Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3404

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا

حضرت جندب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قرآن پڑھو جب تک تمہاری توجہ اس کی طرف مبذول رہے جب توجہ منتشر ہو جائے تو تم بھی اٹھ جاؤ۔

جُنْدُبٍ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← أَبُو قُدَامَةَ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3404

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3405

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ النَّاسِ مَنْ يُؤْتَى الْإِيمَانَ وَلَا يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَلَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَلَا الْإِيمَانَ ثُمَّ ضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا قَالَ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ الْإِيمَانَ وَلَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ فَمَثَلُهُ مَثَلُ التَّمْرَةِ حُلْوَةُ الطَّعْمِ لَا رِيحَ لَهَا وَأَمَّا مَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَلَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ فَمَثَلُ الْآسَةِ طَيِّبَةُ الرِّيحِ مُرَّةُ الطَّعْمِ وَأَمَّا الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ فَمَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَيِّبَةُ الرِّيحِ حُلْوَةُ الطَّعْمِ وَأَمَّا الَّذِي لَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ وَلَا الْإِيمَانَ فَمَثَلُهُ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ مُرَّةُ الطَّعْمِ لَا رِيحَ لَهَا

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بعض لوگ وہ ہیں جنہیں ایمان دیا گیا ہے لیکن قرآن نہیں دیا گیا اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں قرآن دیا گیا ہے لیکن ایمان نہیں دیا گیا اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں قرآن اور ایمان دونوں دیئے گئے ہیں اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں نہ قرآن دیا گیا ہے اور نہ ایمان دیا گیا ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی ایک مثال بیان کی اور فرمایا جس شخص کو ایمان دیا گیا ہو اور قرآن نہ دیا گیا ہو اس کی مثال کھجور کی مانند ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی جس شخص کو قرآن دیا گیا اور ایمان نہ دیا گیا ہو اس کی مثال آساء نامی پھل کی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جس شخص کو قرآن بھی دیا گیا ہو اور ایمان بھی دیا گیا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جس شخص کو نہ قرآن نہ ایمان دیا گیا اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← فِطْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3405

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3406

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا حُلْوٌ وَلَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نبی کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو مومن قرآن پڑھتا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور جو منافق قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ کی سی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن اس کا ذائقہ اکڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی نہیں ہے اور اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3406

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3407

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْإِيمَانَ وَلَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَلَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ الْآسَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الَّذِي لَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ وَلَا الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ رِيحُهَا خَبِيثٌ وَطَعْمُهَا خَبِيثٌ

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس شخص کو ایمان دیا گیا ہو اور قرآن نہ دیا گیا ہو اس کی مثال کھجور کی مانند ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی جس شخص کو قرآن دیا گیا اور ایمان نہ دیا گیا ہو اس کی مثال آساء نامی پھل کی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جس شخص کو قرآن بھی دیا گیا ہو اور ایمان بھی دیا گیا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہےجس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جس شخص کو نہ قرآن نہ ایمان دیا گیا ہو اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کی بو بھی بری ہوتی ہے اور ذائقہ بھی برا ہوتا ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3407

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3408

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَنْ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ نَافِعٌ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ عُمَرُ وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى فَقَالَ مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا فَقَالَ عُمَرُ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ فَقَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ

عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں نافع بن عبدالحارث عسفان کے مقام پر حضرت عمر سے ملے حضرت عمر نے انہیں مکہ کا گورنر مقرر کیا تھا انہوں نے حضرت عمر کو سلام کیا تو حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا کیا تم نے مکہ میں اپنے نائب کے طور پر کسی شخص کو چھوڑا ہے نافع نے جواب دیا میں نے ابن ابزی کو ان پر اپنا نائب مقرر کیا ہے حضرت عمر نے دریافت کیا ابن ابزی کون ہے انہوں نے جواب دیا ہمار ایک آزاد کردہ غلام ہے۔ حضرت عمر نے دریافت کیا تم نے ان لوگوں پر ایک غلام کو اپنا نائب مقرر کیا ہے انہوں نے عرض کی اے امیرالمومنین وہ اللہ کی کتاب کا عالم ہے اور علم وراثت کا بھی عالم ہے حضرت عمر نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ اس کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سربلندی عطا کرے گا اور کچھ کی حثییت کو کم کردے گا۔

اثِلَةَ، ← عامر بن ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3408

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3409

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنَّ الَّذِي يَسْتَمِعُ لَهُ أَجْرَانِ

خالد بن معدان فرماتے ہیں جو شخص قرآن پڑھتا ہے اسے ایک اجر ملتا ہے اور جو شخص غور سے سنتا ہے اسے دوگنا اجر ملتا ہے۔

إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنَّ الَّذِي يَسْتَمِعُ لَهُ أَجْرَانِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← عَبْدَةُ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3409

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3410

حَدَّثَنَا رَزِينُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جو شخص غور سے اللہ کی کتاب کی ایک آیت سنتا ہے یہ اس کے لئے نور بن جاتا ہے۔

مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← رَزِينُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3410

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3411

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهَمَّامٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ فَهُوَ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَلَهُ أَجْرَانِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں جو شخص قرآن کا علم حاصل کرے اور اس میں مہارت حاصل کرے تو وہ معزز بزرگ سفیروں کے ہمراہ ہوگا اور جو شخص اس کا علم حاصل کرے اور اسے اس میں مشکل پیش آئے اسے دوگنا اجر ملے گا۔

النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← هشام وهمام ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3411

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3412

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ وَهْبٍ الذِّمَارِيِّ قَالَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ وَمَاتَ عَلَى الطَّاعَةِ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّفَرَةِ وَالْأَحْكَامِ قَالَ سَعِيدٌ السَّفَرَةُ الْمَلَائِكَةُ وَالْأَحْكَامُ الْأَنْبِيَاءُ قَالَ وَمَنْ كَانَ حَرِيصًا وَهُوَ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَدَعُهُ أُوتِيَ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ وَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ حَرِيصًا وَهُوَ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ وَمَاتَ عَلَى الطَّاعَةِ فَهُوَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَفُضِّلُوا عَلَى النَّاسِ كَمَا فُضِّلَتْ النُّسُورُ عَلَى سَائِرِ الطَّيْرِ وَكَمَا فُضِّلَتْ مَرْجَةٌ خَضْرَاءُ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنْ الْبِقَاعِ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قِيلَ أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا يَتْلُونَ كِتَابِي لَمْ يُلْهِهِمْ اتِّبَاعُ الْأَنْعَامِ فَيُعْطَى الْخُلْدَ وَالنَّعِيمَ فَإِنْ كَانَ أَبَوَاهُ مَاتَا عَلَى الطَّاعَةِ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِهِمَا تَاجُ الْمُلْكِ فَيَقُولَانِ رَبَّنَا مَا بَلَغَتْ هَذَا أَعْمَالُنَا فَيَقُولُ بَلَى إِنَّ ابْنَكُمَا كَانَ يَتْلُو كِتَابِي

وہب ذماری بیان کرتے ہیں جس شخص کو اللہ قرآن عطا کرے اور وہ دن میں رات میں اس کی تلاوت کرتا رہے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرتا رہے اور اس اطاعت کی حالت میں مر جائے قیامت کے دن اللہ اسے سفرہ اور احکام کے ہمراہ مبعوث کرے گا۔ سعد بیان کرتے ہیں سفرہ سے مراد فرشتے اور احکام سے مراد انبیاء ہیں۔ وہب یہ بھی فرماتے ہیں جو شخص اسے پڑھنے کا شوق رکھتا ہو اور اس کی طرف متوجہ رہے اور اسے نہ چھوڑے اسے دوگنا اجر ملے گا اور جو شخص اسے پڑھنے کا شوق رکھتا ہوں اور وہ اس کی طرف متوجہ رہے اور اللہ کی اطاعت میں فوت ہو وہ ان معزز لوگوں میں سے ہوگا اسے لوگوں پر فضیلت عطاکی جائے گی اس طرح جیسے نسور کو تمام پرندوں پر فضیلت حاصل ہے اور جیسے سرسبز و شاداب حصے کو اس کے آس پاس کی زمین پر فضیلت حاصل ہوتی ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ کہا جائے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جو میری کتاب کی تلاوت کرتے تھے جانوروں کے پیچھے جانے نے انہیں غافل نہیں کیا پھر ان لوگوں کو دائمی زندگی اور جنت نصیب ہوگی۔ اگر اس شخص کے والدین حالت اسلام میں مرے تھے تو ان کے سروں پر تاج پہنایا جائے گا وہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اعمال تو اس لائق نہیں ہیں تو اللہ فرمائے گا ہاں لیکن تمہارا بیٹا میری کتاب کی تلاوت کرتا تھا۔

وَهْبٍ الذِّمَارِيِّ ← إِسْمَعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← سَعِيدٍ هُوَ ابنُ عَبدِ العَزِيزِ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3412

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3413

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ

عبدالملک بن عمیر روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے فاتحہ الکتاب میں ہربیماری کی شفا موجود ہے۔

عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3413

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3414

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى الْأَنْصَارِيِّ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُمْ

حضرت ابوسعید انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا کیا اللہ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو انہیں جواب دو کیونکہ اس نے تمہیں زندگی عطا کی ہے اور یہ بات جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے ذہن کے درمیان ہوتا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جائے گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت کے بارے میں بتادوں؟ راوی بیان کرتے ہیں پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا الحمدللہ رب العالمین یہ وہ سات آیات ہیں جنہیں دو مرتبہ پڑھاجاتا ہے اور یہ عظمت والا قرآن ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔

مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← أبي سعيد بن المعلى الأنصاري، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3414

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3415

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي

حضرت ابی بن کعب روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاتحہ الکتاب وہ سات آیتیں ہیں جنہیں دو مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3415

chevron_left Previous
1…283284285…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door