Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2790

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى

حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا آپ نے مجھے عطا کردیا میں نے پھر آپ سے کچھ مانگا آپنے پھر مجھے عطا کردیا۔ میں نے پھر آپ سے مانگا آپ نے پھر مجھے عطا کردیا میں نے پھر آپ سے مانگا تو آپ نے ارشاد فرمایا اے حکیم یہ مال سرسبز مزیدار ہے جو اسے نفس کی سخاوت کے ہمراہ حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو شخص اسے لالچ کے ذریعے حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو کھاتا رہتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہترہے۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2790

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2791

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَعَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ

حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے ماؤں کی نافرمانی کرنے خوامخواہ منع کرنے اور فضول بحث ومباحثہ کرنے اور بکثرت مانگنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع کیا ہے۔

وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ» ← قِيلَ ← مَنْعٍ وَهَاتِ، ← وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةِ، ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2791

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2792

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ

حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے پیشواؤں کا اندیشہ ہے۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2792

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2793

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نُصْرَةٌ وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی کو اپنے بھائی کی مدد کرنی چاہیے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو اگر وہ ظالم ہو تو اسے اس سے روک دینا چاہیے وہ اس کے لئے مدد ہوگی اگر وہ مظلوم ہے تو پھر اس کی مدد کرے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2793

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2794

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَنَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالَ قُلْنَا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا دین خیرخواہی کا نام ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے دریافت کیا کس کے لئے یا رسول اللہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اللہ کے لئے اس کے رسول کے لئے اس کی کتاب کے لئے مسلمانوں کے پیشواؤں اور عام مسلمانوں کے لئے خیرخواہی کا نام ہے۔

قُلْنَا لِمَنْ ← لَنَا رَسُولُ اللَّهِ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ← ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَنَافِعٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2794

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2795

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا أَظُنُّ حَفْصًا قَالَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ قِيلَ وَمَنْ الْغُرَبَاءُ قَالَ النُّزَّاعُ مِنْ الْقَبَائِلِ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا اسلام آغاز میں غریب وطن تھا اور یہ عنقریب غریب الوطن ہوجائے گا راوی کہتے ہیں شاید میرے استاد نے یہ بات نقل کی تھی کہ اس لئے غریب الوطن کےلیے خوش خبری ہے عرض کی گئی غریب الوطن کون ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےجواب دیا قبیلوں سے تعلق رکھنے والے مسافر۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2795

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2796

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتا اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند نہیں کرتا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسری زوجہ نے عرض کی ہمیں تو مرنا پسند نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ بلکہ مومن شخص کے پاس جب موت کا وقت آجائے تو اللہ کی رضامندی اور اس کی عطا کردہ بزرگی کی خوش خبری دی جاتی ہے اس وقت اس کے نزدیک کوئی چیز اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے جبکہ کافر کے پاس موت کا وقت آجائے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی وعید سنائی جاتی ہے تو اس کے نزدیک آگے آنے والے وقت سے زیادہ ناپسند کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس لئے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2796

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2797

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے لوگ کہاں ہیں آج میں انہیں سایہ عطا کروں گا۔ ایسے دن جب میرے سایے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← مَالِكٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2797

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2798

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ إِحْسَانًا وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے کوئی بھی شخص موت کی تمنا نہ کرے اگر وہ نیک ہوگا تو اس کی نیکی میں اضافہ ہوگا اگر وہ گناہ گار ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ وہ نیکی کرنے لگ جائے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2798

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2799

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ وَهْبٌ بِالسَّبَّاحَةِ وَالْوُسْطَى

حضرت انس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں مجھے اور قیامت کو ان دوانگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔

وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ وَهْبٌ بِالسَّبَّاحَةِ وَالْوُسْطَى ← بُعِثْتُ ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2799

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2800

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ

بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تم نے ستر امتوں کو پورا کردیاہے تم ان میں سب سے آخری امت ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والے ہو۔

إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2800

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2801

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ فُلَانٌ فَغَمَزَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ إِنَّهُ وَإِنَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا قَالُوا بَلَى قَالَ فَلَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ارشاد فرمایا فلاں شخص کہاں ہے ایک شخص نے اس کے بارے میں برا کہتے ہوئے کہا وہ تو ایسا ایساہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا وہ بدر میں شریک نہیں ہوا تھا لوگوں نے عرض کی جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر یہ فرمایا تھا کہ تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2801

chevron_left Previous
1…232233234…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door