوگ تمہیں تعلیم دیں گے ہوسکتا ہے کہ اللہ کی رحمت ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو اور اس میں سے کچھ حصہ تمہیں بھی نصیب ہوجائے۔ اسی طرح اگر تم کچھ لوگوں کو دیکھو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کر رہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں وہاں کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اگر تم جاہل ہوگے تو وہ لوگ تمہاری جہالت میں مزید اضافہ کریں گے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب ان کی طرف متوجہ ہوجائے اور اس کے ساتھ وہ تمہیں بھی پہنچ جائے۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 391

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 392

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ثُوَيْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ يَا حَمَلَةَ الْعِلْمِ اعْمَلُوا بِهِ فَإِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَوَافَقَ عِلْمُهُ عَمَلَهُ وَسَيَكُونُ أَقْوَامٌ يَحْمِلُونَ الْعِلْمَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يُخَالِفُ عَمَلُهُمْ عِلْمَهُمْ وَتُخَالِفُ سَرِيرَتُهُمْ عَلَانِيَتَهُمْ يَجْلِسُونَ حِلَقًا فَيُبَاهِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَغْضَبُ عَلَى جَلِيسِهِ أَنْ يَجْلِسَ إِلَى غَيْرِهِ وَيَدَعَهُ أُولَئِكَ لَا تَصْعَدُ أَعْمَالُهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ تِلْكَ إِلَى اللَّهِ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں اے علم حاصل کرنے والو اس پر عمل کرو کیونکہ جو عالم اپنے حاصل کئے ہوئے علم پر عمل کرتا ہے تو اس کا علم اس کے عمل کے مطابق ہوجاتا ہے۔ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو علم حاصل کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ ان کا عمل ان کے علم کے مخالف ہوگا تم خفیہ اور اعلانیہ ہر حالت میں ان سے علیحدہ رہنا وہ دوحلقے بنا کر بیٹھیں گے جن میں سے وہ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے یہاں تک کہ ایک شخص اپنے ہم نشین سے اس بات پر ناراض ہوجائے گا اور اسے چھوڑ دے گا کہ وہ دوسرے شخص کے ساتھ جا کر کیوں بیٹھا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اس طرح کی محافل میں کئے گئے افعال اللہ کی بارگاہ میں نہیں پہنچیں گے۔

عَلِيٍّ، ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← ثُوَيْرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 392

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 393

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا أَنْ يَخْشَى اللَّهَ وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ يُعْجَبَ بِعِلْمِهِ

مسروق بیان کرتے ہیں آدمی کے عالم ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہو اور آدمی کے جاہل ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے علم پر غرور کرتا ہو۔

كَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا أَنْ يَخْشَى اللَّهَ وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ يُعْجَبَ بِعِلْمِهِ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 393

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 394

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُجَيْرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَدْنَى هَذِهِ الْأُمَّةِ عِلْمًا أَخَذَتْ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ بِعِلْمِهِ لَرَشَدَتْ تِلْكَ الْأُمَّةُ

معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں اس امت میں جو سب سے کم تر علم ہے اگر دوسری امتوں میں سے کوئی امت اسے ہی حاصل کرلیتی تو وہ امت ہدایت پا جاتی۔

مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُجَيْرٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 394

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 395

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُصِيبُ الْبَابَ مِنْ الْعِلْمِ فَيَعْمَلُ بِهِ فَيَكُونُ خَيْرًا لَهُ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا لَوْ كَانَتْ لَهُ فَجَعَلَهَا فِي الْآخِرَةِ

حضرت حسن بصری ارشاد فرماتے ہیں ایک شخص علم کے دروازے تک پہنچنا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو یہ اس کے لئے دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے کہ جو اسے مل جائے تو وہ انہیں آخرت کے لئے استعمال کرتا۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 395

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 396

قَالَقَالَ الْحَسَنُ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَبَ الْعِلْمَ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ يُرَى ذَلِكَ فِي بَصَرِهِ وَتَخَشُّعِهِ وَلِسَانِهِ وَيَدِهِ وَصِلَتِهِ وَزُهْدِهِ

حضرت حسن فرماتے ہیں جو شخص علم حاصل کرنا شروع کرتا ہے اس کا اثر اس کی نگاہوں میں اس کی خشیت میں اس کی زبان میں اس کے ہاتھوں میں اس کی نماز میں اور اس کی پرہیزگاری میں نظر آتا ہے ۔

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 396

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 397

قَالَ و قَالَ مُحَمَّدٌ انْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ هَذَا الْحَدِيثَ فَإِنَّمَا هُوَ دِينُكُمْ

امام محمد ارشاد فرماتے ہیں تم جس شخص سے حدیث حاصل کر رہے ہو اس کا جائزہ لے لیا کرو کیونکہ یہ حدیث تمہارے دین کے احکام کا ماخذ ہے۔

مُحَمَّدٌ انْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ هَذَا الْحَدِيثَ فَإِنَّمَا هُوَ دِينُكُمْ ← و،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 397

chevron_left Previous
1…323334…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door