Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2610

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ مِنْ أَوَاخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ نَهَى عَنْ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورت بقرہ کے آخر میں ربا سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے ان آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھا پھر آپ نے انہیں شراب کی خرید و فروخت سے منع کردیا اور شراب کی خرید و فروخت حرام قرار دے دی۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2610

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2611

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِبَاغُهَا طَهُورُهَا وَسَأَلْتُهُ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ مِنْهَا هَذِهِ الْخُمُورَ فَنَبِيعُهَا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَوْ دَوْسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةً مِنْ خَمْرٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا عَلِمْتَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا قَالَ لَا وَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا فَالْتَفَتَ إِلَى غُلَامِهِ فَقَالَ اخْرُجْ بِهَا إِلَى الْحَزْوَرَةِ فَبِعْهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مَا عَلِمْتَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَأُفْرِغَتْ فِي الْبَطْحَاءِ

حضرت عبدالرحمن بن وعلہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مردار کی کھال کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا دباغت کے ذریعے وہ پاک ہوجاتی ہے۔ ذمیوں کے ساتھ شراب کی خرید و فروخت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے ہاں انگور ہوتے ہیں۔ اور ہم انہیں سے شراب بنایا کرتے تھے اور ذمیوں کو فروخت کردیتے تھے حضرت ابن عباس نے بتایا کہ ثقیف یا شاید دوس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نبی اکرم کی خدمت میں حجۃ الوداع کے موقع پر شراب کا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کیا۔ نبی اکرم نے اس سے فرمایا اے ابوفلاں کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ اللہ نے اسے حرام قرار دیاہے اس نے عرض کی نہیں اللہ کی قسم مجھے اس بات کا علم نہیں ہے نبی اکرم نے فرمایا اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر بولا اسے لے جا کر بازار میں فروخت کردو۔ نبی اکرم نے اس سے فرمایا اے ابوفلاں کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ اللہ نے جس چیز کو حرام کیا ہوا ہے اسے فروخت کرنا بھی حرام کیا ہے راوی بیان کرتے ہیں پھر آپ کی ہدایت کے تحت اس شراب کو میدان میں بہا دیا گیا۔

جُلُودِ الْمَيْتَةِ فَقَالَ ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2611

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2612

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ قَالَ عَبْد اللَّهِ الْأَمْرُ عَلَى هَذَا لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں حکم یوں ہی ہے ولاء کو نہ تو فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہبہ کیا جاسکتا ہے۔

عَبْد اللَّهِ الْأَمْرُ عَلَى هَذَا لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ ← بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2612

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2613

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَّا عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ قَالَ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ قَالَ جَابِرٌ وَإِنَّمَا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری بیان کرتے ہیں ہم میں سے ایک شخص نے مدبر غلام کو آزاد کر دیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بلوا کر اسے فروخت کروا دیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ شخص اس سے اگلے برس انتقال کر گیا۔

جَابِرٌ وَإِنَّمَا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ ← فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ فَبَاعَهُ ← دُبُرٍ ← أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَّا عَبْدًا لَهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2613

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2614

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کسی شخص کی کنیز اس کے بچے کو جنم دے تو وہ اس شخص کے مرنے کے بعد آزاد ہوجائے گی۔

دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ ← إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← شَرِيکٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2614

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2615

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَنَفِيُّ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ يَعْنِي الْمَدِينَةَ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ ان (مدینے والوں) کے ماپنے کے آلات میں برکت عطا کر صاع اور ان کے مد میں برکت عطا کر (راوی کہتے ہیں اہل مدینہ کے بارے میں دعاکی ہے)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَنَفِيُّ الْمَدَنِيُّ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2615

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2616

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ بِلَالٍ قَالَ كَانَ عِنْدِي مُدُّ تَمْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ أَطْيَبَ مِنْهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا يَا بِلَالُ قُلْتُ اشْتَرَيْتُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ قَالَ رُدَّهُ وَرُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا

حضرت بلال بیان کرتے ہیں میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوروں کا ایک مد موجود تھا مجھے اس سے زیادہ اچھی کھجوریں ملی تو میں نے دو صاع کے عوض میں ایک صاع خرید لی انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ نے دریافت کیا اے بلال یہ تمہیں کہاں سے ملی ہیں میں نے عرض کی میں نے دو صاع کے عوض میں ایک صاع خریداہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم انہیں واپس کردو اور ہماری کھجوریں واپس لے آؤ۔

بِلَالٍ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2616

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2617

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ يَعْنِي جَيِّدًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنْ الْجَمْعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعدی سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری صاحب کو خیبر کا عامل مقرر کیا وہ خیبر سے عمدہ کھجوریں لے کر آئے (اس حدیث کے راوی عبداللہ بن مسلمہ فرماتے ہیں حدیث میں لفظ جدید سے مراد عمدہ ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عامل سے دریافت کیا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہوتی ہیں اس نے عرض کی نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ ہم نے دو صاع عام کھجوروں کے عوض میں ان کا ایک صاع خریدا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ ان کی برابر، برابر خرید و فروخت کیا کرو یا پھر انہیں فروخت کر کے ان کی قیمت کے ذریعے دوسری کھجوریں حاصل کرلو وزن کے ذریعے خرید و فروخت کی جانے والی چیزوں میں بھی ایسا ہی کرو۔

أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← سُلَيْمَانَ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2617

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2618

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ هَاءَ وَهَاءَ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ هَاءَ وَهَاءَ وَلَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا

حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے سونے کو سونے کے عوض میں دست بدست اور چاندی کو چاندی کے عوض میں دست بدست اور کھجور کو کھجور کے عوض میں دست بدست اور گندم کو گندم کے عوض میں دست بدست اور جو کو جو کے عوض میں دست بدست فروخت کرو ان میں کوئی کمی بیشی نہ کرو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مالك بن أوس بن الحدثان النصري ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2618

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2619

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ قَامَ نَاسٌ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ يَبِيعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْعَطَاءِ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى

ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ کے عہد حکومت میں کچھ لوگوں نے تنخواہ کے عوض میں سونے اور چاندی کے برتن فروخت کئے تو حضرت عبادہ بن صامت کھڑے ہوئے اور فرمایا بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو اور گندم کے عوض میں گندم اور کھجوروں کے عوض میں کھجور اور جو کے عوض میں جو اور نمک کے عوض میں نمک کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ انہیں برابر فروخت کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ دونوں ایک جیسے ہوں جب کوئی شخص ان میں کوئی اضافہ کرے گا یا کرو ائے گا تو وہ سودی لین دین ہوگا۔

أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2619

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2620

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي الدَّيْنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ مَعْنَاهُ دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت اسامہ بن زید نے مجھے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود ادھار میں ہوتا ہے امام محمد دارمی فرماتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ دو درہم کے عوض میں ایک درہم (قرض دیا جائے)

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2620

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2621

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ وَرُبَّمَا قَالَ أَقْبِضُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ قَالَ لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِكَ مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کئے میں نے انہیں دیناروں کے عوض میں فروخت کیا تھا لیکن معاوضے میں درہم وصول کرلیے اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ میں نے درہم کے عوض میں فروخت کیا اور دینار وصول کرلیے (اس روایت کے الفاظ میں اختلاف ہے) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے انہیں قبضے میں لیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کئے ہیں میں نے انہیں دینار کے عوض میں فروخت کیا ہے اور معاوضے میں درہم وصول کئے یا درہم کے عوض میں فروخت کیا تھا اور معاوضے میں دینار وصول کرلیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر تم نے آج کے سودے میں خریداہے جب تک تم دونوں فریق جدا نہ ہوئے ہو اور تمہارے درمیان کوئی اور شرط نہیں تھی۔ (یا قیمت کی ادائیگی باقی نہ رہ گئی تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2621

chevron_left Previous
1…217218219…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door