Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3006

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنَّهُ تَرِثُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ وَهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ

شعبی لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ اس کی ماں کے عصبہ اس کے وارث بنیں گے اور وہی لوگ اس بچے کی طرف سے دیت ادا کریں گے۔

الشَّعْبِيِّ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنَّهُ تَرِثُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ وَهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ ← الشَّيْبَانِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3006

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3007

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ هُوَ الَّذِي لَا أَبَ لَهُ تَرِثُهُ أُمُّهُ وَإِخْوَتُهُ مِنْ أُمِّهِ وَعَصَبَةُ أُمِّهِ فَإِنْ قَذَفَهُ قَاذِفٌ جُلِدَ قَاذِفُهُ

لعان کرنے والی عورت کے بچے کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ وہ ہے جس کا باپ نہیں ہے اس کی ماں اور اس کی ماں کی طرف سے شریک بھائی اس کے وارث بنیں گے اور اس کی ماں کے عصبہ اس کے وارث بنیں گے اگر کوئی شخص اس پر الزام لگائے تو اس الزام لگانے والے کو کوڑے لگائے جائیں گے۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3007

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3008

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ النُّعْمَانِ عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ لِمَنْ هُوَ قَالَ جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهِ فِي سَبَبِهِ لِمَا لَقِيَتْ مِنْ الْبَلَاءِ وَلِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ و قَالَ مَكْحُولٌ فَإِنْ مَاتَتْ الْأُمُّ وَتَرَكَتْ ابْنَهَا ثُمَّ تُوُفِّيَ ابْنُهَا الَّذِي جُعِلَ لَهَا كَانَ مِيرَاثُهُ لِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ كُلُّهُ لِأَنَّهُ كَانَ لِأُمِّهِمْ وَجَدِّهِمْ وَكَانَ لِأَبِيهَا السُّدُسُ مِنْ ابْنِ ابْنَتِهِ وَلَيْسَ يَرِثُ الْجَدُّ إِلَّا فِي هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ لِأَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ أَبُ الْأُمِّ وَإِنَّمَا وَرِثَ الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ أُمَّهُمْ وَوَرِثَ الْجَدُّ ابْنَتَهُ لِأَنَّهُ جُعِلَ لَهَا فَالْمَالُ الَّذِي لِلْوَلَدِ لِوَرَثَةِ الْأُمِّ وَهُوَ يُحْرِزُهُ الْجَدُّ وَحْدَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ

مکحول کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے لعان کرنے والی عورت کے بچے کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ وہ کسے ملے گی تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت کا حقدار اس کی ماں کو قرار دیا ہے کیونکہ اس کی ماں کو اس مشکل صورت کا سامنا کرنا پڑا تھا پھر اس کی ماں کی طرف سے شریک بھائیوں کو ملے گا۔ مکحول فرماتے ہیں اگر اس کی ماں فوت ہوجائے اور اپنے اسی ایک بیٹے کو چھوڑے پھر اس عورت کا وہ بیٹابھی فوت ہوجائے جو اس حوالے سے تھا تو اس بیٹے کی وراثت اس کی ماں کی طرف سے شریک بہن بھائیوں کو ملے گی۔ کیونکہ یہ وراثت اس کی ماں یا اس کے نانا کو ملنی تھی اس عورت کے باپ کو اپنے نواسے کی طرف سے چھٹا حصہ ملے گا۔ نانا صرف اسی صورت میں وارث بن سکتا ہے کیونکہ وہ اس کی ماں کا باپ ہے اس کی ماں کی طرف سے شریک بہن بھائی اپنی ماں کے وارث بنیں گے اور اس کا نانا اپنی بیٹی کا وراث بنے گا کیونکہ اسے اسی کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ مال جو اس لڑکے کاہے وہ اس کی ماں کے ورثاء کو ملے گا اور وہ صرف اپنے نانا کے حصے میں ہوگا جبکہ اس کے علاوہ کوئی اور موجود نہ ہو۔

مَكْحُولٌ ← النُّعْمَانِ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3008

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3009

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَجَاءَ عَصَبَةُ أَبِيهِ يَطْلُبُونَ مِيرَاثَهُ فَقَالَ إِنَّ أَبَاهُ كَانَ تَبَرَّأَ مِنْهُ فَلَيْسَ لَكُمْ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْءٌ فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِأُمِّهِ وَجَعَلَهَا عَصَبَتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کچھ لوگ مقدمہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے یہ مقدمہ لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں تھا اس بچے کے باپ کے عصبہ وراثت کا مطالبہ لے کر آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اس کا باپ تو اس سے خود کو بری کرچکا ہے تمہیں اس کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی وراثت کا فیصلہ اس کی ماں کے حق میں کیا تھا اور اسی عورت کو اس بچے کا عصبہ کردیا۔

عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3009

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3010

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ مَا لِلرَّجُلِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ أَيِّهِمَا يُوَرَّثُ فَقَالَ مِنْ أَيِّهِمَا بَالَ

عبدالاعلی بیان کرتے ہیں انہوں نے محمد بن علی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی مرد یا عورت جیسی کوئی مخصوص شکل نہ ہو تو کس حوالے سے اس کی وراثت تقسیم ہوگی انہوں نے جواب دیا جس جگہ سے وہ پیشاب کرتا ہے۔

مِنْ أَيِّهِمَا بَالَ ← عَلِيٍّ: فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ مَا لِلرَّجُلِ، وَمَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ أَيِّهِمَا يُوَرَّثُ؟ ← محمد بن علي ← عَبْدُ الْأَعْلَى أَنَّهُ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3010

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3011

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ شِبَاكٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلِيٍّ فِي الْخُنْثَى قَالَ يُوَرَّثُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ

شعبی بیان کرتے ہیں ہیجڑے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی اس کی وراثت اسی حوالے سے تقسیم ہوگی جس طرف سے وہ پیشاب کرتا ہے۔

يُوَرَّثُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ ← عَلِيٍّ فِي الْخُنْثَى ← الشَّعْبِيِّ، ← شباك ← مُغِيرَةَ، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3011

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3012

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ قَالَ سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ مَوْلُودٍ وُلِدَ وَلَيْسَ بِذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى لَيْسَ لَهُ مَا لِلذَّكَرِ وَلَيْسَ لَهُ مَا لِلْأُنْثَى يُخْرِجُ مِنْ سُرَّتِهِ كَهَيْئَةِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِهِ فَقَالَ نِصْفُ حَظِّ الذَّكَرِ وَنِصْفُ حَظِّ الْأُنْثَى

عامر سے ایسے بچے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو پیدا ہوا ہو وہ مذکر یا مونث نہ ہو اس کا وہ عضو بھی نہ ہو جو مذکر کا ہوتا ہے وہ بھی نہ ہو جو مونث کا ہوتا ہے اور اس کی ناف میں سے پیشاب اور پاخانہ نکلتا ہو ایسے شخص کے بارے میں یہ حکم دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا اس کانصف مرد کی حثییت سے ہوگا اور نصف عورت کی حثییت سے ہوگا۔

أَبُو هَانِئٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3012

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3013

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سُئِلَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ الْكَلَالَةِ فَقَالَ إِنِّي سَأَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنْ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنْ الشَّيْطَانِ أُرَاهُ مَا خَلَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ قَالَ إِنِّي لَأَسْتَحْيِي اللَّهَ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ

شعبی بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا گیا انہوں نے ارشاد فرمایا میں اس بارے میں اپنی رائے سے جواب دوں گا اگر وہ ٹھیک ہوئی تو اللہ کے فضل سے ہوگی اور اگر میں اس کوئی غلطی ہوئی تو وہ میری اور شیطان کی طرف سے ہوگی میرایہ خیال ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی اولاد بھی نہ ہو اور والد بھی نہ ہو۔ جب حضرت عمر ان کے نائب بنے تو انہوں نے یہ فرمایا مجھے اس بات سے اللہ کی بارگاہ میں حیاء آتی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جو رائے پیش کر چکے ہوں میں اسے مسترد کروں۔

الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3013

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3014

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ مَا أَعْضَلَ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مَا أَعْضَلَتْ بِهِمْ الْكَلَالَةُ

حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو کلالہ کے بارے میں اتنی مشکل پیش آئی جتنی کسی اور مسئلے کے بارے میں پیش نہیں آئی۔

مَا أَعْضَلَ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ شَيْءٌ مَا أَعْضَلَتْ بِهِمْ الْكَلَالَةُ ← عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3014

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3015

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الْكَلَالَةُ مَا خَلَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کلالہ سے مراد وہ شخص ہے جس کی والد اور اولاد نہ ہو۔

الْكَلَالَةُ مَا خَلَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3015

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3016

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوْ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ لِأُمٍّ

حضرت سعد کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی ۔ ایسے شخص کو جس کی وراثت کلالہ کے طور پر یا اس کی بیوی ہو اس کا ایک بھائی یا بہن ہو۔ فرماتے ہیں یہ ماں کے لئے ہی ہے۔

الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3016

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3017

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ الْتَمَسَ مَنْ يَرِثُ ابْنَ الدَّحْدَاحَةِ فَلَمْ يَجِدْ وَارِثًا فَدَفَعَ مَالَ ابْنِ الدَّحْدَاحَةِ إِلَى أَخْوَالِ ابْنِ الدَّحْدَاحَةِ

حضرت عمر بن خطاب کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ابن دحداحہ کے وارث کو تلاش کیا انہیں اس کا کوئی وارث نہیں ملا تو حضرت عمر نے ابن دحداحہ کی وراثت اس کے ماموؤں کو دے دی۔

أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3017

chevron_left Previous
1…250251252…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door