Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2958

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ إِنِّي أُتِيتُ بِجَدٍّ وَسِتَّةِ إِخْوَةٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ أَنْ أَعْطِ الْجَدَّ سُبُعًا وَلَا تُعْطِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ

شعبی بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ان دنوں بصرہ کے گورنر تھے میرے سامنے ایک دادا اور چھ بھائیوں کی وراثت کا مسئلہ آیا ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا تم دادا کو چھٹا حصہ دو اور اس کے علاوہ اسے اور کچھ نہ دینا۔

ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ إِنِّي أُتِيتُ بِجَدٍّ وَسِتَّةِ إِخْوَةٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2958

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2959

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ قَالَ أَعْطِ الْجَدَّ السُّدُسَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَأَنَّهُ يَعْنِي عَلِيًّا الشَّعْبِيُّ يَرْوِيهِ عَنْ عَلِيٍّ

شعبی چھ بھائیوں اور دادا کی وراثت کے بارے میں فرماتے ہیں دادا کوچھٹا حصہ دو۔ امام دارمی فرماتے ہیں یعنی اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ یہ روایت شعبی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کی ہے۔

عَلِيٍّ، ← أَبُو مُحَمَّد كَأَنَّهُ يَعْنِي عَلِيًّا الشَّعْبِيُّ يَرْوِيهِ ← أَعْطِ الْجَدَّ السُّدُسَ ← الشَّعْبِيِّ فِي سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ ← إِسْمَعِيلُ ← حَسَنٌ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2959

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2960

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَجْعَلُ الْجَدَّ أَخًا حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا

حضرت عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائی کی مانند قرار دیتے ہیں جبکہ اس کا چھٹا حصہ بنتا ہو۔

عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2960

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2961

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى السُّدُسِ

حضرت حسن بصری ارشاد فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ داد کو بھائیوں کے ہمراہ چھٹے حصے تک وراثت میں شریک قرار دیتے ہیں۔

الْحَسَنِ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى السُّدُسِ ← يُونُسَ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2961

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2962

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو وراثت میں بھائیوں کا شریک قرار دیتے ہیں جبکہ ان کامشترکہ حصہ کل مال کا چھٹا حصہ بنتا ہے۔

كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2962

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2963

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ يُشَرِّكُ الْجَدَّ إِلَى سِتَّةٍ مَعَ الْإِخْوَةِ يُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ مَعَ جَدٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ وَلَا يَزِيدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَى السُّدُسِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَيْرُهُ وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ مَعَ أَخٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ أَعْطَى الْأُخْتَ النِّصْفَ وَالنِّصْفَ الْآخَرَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ نِصْفَيْنِ وَإِذَا كَانُوا إِخْوَةً وَأَخَوَاتٍ شَرَّكَهُمْ مَعَ الْجَدِّ إِلَى السُّدُسِ

ابراہیم نخعی ارشاد فرماتے ہیں چھٹے حصے تک حضرت علی رضی اللہ عنہ داداکوبھائیوں کو حصے دار قرار دیتے ہیں وہ ہر ایک صاحب کو اس کے مخصوص حصے کے مطابق دیتے ہیں البتہ وہ ماں کی طرف سے شریک بھائی کو دادا کے ہمراہ وارث قرار نہیں دیتے اسی طرح ماں کی طرف سے شریک بہن کو بھی نہیں قرار دیتے بیٹے کی موجودگی میں وہ دادا کو چھٹے حصے سے زیادہ نہیں دیتے البتہ اس کے علاوہ کوئی اور ہو تو حکم مختلف ہے۔ باپ کی طرف سے شریک بھائی یا ماں اور باپ کی طرف سے بھائی کی موجودگی میں وہ حصہ تقسیم نہیں کرتے اگر سگی بہن موجود ہو یا باپ کی طرف سے بھائی موجود ہو۔ اگر سگی بہن اور باپ کی طرف سے بھائی موجود ہو تو بہن کو نصف حصہ دیتے ہیں جبکہ دوسرا نصف حصہ دادا اور بھائی کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں اگر بہنیں اور بھائی زیادہ ہوں تو وہ انہیں دادا کے ہمراہ چھٹے حصے تک کا شریک قرار دیتے ہیں۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2963

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2964

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْعَبْسِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْجَدِّ فَقَالَ أَيُّ أَبٍ لَكَ أَكْبَرُ فَقُلْتُ أَنَا آدَمُ قَالَ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى يَا بَنِي آدَمَ

عبدالرحمن بن معقل بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دادا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا تمہارا کون سا دادا سب سے بڑا ہے میں نے جواب دیا حضرت آدم انہوں نے فرمایا کیا تم نے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں نہیں سنا ہے اے اولاد آدم۔

أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى يَا بَنِي آدَمَ ← آدَمُ، ← الْجَدِّ فَقَالَ أَيُّ أَبٍ لَكَ أَكْبَرُ فَقُلْتُ ← سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ الرحمنِ بْنِ مَعْقِلٍ ← الْعَبْسِيِّ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2964

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2965

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَوَدِدْتُ أَنِّي وَالَّذِينَ يُخَالِفُونِي فِي الْجَدِّ تَلَاعَنَّا أَيُّنَا أَسْوَأُ قَوْلًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میری یہ خواہش ہے جو لوگ دادا کی وراثت کے بارے میں میرا مخالف نظریہ رکھتے ہیں ہم دونوں ایک دوسرے پر لعان کریں تاکہ اس بات کا پتہ چل جائے کہ کس کی رائے غلط ہے۔

لَوَدِدْتُ أَنِّي وَالَّذِينَ يُخَالِفُونِي فِي الْجَدِّ تَلَاعَنَّا أَيُّنَا أَسْوَأُ قَوْلًا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← رَجُلٌ: ← إِسْمَعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2965

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2966

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا

حضرت ابن عباس دادا کو باپ کی مانند قرار دیتے ہیں

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2966

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2967

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى شُرَيْحٍ وَعِنْدَهُ عَامِرٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي فَرِيضَةِ امْرَأَةٍ مِنَّا الْعَالِيَةِ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَأَخَاهَا لِأَبِيهَا وَجَدَّهَا فَقَالَ لِي هَلْ مِنْ أُخْتٍ قُلْتُ لَا قَالَ هَلْ مِنْ أُخْتٍ قُلْتُ لَا قَالَ لِلْبَعْلِ الشَّطْرُ وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ قَالَ فَجَهِدْتُ عَلَى أَنْ يُجِيبَنِي فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَّا بِذَلِكَ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ وَعَامِرٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَا جَاءَ أَحَدٌ بِفَرِيضَةٍ أَعْضَلَ مِنْ فَرِيضَةٍ جِئْتَ بِهَا قَالَ فَأَتَيْتُ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيَّ وَكَانَ يُقَالُ لَيْسَ بِالْكُوفَةِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِفَرِيضَةٍ مِنْ عَبِيدَةَ وَالْحَارِثِ الْأَعْوَرِ وَكَانَ عَبِيدَةُ يَجْلِسُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا وَرَدَتْ عَلَى شُرَيْحٍ فَرِيضَةٌ فِيهَا جَدٌّ رَفَعَهُمْ إِلَى عَبِيدَةَ فَفَرَضَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنْ شِئْتُمْ نَبَّأْتُكُمْ بِفَرِيضَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي هَذَا جَعَلَ لِلزَّوْجِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ النِّصْفَ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ وَلِلْأَخِ سَهْمٌ وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ الْجَدُّ أَبُو الْأَبِ

ابواسحاق بیان کرتے ہیں میں قاضی شریح کے پاس گیا اس وقت ان کے پاس عامر، ابراہیم، عبدالرحمن بن عبداللہ موجود تھے اور ہمارے قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک معزز خاتون کی وراثت کا مسئلہ درپیش تھا جس نے پسماندگان میں شوہر، ماں، باپ کی طرف سے شریک بھائی اور دادا کو چھوڑا تھا انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کیا اس کی کوئی بہن ہے میں نے جواب دیا نہیں انہوں نے فرمایا شوہر کو نصف حصہ ملے گا اور ماں کو ایک تہائی حصہ ملے گا ابو اسحاق بیان کرتے ہیں میں نے یہ کوشش کی کہ وہ مجھے مزید جواب دیں لیکن انہوں نے مجھے اس کے علاوہ کوئی جواب نہیں دیا ابراہیم، عامر اور عبدالرحمن بن عبداللہ نے یہ کہا کہ تم جو وراثت کامسئلہ لے کر آئے ہو اس سے زیادہ پیچیدہ وراثت کامسئلہ کوئی اور نہیں آیا۔ ابواسحاق بیان کرتے ہیں میں عبیدہ سلمانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ کوفہ میں عبیدہ اور حارث اعور سے زیادہ علم وراثت کا اور کوئی عالم نہیں ہے عبیدہ مجلس میں تشریف فرما ہوتے تھے قاضی شریح کی خدمت میں جب بھی وراثت سے متعلق کوئی مقدمہ آتا تھا جس میں کسی اور داداکا حکم ہوتا تھا تو وہ عبیدہ کے پاس بھیج دیتے تھے اور اس مسئلے کو حل کرتے تھے میں نے عبیدہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا اگر تم چاہو تو میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے بیان کردہ اصول کے مطابق اسے تقسیم کرتا ہوں ایسی صورت میں حضرت عبداللہ نے شوہر کو تین حصے دینے تھے جو نصف حصہ ہوتا ہے اور باقی بچ جانے والے مال کا ایک تہائی حصہ ماں کو دینا تھاجو کل مال کا ایک تہائی حصہ ہوتا ہے بھائی کو ایک حصہ دینا تھا اور دادا کو ایک حصہ دینا تھا۔ ابواسحاق بیان کرتے ہیں یہاں دادا سے مراد باپ کا باپ ہے۔

أَبِي إِسْحَقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2967

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2968

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ زَيْدًا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں حضرت زید ایک تہائی مال تک دادا کو بھائیوں کے ہمراہ شریک قرار دیتے تھے۔

الْحَسَنِ أَنَّ زَيْدًا كَانَ يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ ← يُونُسَ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2968

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2969

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يُقَاسِمُ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ ثُمَّ لَا يُنْقِصُهُ

حضرت زید بن ثابت کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک تہائی مال تک دادا کو بھائیوں کے ہمراہ حصہ دیا کرتے تھے پھر اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2969

chevron_left Previous
1…246247248…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door