Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 350

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلَيْنِ كَانَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَحَدُهُمَا كَانَ عَالِمًا يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَالْآخَرُ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ أَيُّهُمَا أَفْضَلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ هَذَا الْعَالِمِ الَّذِي يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ عَلَى الْعَابِدِ الَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ رَجُلًا

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ایسے افراد کے بارے میں سوال کیا گیا جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا ان میں ایک شخص عالم تھا وہ فرض نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتا اور لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا تھا جبکہ دوسرا شخص دن کے وقت روزہ رکھتا تھا اور رات کے وقت نوافل ادا کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ان دونوں میں سے کون سا شخص افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا یہ عالم جو فرض نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے یہ اس کے عابد جو دن بھر روزہ رکھتا ہے اور رات کو نوافل ادا کرتا ہے اسی طرح فضیلت رکھتا ہے جیسے تم میں سے کسی ادنی شخص پر فضیلت رکھتا ہوں۔

سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← الْحَسَنِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 350

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 351

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا سُمَيْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُصُّ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَذْكُرُ الْعِلْمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَمَيَّلْتُ إِلَى أَيِّهِمَا أَجْلِسُ فَنَعَسْتُ فَأَتَانِي آتٍ فَقَالَ مَيَّلْتَ إِلَى أَيِّهِمَا تَجْلِسُ إِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مَكَانَ جِبْرَائِيلَ مِنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

ابن سیرین بیان کرتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا وہاں سمیر بن عبدالرحمن وعظ کر رہے تھے جبکہ حمید بن عبدالرحمن مسجد کے ایک کونے میں علم کا درس دے رہے تھے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوگیا کہ میں ان دونوں میں سے کسی کی محفل میں بیٹھوں اسی دوران اونگھ آگئی اور میرے خواب میں آ کے کسی شخص نے کہا تم اس بارے میں الجھن کا شکار ہو کہ کس کی مجلس میں بیٹھوں۔ اگر تم چاہو تو میں حمید بن عبدالرحمن کی مجلس میں حضرت جبرائیل کے بیٹھنے کی جگہ تمہیں دکھا سکتا ہوں۔

دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا سُمَيْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُصُّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 351

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 352

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ الْمَدِينَةِ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ قَالَ لَا قَالَ وَلَا جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ قَالَ لَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ النُّجُومِ إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظِّهِ أَوْ بِحَظٍّ وَافِرٍ

کثیر بن قیس فرماتے ہیں میں حضرت ابودرداء کے ساتھ مسجد دمشق میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا اے حضرت ابودرداء میں مدینہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر ہے اور ایک حدیث کے سلسلے میں آیا ہوں جس کے بارے میں مجھے پتا چلا ہے کہ وہ آپ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں حضرت ابودرداء نے دریافت کیا کیا تم تجارت کی غرض سے یہاں آئے ہو۔ اس نے جواب دیا نہیں حضرت ابودرداء نے دریافت کیا کیا اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے تحت آئے ہو اس نے جواب دیا نہیں حضرت ابودرداء میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص علم کے حصول کے لئے راستے پر چلتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص کے لئے جنت کے راستے آسان کر دیتا ہے اور علم کے طلبگار سے راضی ہو کر فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں اور بے شک عالم شخص کو عبادت گزار آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز یہاں تک کہ پانی میں موجود مچھلیاں بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں اور بے شک عالم کی فضیلت عبادت گزار پر وہی فضیلت ہے جو چاند کو تمام ستاروں پر حاصل ہے۔ بے شک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں۔ بے شک انبیاء وراثت میں دینار یا درہم نہیں چھوڑتے وہ وراثت میں علم چھوڑتے ہیں جو اس میں سے جتنا حاصل کرے وہ اپنا حصہ حاصل کرلیتا ہے ۔ (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) وہ بڑا حصہ حاصل کرلیتا ہے ۔

كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ← دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ، ← عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 352

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 353

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بھلائی کی تعلیم دینے والے شخص کے لئے ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں۔

مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 353

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 354

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص علم کی طلب کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس کے لئے جنت کے راستے کو آسان کردیتا ہے اور جس شخص کا عمل کمزور ہو اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 354

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 355

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ عَنْ يَعْقُوبَ هُوَ الْقُّمِّيُّ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا سَلَكَ رَجُلٌ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ الْعِلْمَ إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَنْ يُبْطِئْ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ اس کی وجہ سے اس شخص کے لئے جنت کو آسان کردیتا ہے اور جس شخص کا علم اسے آہستہ کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ← يَعْقُوبُ هُوَ الْقُمِّيُّ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 355

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 356

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ عَنْ مُطَرِّفٍ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ قَالَ هَلْ مِنْ طَالِبِ خَيْرٍ فَيُعَانَ عَلَيْهِ

مطرف ارشاد فرماتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ کیا کوئی بھلائی کا طلب گار ہے تاکہ اس کی مدد کی جائے۔

هَلْ مِنْ طَالِبِ خَيْرٍ فَيُعَانَ عَلَيْهِ ← مُطَرِّفٍ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 356

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 357

و أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ عَنْ ضَمْرَةَ قَالَ طَالِبُ عِلْمٍ

ضمرہ ارشاد فرماتے ہیں اس سے مراد طالب علم ہے۔

طَالِبُ عِلْمٍ ← ضَمْرَةُ ← مَرْوَانَ ← و،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 357

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 358

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ هُوَ الْقُمِّيُّ عَنْ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِذَا رَأَى طَلَبَةَ الْعِلْمِ قَالَ مَرْحَبًا بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بِكُمْ

عامر بن ابراہیم بیان کرتے ہیں حضرت ابودرداء جب علم کے طلب گاروں کو دیکھتے تو یہ فرماتے علم کے طلب گاروں کو خوش آمدید۔ وہ یہ بھی فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے بارے میں نصیحت کی تھی۔

مَرْحَبًا بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ وَكَانَ ← كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِذَا رَأَى طَلَبَةَ الْعِلْمِ ← عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَعْقُوبُ هُوَ الْقُمِّيُّ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 358

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 359

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ وَيَرْغَبُونَ إِلَيْهِ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ أَوْ الْعِلْمَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ فَهُمْ أَفْضَلُ وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا قَالَ ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد میں دو محافل کے پاس سے گزرے توارشاد فرمایا دونوں نیکی کا کام کررہے ہیں لیکن ان میں سے ایک دوسرے پر فضیلت رکھتی ہے۔ یہ لوگ جو اللہ سے دعا مانگ رہے ہیں اس کی بارگاہ میں متوجہ ہیں اگر اللہ نے چاہا تو انہیں عطا کردے اور اگر چا ہے تو عطا نہ کرے اور یہ لوگ جو دین کا علم حاصل کررہے ہیں اور ناواقف لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں یہ افضل ہیں کیونکہ مجھے بھی تعلیم دینے والا بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات میں تشریف فرما ہوگئے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 359

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 360

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ إِنَّ الْعِلْمَ خَيْرٌ مِنْ الْعَمَلِ

مطرف بن عبداللہ نے اپنے صاحبزادے سے یہ کہا اے میرے بیٹے بے شک علم عمل سے بہتر ہے۔

لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ إِنَّ الْعِلْمَ خَيْرٌ مِنْ الْعَمَلِ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّهُ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 360

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 361

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُ لَيْسَ هَدِيَّةٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ حِكْمَةٍ تُهْدِيهَا لِأَخِيكَ

ابوعبدالرحمن ارشاد فرماتے ہیں تم تحفے کے طور پر اپنے بھائی کو جو حکمت آمیز کلمہ سناؤ اس سے بہترین تحفہ اور کوئی نہیں ہے۔

لَيْسَ هَدِيَّةٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ حِكْمَةٍ تُهْدِيهَا لِأَخِيكَ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 361

chevron_left Previous
1…293031…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door