Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3236

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ الْقَاسِمِ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ وَرَثَتَهُ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ الثُّلُثِ فَأَذِنُوا لَهُ ثُمَّ رَجَعُوا فِيهِ بَعْدَ مَا مَاتَ فَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ هَذَا التَّكَرُّهُ لَا يَجُوزُ

قاسم بیان کرتے ہیں جو شخص اپنے ورثاء سے اجازت لے کہ وہ اپنا تہائی مال سے زیادہ وصیت کرے اور ورثاء اس کو اجازت دیں تو پھر وہ ورثاء اس شخص کے فوت ہونے کے بعد اس سے رجوع کرلیں تو اس بارے میں حضرت عبداللہ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا یہ زبردستی نہیں ہے۔

الْقَاسِمِ، ← أَبِي عَوْنٍ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3236

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3237

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِأَكْثَرَ مِنْ الثُّلُثِ فَرَضِيَ الْوَرَثَةُ قَالَ هُوَ جَائِزٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَجَزْنَاهُ يَعْنِي فِي الْحَيَاةِ

حسن فرماتے ہیں جو شخص اپنے ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرے اور اس کے ورثاء اس سے راضی ہوں تو یہ جائز ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں (حدیث ٣٢٣٥ میں ورثاء کا یہ کہنا) ہم نے اسے جائز قرا ردیا تھا یعنی وصیت کرنے والے شخص کی زندگی میں جائز قرار دیا تھا ۔

أَبُو مُحَمَّد أَجَزْنَاهُ يَعْنِي فِي الْحَيَاةِ ← هُوَ جَائِزٌ ← الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِأَكْثَرَ مِنْ الثُّلُثِ فَرَضِيَ الْوَرَثَةُ ← هِشَامٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3237

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3238

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَلَيْسَ لَهُ إِلَّا ابْنَةٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ فَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قُلْتُ فَأُوصِي بِالنِّصْفِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَالَ فَأُوصِي بِالثُّلُثِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ

محمد بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت مکہ میں تھے ان کی صرف ایک بیٹی تھی وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی میری صرف ایک ہی بیٹی ہے کیا اپنے پورے مال کو صدقہ کرنے کی وصیت کردوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں میں نے عرض کی میں نصف مال وصیت کردوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا نہیں حضرت سعد بیان کرتے ہیں پھر میں نے عرض کی ایک تہائی مال وصیت کردوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تہائی کی وصیت ویسے بھی زیادہ ہے۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3238

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3239

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اشْتَكَيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى أُدْنِفْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرَانِي إِلَّا لِمَا بِي وَأَنَا ذُو مَالٍ كَثِيرٍ وَإِنَّمَا يَرِثُنِي ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَبِنِصْفِهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالثُّلُثِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ فُقَرَاءَ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ بِأَيْدِيهِمْ وَإِنَّكَ لَا تُنْفِقُ نَفَقَةً إِلَّا آجَرَكَ اللَّهُ فِيهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ

عامر بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حجتہ الوداع کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور شدید بیمار ہوگیا جب بیماری زیادہ ہوگئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول مجھے لگ رہا ہے کہ میرا آخری وقت قریب آگیا ہے میں بہت سے مال کا مالک ہوں اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے میں اپنا پورا مال صدقہ کردوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے عرض کی نصف مال؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا نہیں میں نے دریافت کیا پھر ایک تہائی مال؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں غریب چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اللہ اس کے بارے میں تمہیں اجر عطا کرے گا یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جو لقمہ ڈالتے ہو اس کا بھی تم کو اجر ملے گا۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3239

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3240

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ أَبَاهُ زِيَادَ بْنَ مَطَرٍ أَوْصَى فَقَالَ وَصِيَّتِي مَا اتَّفَقَ عَلَيْهِ فُقَهَاءُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَسَأَلْتُ فَاتَّفَقُوا عَلَى الْخُمُسِ

علاء بن زیادہ بیان کرتے ہیں ان کے والد زیاد بن مطر نے یہ وصیت کی تھی میری وصیت وہ ہے جس پر اہل بصرہ کے فقہاء کا اتفاق ہے میں نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا یہ حضرات پانچویں حصے کی ادائیگی کی وصیت کرنے پر متفق ہیں۔

الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ أَبَاهُ زِيَادَ بْنَ مَطَرٍ أَوْصَى ← إِسْحَقُ بْنُ سُوَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3240

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3241

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنَّ وَارِثِي كَلَالَةٌ فَأُوصِي بِالنِّصْفِ قَالَ لَا قَالَ فَالثُّلُثِ قَالَ لَا قَالَ فَالرُّبُعِ قَالَ لَا قَالَ فَالْخُمُسِ قَالَ لَا حَتَّى صَارَ إِلَى الْعُشْرِ فَقَالَ أَوْصِ بِالْعُشْرِ

علاء بن زیاد بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت عمر بن خطاب سے سوال کیا میرے وارث کلالہ ہیں کیا میں اپنے نصف مال کی وصیت کردوں انہوں نے جواب دیا نہیں اس نے دریافت کیا پھر ایک تہائی کی؟ انہوں نے جواب دیا نہیں پھر اس نے دریافت کیا چوتھائی تو انہوں نے جواب دیا نہیں اس نے دریافت کیا پھر پانچویں حصے کی؟ حضرت عمر نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ جب اس نے دسویں حصے کا تذکرہ کیا تو حضرت عمر نے فرمایا تم دسویں حصے کی وصیت کردو۔

أَوْصِ بِالْعُشْرِ ← لَا حَتَّى صَارَ إِلَى الْعُشْرِ ← فَالْخُمُسِ ← لَا۔ ← فَالرُّبُعِ ← لَا۔ ← فَالثُّلُثِ ← لَا۔ ← إِنَّ وَارِثِي كَلَالَةٌ فَأُوصِي بِالنِّصْفِ ← الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← إِسْحَقُ بْنُ سُوَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3241

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3242

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ إِنَّمَا كَانُوا يُوصُونَ بِالْخُمُسِ وَالرُّبُعِ وَكَانَ الثُّلُثُ مُنْتَهَى الْجَامِحِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي بِالْجَامِحِ الْفَرَسَ الْجَمُوحَ

عامر بیان کرتے ہیں پہلے زمانے کے لوگ چوتھے یا پانچویں حصے کی وصیت کرتے تھے اور کوئی بہت زیادہ بھی کرتا تھا زیادہ سے زیادہ تیسرے حصے کی کرتا تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت میں استعمال ہونے والے لفظ جامح کا مطلب تیز رفتار گھوڑا ہے۔

أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي بِالْجَامِحِ الْفَرَسَ الْجَمُوحَ ← إِنَّمَا كَانُوا يُوصُونَ بِالْخُمُسِ وَالرُّبُعِ وَكَانَ الثُّلُثُ مُنْتَهَى الْجَامِحِ ← عَامِرٍ، ← إِسْمَعِيلُ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3242

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3243

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرٍ قَالَ أَوْصَيْتُ إِلَى حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ مَا كُنْتُ لِأَقْبَلَ وَصِيَّةَ رَجُلٍ لَهُ وَلَدٌ يُوصِي بِالثُّلُثِ

بکر بیان کرتے ہیں میں نے حمید بن عبدالرحمن کو یہ وصیت کی تو وہ بولے میں کسی ایسے شخص کی وصیت قبول نہیں کرتا جس کی اولاد ہو اور وہ ایک تہائی حصے کی وصیت کردے۔

أَوْصَيْتُ إِلَى حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بَكْرٌ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3243

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3244

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ الثُّلُثُ جَهْدٌ وَهُوَ جَائِزٌ

قاضی شریح بیان کرتے ہیں ایک تہائی کافی زیادہ ہے لیکن یہ جائز ہے۔

الثُّلُثُ جَهْدٌ وَهُوَ جَائِزٌ ← شُرَيْحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3244

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3245

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ السُّدُسُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ الثُّلُثِ

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں اہل علم کے نزدیک تہائی حصے کے مقابلے میں چھٹے حصہ کی وصیت کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔

كَانَ السُّدُسُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ الثُّلُثِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3245

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3246

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ الْوَصِيُّ أَمِينٌ فِيمَا أُوصِيَ إِلَيْهِ بِهِ

ابراہیم فرماتے ہیں وصی امین ہوتا ہے اس چیز کے بارے میں جس کی اس کو وصیت کی گئی ہے۔

الْوَصِيُّ أَمِينٌ فِيمَا أُوصِيَ إِلَيْهِ بِهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3246

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3247

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ أَمْرُ الْوَصِيِّ جَائِزٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي الِابْتِيَاعِ وَإِذَا بَاعَ بَيْعًا لَمْ يُقِلْ وَهُوَ رَأْيُ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ

مکحول فرماتے ہیں گھر کے علاوہ ہر معاملے میں وصی کا فیصلہ درست ہے جب وہ کسی چیز کو فروخت کردے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔

مَكْحُولٌ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3247

chevron_left Previous
1…269270271…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door