Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2850

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ مُرَّةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ

سدی بیان کرتے ہیں میں نے مرہ سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا تم میں سے ہر شخص اس تک آئے گا یہ تمہارے رب کا طے شدہ فیصلہ ہے۔ تو مرہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے انہیں یہ حدیث سنائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لو جہنم کے پاس آئیں گے اور پھر اپنے عمل کے مطابق وہاں سے گزرجائیں گے ان میں سے پہلا شخص بجلی کی چمکنے کی طرح گزرے گا۔ بعد والا ہوا کی طرح اور پھر اس کے بعد والا تیز رفتار گھوڑے کی طرح پھر اس کے بعد سواری پر سوار کی طرح پھر اس کے بعد والا بھاگنے والے آدمی کی طرح اور پھر چلنے والے کی طرح۔

قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ← سَأَلْتُ مُرَّةَ ← السُّدِّيِّ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2850

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2851

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِالْمَوْتِ بِكَبْشٍ أَغْبَرَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ فَيُذْبَحُ وَيُقَالُ خُلُودٌ لَا مَوْتَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں موت کو ایک خاکی رنگ والے دنبے کی شکل میں لایا جائے گا اے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور پھر کہا جائے گا اہل جنت وہ لوگ جھانک کر دیکھیں گے پھر کہا جائے گا کہ اہل جہنم وہ لوگ جھانک کر دیکھیں گے وہ یہ سمجھیں گے اب ہمیں نجات مل جائے گی پھر موت کو ذبح کردیا جائے گا اور پھر یہ کہا جائے گا اب تم ہمیشہ یہاں ہی رہو گے تمیں موت نہیں آئے گی۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2851

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2852

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا لَسَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ حَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ

حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے میں تمیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرماتے رہے آپ نے اتنی مرتبہ ارشاد فرمائی کہ اگر وہ اس جگہ ہوتے جہاں حضرت نعمان اس وقت کھڑے تھے تو بازار والے لوگ بھی آپ کی بات سن لیتے حضرت نعمان بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ارشاد فرماتے رہے یہاں تک کہ پاؤں پر جو کمبل پڑا ہوا تھا وہ گر گیا۔

رَسُولَ اللهِ يَخْطُبُ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2852

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2853

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَكَانَ لَا يَدِينُ لِلَّهِ دِينًا وَإِنَّهُ لَبِثَ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ عُمُرٌ وَبَقِيَ عُمُرٌ فَعَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا فَدَعَا بَنِيهِ فَقَالَ أَيُّ أَبٍ تَعْلَمُونِي قَالُوا خَيْرُهُ يَا أَبَانَا قَالَ فَإِنِّي لَا أَدَعُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَخَذْتُهُ مِنْكُمْ أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ قَالَ فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا وَرَبِّي قَالَ أَمَّا أَنَا إِذَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ قَطُّ فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ قَالَ خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ قَالَ إِنِّي أَسْمَعُكَ لَرَاهِبًا قَالَ فَتِيبَ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَبْتَئِرُ يَدَّخِرُ

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ کا ایک بندہ تھا اس نے اللہ کی کوئی عبادت نہیں کی وہ زندہ رہا یہاں تک کہ اس کی زندگی گزر گئی اور کچھ وقت باقی رہ گیا اس نے سوچا کہ اس نے اللہ کی بارگاہ میں جانے کے لئے کوئی نیکی نہیں کی اس نے اپنے بچوں کو بلایا اور دریافت کیا کہ تمہارے علم کے مطابق میں کیسا باپ ہوں انہوں نے جواب دیا اباجان آپ ہمارے نزدیک بہت بہتر ہیں وہ شخص بولا تمہارے پاس میرا جو بھی مال موجود ہے وہ سب میں نے لینا ہے ورنہ تم وہ ہی کرنا جو میں کہوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں اس نے ان سے پختہ عہد لیا اور بولا جب میں مر جاؤں تو تم مجھے پکڑ کر جلا دینا یہاں تک کہ جب میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے کوٹ کر ہوا میں اڑا دینا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ان بچوں نے ایسا ہی کیا محمد کے پروردگار کی قسم جب وہ شخص مر گیا تو اسے زندگی سے زیادہ اچھی شکل میں لایا گیا اور پروردگار کی بارگاہ میں پیش کیا گیا پروردگار نے دریافت کیا تم نے آگ میں جلنے کا عمل کیوں کیا وہ شخص بولا اے میرے پروردگار تجھ سے خوف زدہ تھا تو پروردگار نے فرمایا کہ مجھے پتہ ہے کہ تم نے خوف زدہ ہو کر ایسا کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں پھر اس شخص کی توبہ قبول ہوگئی۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والا ایک لفظ "یبتئر" کا مطلب ذخیرہ کرنا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2853

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2854

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ فَقِيلَ لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِيهَا وَسَقَيْتِيهَا وَلَا أَنْتِ أَرْسَلْتِيهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک عورت بلی کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی اس سے کہا گیا تم نے اسے کھلایا پلایا بھی نہیں اور اسے چھوڑا بھی نہیں کہ وہ خود کچھ کھا پی لیتی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2854

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2855

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ بْنِ مِقْلَاصٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَكُنْيَتُهُ أَبُو يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَنْهَشُهُ وَتَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ وَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا نَبَتَتْ خَضْرَاءُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبر میں کافر شخص پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جائیں گے جو قیامت تک اسے کاٹتے رہیں گے اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک ماردے تو وہاں کبھی سبزہ نہ اگے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبَا الْهَيْثَمِ ← دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ بْنِ مِقْلَاصٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَكُنْيَتُهُ أَبُو يَحْيَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2855

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2856

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاكَ حَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ هَبْهَبُ يَسْكُنُهُ كُلُّ جَبَّارٍ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ

محمد بن واسع بیان کرتے ہیں میں نے حضرت بلال بن ابوبردہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی آپ کے والد نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ہے آپنے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ہبہب ہے۔ ہرجابر شخص اس میں رہے گا۔ (حضرت محمد بن واسع کہتے ہیں میں نے حضرت بلال بن ابوبردہ سے کہا) تم اس بات سے بچو کہ ان میں شامل ہو جاؤ۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← دَخَلْتُ عَلَى بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاكَ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2856

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2857

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِي النَّارِ وَأَمَّا نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَإِنَّ النَّارَ تُصِيبُهُمْ عَلَى قَدْرِ ذُنُوبِهِمْ فَيُحْرَقُونَ فِيهَا حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَيُنْثَرُونَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يُفِيضُوا عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ قَالَ فَيُفِيضُونَ عَلَيْهِمْ فَتَنْبُتُ لُحُومُهُمْ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل نار وہ ہی لوگ ہیں جو اہل جہنم ہیں وہ جہنم میں مریں گے نہیں البتہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جہنم کا عذاب ان کے گناہوں کے حوالے سے دیا جائے گا وہ اس میں جلتے رہیں گے یہاں تک کہ جب وہ لوگ کوئلہ ہوجائیں گے تو ان کے بارے میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی وہ لوگ جہنم سے نکلیں گے تو برے حال میں ہوں گے انہیں جنت کی نہروں میں ڈالا جائے گا جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی بہاؤ ان پر پانی بہایا جائے گا تو ان کا گوشت یوں اگے گا جیسے سیلاب کی گزرگاہ سے کوئی دانہ اگ جاتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2857

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2858

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ

حضرت عبداللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔

لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ ← النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أبي صادق ← عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ← شَرِيکٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2858

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2859

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْؤُسُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ نعمتیں حاصل کرے گا اور کبھی محتاج نہیں ہوگا اس کے کپڑے میلے نہیں ہوں گے اس کی جوانی کبھی ختم نہیں ہوگی اس کے لئے جنت میں ایسی نعمتیں موجود ہوں گی جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھی ہوں گی اور کسی کے کانوں نے سنی نہیں ہوگی اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہوگا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2859

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2860

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنْ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ الْآيَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنت میں ایک لکڑی کی جگہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ سکتے ہو۔ ہر شخص نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تمہیں قیامت کے دن پورا اجر دیا جائے گا جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ شخص کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی چیز ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2860

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2861

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُدِلَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا قَالَ لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ مِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا الْيَاقُوتُ وَاللُّؤْلُؤُ وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلْهَا يَخْلُدْ فِيهَا يَنْعَمُ لَا يَبْؤُسُ لَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ جنت کی تعمیرات کس چیز کی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی ایںٹیں سونے کی بھی ہیں اور چاندی کی بھی ہیں اور اس کا گارہ مشک کا ہے اس کے پتھروں میں یاقوت ہیں اور موتی ہیں اس کی مٹی زعفران کی ہے جو شخص اس میں داخل ہوجائے گا وہ ہمیشہ اس میں رہے گا اور ہمیشہ خوش رہے گا اور اس کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی اس کی جوانی رخصت نہیں ہوگی اس کے کپڑے میلے نہیں ہوں گے اس کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے۔

قُلْنَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو مُدِلَّةَ أَنَّهُ ← أَبِي مُجَاهِدٍ، ← سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2861

Sahih

chevron_left Previous
1…237238239…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door