Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3211

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي مُكَاتَبٍ مَاتَ وَقَدْ أَدَّى نِصْفَ مُكَاتَبَتِهِ وَلَهُ وَلَدٌ مِنْ امْرَأَةٍ أَحْرَارٌ قَالَ مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ جَرَّ وَلَاءَ وَلَدِهِ

ایسا مکاتب غلام جو فوت ہو جائے اور اس نے اپنی کتابت کا نصف معاوضہ ادا کردیا ہو اس کے آزاد عورت سے کچھ بچے ہوں اس کے بارے میں ابراہیم نخعی فرماتے ہیں میرے خیال میں وہ اپنی اولاد کے حق کو حاصل کرلیں گے۔

مُغِيرَةَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3211

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3212

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ شُرَيْحٌ لَا يَرْجِعُ عَنْ قَضَاءٍ يَقْضِي بِهِ فَحَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ أَنَّ عُمَرَ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ الْمَمْلُوكُ الْحُرَّةَ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا أَحْرَارًا ثُمَّ عُتِقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَجَعَ الْوَلَاءُ لِمَوَالِي أَبِيهِمْ فَأَخَذَ بِهِ شُرَيْحٌ

ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں قاضی شریح کو اپنے دیئے ہوئے فیصلے سے رجوع کرنے کی نوبت کم پیش آتی تھی ایک مرتبہ اسود نے انہیں بتایا کہ حضرت عمر نے انہیں یہ فیصلہ دیا تھا جب کوئی غلام کسی آزاد عورت کے ساتھ شادی کرلے اور اس عورت کے ہاں آزاد بچے پیدا ہوجائیں اس کے بعد وہ غلام آزاد ہو جائے تو اس کی ولاء کا حق ان بچوں کے باپ کو آزاد کرنے والے شخص کو ملے گا تو قاضی شریح نے اس کے مطابق حکم دیا۔

الْأَسْوَدُ أَنَّ عُمَرَ ← قَضَاءٍ يَقْضِي بِهِ ← كَانَ شُرَيْحٌ لَا يَرْجِعُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3212

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3213

حَدَّثَنَا يَعْلَى عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ عُمَرُ فِي الْمَمْلُوكِ يَكُونُ تَحْتَهُ الْحُرَّةُ يُعْتَقُ الْوَلَدُ بِعِتْقِ أُمِّهِ فَإِذَا عُتِقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ

ابراہیم فرماتے ہیں حضرت عمر فرماتے ہیں وہ غلام جس کی بیوی کوئی آزاد عورت ہو اور اس کا بچہ اس کی ماں کے آزاد ہونے کی وجہ سے آزاد قرار پائے پھر اس کا باپ بھی آزاد ہوجائے تو بچہ ولاء کے حق کو حاصل کرےگا۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3213

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3214

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ فِي الْحُرَّةِ تَحْتَ الْعَبْدِ قَالَ أَمَّا مَا وَلَدَتْ مِنْهُ وَهُوَ عَبْدٌ فَوَلَاؤُهُمْ لِأَهْلِ نِعْمَتِهَا وَمَا وَلَدَتْ مِنْهُ وَهُوَ حُرٌّ فَوَلَاؤُهُمْ لِأَهْلِ نِعْمَتِهِ

عطاء بیان کرتے ہیں جو آزاد عورت کسی غلام کی بیوی ہو اس غلام کے غلام رہنے کے دوران وہ اس کے جن بچوں کو جنم دے گی ان کی ولاء کا حق عورت کے رشتے داروں کو حاصل ہوگا اور اس کے شوہر کے آزاد ہوجانے کے بعد وہ اس کے جن بچوں کو جنم دے گی ان کی ولاء کا حق مرد کے آزاد کرنے والوں کو حاصل ہوگا۔

عَطَاءٍ فِي الْحُرَّةِ تَحْتَ الْعَبْدِ ← کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُّسْلِمٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3214

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3215

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ عُمَرُ إِذَا كَانَتْ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا فَإِنَّهُ يُعْتَقُ بِعِتْقِ أُمِّهِ وَوَلَاؤُهُ لِمَوَالِي أُمِّهِ فَإِذَا أُعْتِقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ

حضرت عمر فرماتے ہیں جب کوئی آزاد عورت کسی غلام کی بیوی ہو اور وہ اس غلام کے بچے کو جنم دے تو وہ بچہ اپنی ماں کے آزاد ہونے کی وجہ سے آزاد قرار پائے گا اور اس کی ولاء کا حق اس کی ماں کے سرپرستوں کو حاصل ہوگا جب اس کا باپ بھی آزاد ہوجائے تو اس بچے کی ولاء کا حق اس کے باپ کو آزاد کرنے والوں کو مل جائے گا۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3215

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3216

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ أُمِّي مَوْلَاةً لِلْحُرَقَةِ وَكَانَ أَبِي يَعْقُوبُ مُكَاتَبًا لِمَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ ثُمَّ إِنَّ أَبِي أَدَّى كِتَابَتَهُ فَدَخَلَ الْحُرَقِيُّ عَلَى عُثْمَانَ يَسْأَلُ الْحَقَّ يَعْنِي الْعَطَاءَ وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ فَقَالَ ذَاكَ مَوْلَايَ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ فَقَضَى بِهِ لِلْحُرَقِيِّ

علاء بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میری والدہ اور میرے والد یعقوب مالک بن اوس نامی صاحب کے مکاتب تھے پھر میرے والد نے کتابت کا معاوضہ ادا کردیا حرقی قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے میرے حق کا مطالبہ کیا اس وقت مالک بن اوس وہاں موجود تھے وہ بولے یہ تو میرا آزاد کردہ غلام ہے ان دونوں نے اپنا مقدمہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حرقی کے حق میں فیصلہ کردیا۔

أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← ابْنِ إِسْحَقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3216

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3217

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي سَهْمُ بْنُ يَزِيدَ الْحَمْرَاوِيُّ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ فَكُتِبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ فَكَتَبَ أَنْ اقْتَسِمُوا مِيرَاثَهُ عَلَى مَنْ كَانَ يَأْخُذُ مَعَهُمْ الْعَطَاءَ فَقُسِمَ مِيرَاثُهُ عَلَى مَنْ كَانَ يَأْخُذُ مَعَهُمْ الْعَطَاءَ فِي عِرَافَتِهِ

سہم بن یزید حمراوی بیان کرتے ہیں ایک شخص فوت ہوگیا اس کا کوئی وارث نہیں تھا اس کے بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا گیا وہ اس وقت خلیفہ تھے انہوں نے جواب دیا تم ان کی وراثت ان لوگوں میں تقسیم کردو جو اس کے ہمراہ مل کر سرکاری وظیفہ وصول کیا کرتے تھے تو اس شخص کی وراثت ان لوگوں میں تقسیم کردی گئی جو اس کے ہمراہ مل کر سرکاری وظیفہ وصول کیا کرتے تھے۔

فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ ← سَهْمُ بْنُ يَزِيدَ الْحَمْرَاوِيُّ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3217

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3218

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کسی مسلمان کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز موجود ہو اس نے اس کی وصیت کرنی ہو اور وہ چیز اس کے پاس دو راتیں گزار دے ماسوائے اس کے کہ اس کی وصیت اس کے پاس تحریری موجود ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3218

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3219

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ الْمُؤْمِنُ لَا يَأْكُلُ فِي كُلِّ بَطْنِهِ وَلَا تَزَالُ وَصِيَّتُهُ تَحْتَ جَنْبِهِ

حسن بیان کرتے ہیں مومن پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتا اور اس کی وصیت ہمیشہ اس کے پاس ہوتی ہے۔

الْمُؤْمِنُ لَا يَأْكُلُ فِي كُلِّ بَطْنِهِ وَلَا تَزَالُ وَصِيَّتُهُ تَحْتَ جَنْبِهِ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3219

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3220

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ مَا فَعَلَ أَبُوكَ قُلْتُ مَاتَ قَالَ فَهَلْ أَوْصَى فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ كَانَ وَصِيَّتُهُ تَمَامًا لِمَا ضَيَّعَ مِنْ زَكَاتِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد و قَالَ غَيْرُهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَمْرٍو

قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ثمامہ بن حزن نے مجھ سے دریافت کیا تمہارے والد کا کیا حال ہے میں نے جواب دیا ان کا انتقال ہوگیا انہوں نے دریافت کیا انہوں نے وصیت کردی تھی کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص وصیت کردیتا ہے تو اس کی زکوۃ کے حوالے سے جو کمی ہو یہ وصیت اسے پورا کردیتی ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت کے راوی قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیگر محدثین نے قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3220

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3221

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ كَانَ يُقَالُ مَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَلَمْ يَجُرْ وَلَمْ يَحِفْ كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا أَنْ لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ فِي حَيَاتِهِ

شعبی ارشاد فرماتے ہیں جو شخص کوئی وصیت کرے اور اس میں کوئی کمی زیادتی یا ناانصافی نہ کرے تو اسے اتناہی اجر ملتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی میں اس چیز کو صدقہ کرتا۔

الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3221

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3222

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي يُونُسَ عَنْ قَزَعَةَ قَالَ قِيلَ لِهَرِمِ بْنِ حَيَّانَ أَوْصِهْ قَالَ أُوصِيكُمْ بِالْآيَاتِ الْأَوَاخِرِ مِنْ سُورَةِ النَّحْلِ وَقَرَأَ ابْنُ حَيَّانَ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ إِلَى قَوْلِهِ وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ

ابوقزعہ بیان کرتے ہیں ہرم بن حیان سے کہا گیا آپ ہمیں کوئی وصیت کریں انہوں نے جواب دیا میں تمہیں سورت نحل کی آخری آیت کی وصیت کرتا ہوں پھرا بن حیان نے ان آیات کی تلاوت کی۔ "اپنے پروردگار کے راستے کی طرف دانائی اور اچھے واعظ کے ذریعے دعوت دو اور ان لوگوں کے ساتھ اچھی طرح بحث کرو بے شک تمہارا پروردگار زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہے اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے بارے میں بھی زیادہ بہتر جانتا ہے اگر تم انہیں جواب دینا چاہتے ہو تو تم انہیں اسی طرح جواب دو جیسے تمہیں دیا گیا تھا اور اگر تم صبر سے کام لو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے زیادہ بہتر ہے تم صبر کرو اور صبر صرف اللہ کی طرف سے ہوسکتا ہے تم ان کے بارے میں غمگین نہ ہو اور جس فریب کاری سے کام لے رہے ہیں اس کے بارے میں تنگی کا شکار نہ ہو۔ بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں اور جونیکی کرتے ہیںَ

قِيلَ لِهَرِمِ بْنِ حَيَّانَ أَوْصِهْ ← قَزَعَةَ ← اَبِیْ یُوْنُسَ ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3222

chevron_left Previous
1…267268269…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door