Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 229

220. أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرلے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کرتا ہے ۔

مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ، ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 229

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 230

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا بِمَكَانِي هَذَا فَرَحِمَ اللَّهُ مَنْ سَمِعَ مَقَالَتِي الْيَوْمَ فَوَعَاهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ وَلَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ فِي هَذَا الشَّهْرِ فِي هَذَا الْبَلَدِ وَاعْلَمُوا أَنَّ الْقُلُوبَ لَا تُغِلُّ عَلَى ثَلَاثٍ إِخْلَاصِ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَمُنَاصَحَةِ أُولِي الْأَمْرِ وَعَلَى لُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ

حضرت معاویہ روایت کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عبد الرحمن بن الحويرث ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 230

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 231

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى فَقَالَ نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ أَدَّاهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَطَاعَةُ ذَوِي الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِمْ

محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حجتہ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ دیا وہ اس میں شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے لوگو۔ اللہ کی قسم مجھے اس کا علم نہیں ہے شاید آج کے بعد میں اس جگہ پر تم سے نہ مل سکوں اللہ اس شخص پر رحم کرے جو آج میری بات سن کر اسے محفوظ کرلے کیونکہ بہت لوگ صاحب علم کہلاتے ہیں حالانکہ ان کے پاس علم نہیں ہوتا اور بعض لوگ اہل علم ہوتے ہیں لیکن دوسرے ان سے زیادہ اہل علم ہوتے ہیں تم یہ بات جان لو تمہارے مال تمہارے خون تمہارے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے آج کا یہ دن قابل احترام ہے اور یہ مہینہ قابل احترام ہے اور یہ شہر قابل احترام ہے۔ یہ بات جان لو تین چیزوں کے بارے میں خیانت نہ کرنا ایک عمل کا اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا، دوسرا حاکم وقت کے لئے خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ ان کی دعا بعد والے لوگوں پر بھی محیط ہوتی ہے۔

نَضَّرَ الله عَبْدًا ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 231

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 232

أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ فَقُلْتُ مَا خَرَجَ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَعَمْ سَأَلَنِي عَنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ فَأَدَّاهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ لَا يَعْتَقِدُ قَلْبُ مُسْلِمٍ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَالنَّصِيحَةُ لِوُلَاةِ الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ وَمَنْ كَانَتْ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ الدُّنْيَا نِيَّتَهُ فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ شَمْلَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى قَالَ هِيَ الظُّهْرُ

محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی میں خیف کے مقام پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے گا جو ہماری بات سن کر اسے محفوظ کرلے اور اسے پھر دوسرے اس شخص تک پہنچادے جس نے اسے براہ راست نہیں سنا کیونکہ بعض علم والوں کو حقیقی علم نہیں ہوتا اور بعض اوقات ایک علم والا دوسرے ایسے شخص تک علم منتقل کرتا ہے جو زیادہ سمجھدار ہوتا ہے تین باتوں میں مسلمان کا دل دھوکا نہیں دیتا ایک عمل کا اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہونا، دوسرا حاکم وقت کی پیروی کرنا اور تیسرا مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا چونکہ ان کی غیر موجوگی میں ان کی دعا موجود لوگوں کے لئے بھی ہوتی ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 232

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 233

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ عَنْ أَبِي الْعَجْلَانِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَالنَّصِيحَةُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ دُعَاءَهُمْ يُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ

حضرت زید بن ثابت، مروان بن حکم کے ہاں سے دوپہر کے وقت باہر نکلے راوی کا بیان ہے میں نے دریافت کیا آپ اس وقت مروان کے ہاں سے کیوں آرہے ہیں۔ ضرور اس نے آپ سے کوئی سوال کیا ہوگا میں حضرت زید کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا انہوں نے جواب دیا ہاں اس نے مجھ سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا تھا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے آپ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے جو ہماری زبانی کوئی بات سن کر اسے یاد کرلے اور اسے اس شخص تک منتقل کر دے جو اس سے زیادہ بہتر طور اسے یاد رکھے کیونکہ بعض اوقات علم رکھنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات علم رکھنے والا شخص کسی ایسے شخص تک بات منتقل کر دیتا ہے جو زیادہ بڑا عالم ہو۔ جس مسلمان کا دل تین باتوں پریقین رکھے گا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا راوی بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا وہ کیا باتیں ہیں آپ نے ارشاد فرمایا عمل میں اخلاص، حکام کے لئے خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم کرنا چونکہ ان کی دعا غیر موجود لوگوں پر بھی محیط ہوتی ہے۔ جس شخص کی نیت آخرت ہوگی اللہ تعالیٰ اس شخص کے دل میں بے نیازی پیدا کردے گا اور اس کے تمام معاملات سیدھے کردے گا دنیا اس کے پاس سرجھکا کر آئے گی لیکن جس شخص کی نیت دنیا کا حصول ہوگی اللہ اس کے معاملات بکھیر دے گا اس کے فقر کو اس کے سامنے کردے گا اور دنیا اسے اس کی نصیب کے مطابق ملے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے ان سے نماز وسطی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا اس سے مراد ظہر کی نماز ہے۔

نَضَّر الله امْرأً ← خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي الْعَجْلَانِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ مُوسَی

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 233

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 234

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اللہ اس شخص کو خوش رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اسے اسی طرح آگے پہنچائے جیسے سنی ہے کیونکہ بعض اوقات جس شخص تک بات پہنچائی جاتی ہے وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں بہتر طور پر اسے یاد رکھ سکتا ہے ۔ تین باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا ایک عمل کا اللہ کے لئے خالص ہونا دوسرا ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی اور تیسرا مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ ان کی دعا غیر موجود لوگوں پر بھی محیط ہوتی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 234

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 235

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے اسے جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 235

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 236

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹ بات منسوب کرے اسے جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

مَنْ حَدَّثَ عَنِّي كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ ← النَّبِيِّ ← الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 236

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 237

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت عبداللہ بن عروہ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جو شخص میرے حوالے سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرے اسے جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ← الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 237

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 238

أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَتَّابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ أُخْطِئَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِأَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ أَنِّي سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

عمر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی بات منسوب کرے اسے جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عتاب ← شُعْبَةُ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 238

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 239

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَعَنْ التَّيْمِيِّ وَعَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس بن مالک ارشاد فرماتے ہیں اگر مجھے یہ خوف نہ ہو کہ میں غلطی کر جاؤں گا تو میں تمہیں بہت سی ایسی احادیث سناتا جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں یا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہیں لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جو شخص جان بوجھ کر میری طر ف کوئی بات جھوٹی منسوب کرے اسے جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ← التَّيْمِيِّ ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 239

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 240

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ فَلَا يَقُلْ إِلَّا حَقًّا أَوْ إِلَّا صِدْقًا وَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس بن مالک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے اسے جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» ← عَلَيَّ فَلَا يَقُلْ إِلَّا حَقًّا أَوْ إِلَّا صِدْقًا وَمَنْ ← عَلَى الْمِنْبَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي فَمَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 240

chevron_left Previous
1…192021…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door