Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2442

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ حَارِسَ الْحَرَسِ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَلْقَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ

حضرت عقبہ بن عامرجہنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں پہرہ دینے والے شخص پر اللہ تعالیٰ رحم کرے۔ امام ابو عبداللہ دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث کے راوی عمربن عبدالعزیز نے حضرت عقبہ بن عامر سے ملاقات نہیں کی ہے۔

عَبْد اللَّهِ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَلْقَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ← رَحِمَ اللَّهُ حَارِسَ الْحَرَسِ ← النَّبِيِّ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← صالح بن محمد بن زائدة ← ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2442

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2443

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ

حضرت ابومسعود انصاری بیان کرتے ہیں ایک شخص لگام والی اونٹنی کو لے کر آیا اور عرض کی یہ اللہ کی راہ میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کے عوض قیامت کے روز تمہیں سات سو اونٹنیاں ملیں گی جن میں سے ہر ایک کی لگام موجود ہوگی۔

هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ← جاء رجل بناقة مخطومة، ← أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2443

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2444

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ يَسُوقُ جَمَلًا أَوْ يَقُودُهُ فِي عُنُقِهِ قِرْبَةٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُكَ قَالَ لِي عَمَلِي فَقُلْتُ مَا مَالُكَ قَالَ لِي عَمَلِي قُلْتُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هُوَ دِرْهَمَيْنِ أَوْ أَمَتَيْنِ أَوْ عَبْدَيْنِ أَوْ دَابَّتَيْنِ

حضرت صعصعہ بن معاویہ بیان کرتے ہیں میری حضرت ابوذرغفاری سے ملاقات ہوئی وہ اپنے اونٹ کو لے کر جارہے تھے ان کی گردن میں ایک مشکیزہ تھا میں نے عرض کی اے ابوذریہ کیا ہے؟ جواب دیا میرا عمل میرے ساتھ ہے میں نے کہا کہ مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو انہوں نے جواب دیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے جو شخص مال میں سے کسی بھی چیز کاجوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے توجنت کے نگران تیزی سے ان کی طرف لپکتے ہیں۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس روایت میں جوڑے سے مراد) دو درہم دو کنیزیں دو غلام یا دو جانور ہیں۔

صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2444

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2445

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ

حضرت عقبہ بن عامرکے بارے میں منقول ہے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔" اور ان کے لئے اپنی گنجائش کے مطابق طاقت کی تیاری کرو"۔ یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد بولے قوت سے مراد تیراندازی ہے۔

أبي الخير مرثد بن عبد الله ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2445

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2446

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالْمُمِدَّ بِهِ وَالرَّامِيَ بِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْمُوا وَارْكَبُوا وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَقَالَ كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنْ الْحَقِّ وَقَالَ مَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا اسے بنانے والے کو جو اسے بنا کر بھلائی کے اجر کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کی مدد کرنے والے کو اور اس تیر کو پھینکنے والے کو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تیراندازی کرو اور سواری کرو تمہارا تیراندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان جو بھی کھیل کھیلتا ہے وہ باطل ہے ماسوائے انسان کے اپنے کمان کے ذریعے تیر پھینکنے کے اور اپنے گھوڑے کی تربیت کرنے کے اور اپنی بیوی کے ہنسی مذاق کرنے کے۔ یہ درست ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے سیکھ لینے کے بعد جو شخص تیراندازی کو ترک کردیتا ہے وہ اس کا کفران نعمت کرتا ہے جو اس نے سیکھاہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ← أَبِي سَلَّامٍ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2446

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2447

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَمِّي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَجْرُوحٍ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَدْمَى الرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بھی شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا تو اس کے زخم سے جو خون بہہ رہا ہوگا اس کی خوشبو مشک کی مانند ہوگی اور اس کا رنگ خون جیسا ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمِّي مُوسَى بْنُ يَسَارِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2447

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2448

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ

سہل بن ابوامامہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگے اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے پر فائز کرے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی فوت ہوجائے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← القاسم بن كثير،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2448

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2449

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ أَلَمِ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ أَلَمِ الْقَرْصَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے شہید ہونے والا شخص قتل ہونے کی اتنی ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جتنی کسی شخص کو چیونٹی کے کاٹنے سے تکلیف ہوتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2449

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2450

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَتَوَدُّ أَنَّهَا رَجَعَتْ إِلَيْكُمْ وَلَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدَ فَإِنَّهُ وَدَّ أَنَّهُ قُتِلَ كَذَا مَرَّةً لِمَا رَأَى مِنْ الثَّوَابِ

حضرت انس روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو بھی شخص مر کر جنت میں چلا جائے گا ان میں سے کوئی یہ خواہش نہیں کرے گا کہ وہ تمہارے پاس واپس آجائے اور اسے دنیا میں موجود سب کچھ مل جائے البتہ شہید یہ آرزو کرے گا کہ اسے اسی طرح دوبارہ قتل کیا جائے اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ شہادت کا اجروثواب اتنا دیکھ لے گا کہ اس کی دوبارہ آرزو کرے گا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2450

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2451

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ وَلَوْلَا عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يُحَدِّثْنَا أَحَدٌ قَالَ أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شَاءُوا ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَنَادِيلِهَا فَيُشْرِفُ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ فَيَقُولُ أَلَكُمْ حَاجَةٌ تُرِيدُونَ شَيْئًا فَيَقُولُونَ لَا إِلَّا أَنْ نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى

مسروق بیان کرتے ہیں ہم نے عبداللہ سے شہداء کی ارواح کے بارے میں دریافت کیا اگر وہ نہ ہوتے تو شاید ہمیں کوئی اس کے بارے میں نہ بتاتا جواب دیا قیامت کے دن شہداء کی ارواح اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہوں گی ان کےلئے عرش کے ساتھ قندیلیں لٹکی ہوں گی وہ ارواح جنت میں جہاں چاہیں گی سیر کرسکیں گی اور پھر واپس ان قندیلوں میں آجائیں گی ان کا پروردگار ان کے سامنے ظہور کر کے دریافت کرے گا کیا تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے کیا تم کچھ چاہتے ہو؟ وہ جواب دیں گے نہیں البتہ ہم دنیا میں جانا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں دوبارہ شہید کیا جائے۔

أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ وَلَوْلَا عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يُحَدِّثْنَا أَحَدٌ ← سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2451

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2452

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى هُوَ الصَّدَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيِّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَتْلَى ثَلَاثَةٌ مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُمْتَحَنُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ تَحْتَ عَرْشِهِ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ وَمُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ مُمَصْمِصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَمُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَاكَ فِي النَّارِ إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ قَالَ عَبْد اللَّهِ يُقَالُ لِلثَّوْبِ إِذَا غُسِلَ مُصْمِصَ

عتبہ بن عبدسلمی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قتل ہونے والے تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ مومن جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرتا ہے جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے تو اسے شہید کردیا جاتاہے۔ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ وہ شہید ہے جس سے اللہ کے خیمے میں یعنی خاص رحمت میں امتحان لیا جائے گا جو اس کے عرش کے نیچے ہوگا انبیاء کو اس شخص پر صرف نبوت کے مرتبہ کی فضیلت ہوگی۔ ایک وہ مومن جو نیک اعمال کرتا ہے اور برے اعمال بھی کرتا ہے اور پھر اپنے مال اور جان کے ذریعے جہاد کرتا ہے جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے تو اس سے لڑتے ہوئے شہید ہوجاتاہے۔ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک صفائی کے ذریعے اس کے گناہ اور خطائیں مٹ جائیں گی بے شک تلوار غلطیوں کو مٹادیتی ہے اور وہ شخص جس دروازے سے چاہے گا جنت میں داخل ہوجائے گا ایک وہ منافق جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد کرتا ہے جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے تو لڑتے ہوئے ماراجاتا ہے یہ جہنم میں جائے گا کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاسکتی۔ امام دارمی فرماتے ہیں جب کپڑے کو دھویا جاتا ہے تو اس کے لئے لفظ مصمص استعمال ہوتا ہے ۔ (اوریہی لفظ اس حدیث میں استعمال ہواہے۔

عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← أَبِي الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيِّ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى هُوَ الصَّدَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2452

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2453

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْهُ إِلَّا الْفَرَائِضَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهَلْ ذَلِكَ مُكَفِّرٌ عَنْهُ خَطَايَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا قُتِلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّهُ مَأْخُوذٌ بِهِ كَمَا زَعَمَ لِي جِبْرِيلُ

عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دینا شروع کیا اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی پھر جہاد کا ذکر کیا اس سے افضل صرف فرائض ہیں ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ آپ کے خیال میں جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے تو کیا اس کے گناہ ختم ہوجائیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب وہ صبر کرتے ہوئے اور ثواب کے حصول کی نیت کرتے ہوئے دشمن کا سامنا کرتے ہوئے پیٹھ پھیرے بغیر ماراجائے تو اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے البتہ قرض معاف نہیں ہوگا اسے اس کی وجہ سے پکڑا جائے گا جبرائیل نے مجھے اسی طرح بتایاہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2453

chevron_left Previous
1…203204205…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door