Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2926

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ كَانَ يُشَرِّكُ

قاضی شریح کے بارے میں منقول ہے وہ انہیں شریک کیا کرتے تھے۔

شُرَيْحٍ أَنَّهُ كَانَ يُشَرِّكُ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدٍ

Hadith 2926

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2927

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ فَيْرُوزَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ فِي الْمُشَرَّكَةِ لَمْ يَزِدْهُمْ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا

سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وراثت میں شریک کرنے کے حوالے سے حضرت عمر نے یہ بات بیان فرمائی ہے باپ صرف قرب میں اضافہ کرتا ہے۔

فِي الْمُشَرَّكَةِ لَمْ يَزِدْهُمْ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا ← أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ فَيْرُوزَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← الْحَجَّاجِ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Hadith 2927

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2928

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي فَرِيضَةِ بَنِي عَمٍّ أَحَدُهُمْ أَخٌ لِأُمٍّ فَقَالَ الْمَالُ أَجْمَعُ لِأَخِيهِ لِأُمِّهِ فَأَنْزَلَهُ بِحِسَابِ أَوْ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ سَأَلْتُهُ عَنْهَا وَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ لِأَزِيدَهُ عَلَى مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ سَهْمٌ السُّدُسُ ثُمَّ يُقَاسِمُهُمْ كَرَجُلٍ مِنْهُمْ

حارث اعور بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ کی خدمت میں دو چچازاد بھائیوں کی وراثت کامسئلہ لایا گیا جس میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا یہ سارا مال اس کے ماں کی طرف سے شریک بھائی کو مل جائے گا انہوں نے تقسیم میں اس بھائی کو سگے بھائی کی مانند قرار دیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا اور حضرت عبداللہ کے جواب سے بھی آگاہ کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا اللہ ان پر رحم کرے اگر وہ حقیقی عالم ہوتے تو یہ فتوی نہ دیتے میں اس کے حصے میں اس چیز سے اضافہ نہیں کروں گا جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے وہ چھٹاحصہ ہے پھر وہ ان لوگوں کے درمیان ان کے ایک عام فرد کی مانند وراثت تقسیم کرتے۔

الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 2928

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2929

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ أُتِيَ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ فَقِيلَ لِعَلِيٍّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُعْطِيهِ الْمَالَ كُلَّهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا وَلَوْ كُنْتُ أَنَا أَعْطَيْتُهُ السُّدُسَ وَمَا بَقِيَ كَانَ بَيْنَهُمْ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے ان کی خدمت میں دو چچازاد بھائیوں کامسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہا گیا کہ حضرت ابن مسعود ایسے شخص کو پورے مال کا حق دار قرار دیتے ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اگر وہ (واقعی عالم ہوتے تو یہ فتوی نہ دیتے) میں اس کو چھٹا حصہ دیتا ہوں جبکہ بقیہ مال ان وارثوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا۔

الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2929

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2930

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَإِلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا عَنْ بِنْتٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ لِأُمٍّ وَأَبٍ فَقَالَا لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ وَأْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنَا فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُهْتَدِينَ وَإِنِّي أَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ

ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت ابوموسی اشعری اور حضرت سلمان بن ربیعہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے ان دونوں حضرات سے ایک بیٹی اور پوتی اور سگی بہن کی وراثت کا مسئلہ دیافت کیا تو ان دونوں حضرات نے یہ جواب دیا بیٹی کو نصف حصہ ملے گا باقی بچ جانے والا مال بہن کو ملے گا پھر وہ بولے تم حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے بارے میں دریافت کرو۔ وہ بھی ہمارے مطابق فتوی دیں گے وہ شخص حضرت عبداللہ کی خدمت میں آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا اگر میں بھی یہی جواب دوں تو میں تو گمراہی کا شکار ہوجاؤں گا۔ میں ہدایت یافتہ نیہں رہوں گا۔ میں اس بارے میں وہی فیصلہ فرماؤں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں دیا تھا بیٹی کو نصف حصہ ملے گا پوتی کو چھٹاحصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال بہن کو ملے گا۔

هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2930

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2931

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ قَالَ لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ فَسَمِعَ قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ قَالَ أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ قَالَ زَيْدٌ فِيهَا قَالَ شَرَّكَ بَيْنَهُمْ

مسروق بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ سگی بہنوں باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہیں سگی بہنوں کو دوتہائی حصہ ملے گا اور جو باقی بچ جائے گا وہ بھائیوں کو ملے گا بہنوں کو نہیں ملے گا جو صرف باپ کی طرف سے بہن بھائی ہوں گے۔ مسروق مدینہ آئے انہوں نے اس بارے میں حضرت زید کا فرمان سنا تو وہ انہیں بہت پسند آیا ان کے ساتھیوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ حضرت عبداللہ کے قول کو ترک کر دیں انہوں نے جواب دیا جب میں مدینہ آیا تو میں نے حضرت زید بن ثابت کو علم وراثت کے ماہرین میں ایک پایا۔ امام احمد ارشاد فرماتے ہیں میں نے ابوشہاب سے دریافت کیا حضرت زید نے اس بارے میں کیا فتوی دیا ہے تو انہوں نے جواب دیا ان بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کا حصہ قرار دیا ہے۔

شَرَّكَ بَيْنَهُمْ ← زَيْدٌ فِيهَا ← أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ ← إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ ← لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ ← لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ ← فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 2931

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2932

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ أَنَّهُ كَانَ يُعْطِي لِلْأَخَوَاتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَالَ حَكِيمٌ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَرِثَ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ إِنَّ إِخْوَتَهُنَّ قَدْ رُدُّوا عَلَيْهِنَّ

اسماعیل بیان کرتے ہیں ہم نے حکیم بن جابر کے پاس یہ بات ذکر کی کہ حضرت ابن مسعود سگی بہنوں اور باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ فتوی دیتے ہیں کہ سگی بہنوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال باپ کی طرف سے بھائیوں کو ملے گا باپ کو کچھ نہیں ملے گا تو حکیم نے جواب دیا حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کا کام ہے کہ مردوں کو وارث قرار دیا جائے۔ اور عورتوں کو نہ دیا جائے وہ بہنیں دوسری بہنوں کو وراثت میں شریک کریں گی۔

ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ← إِسْمَعِيلُ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Hadith 2932

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2933

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُشَرِّكُ بَيْنَ ابْنَتَيْنِ وَابْنَةِ ابْنٍ وَابْنِ ابْنٍ تُعْطِي الِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَشَرِيكُهُمْ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يُشَرِّكُ يُعْطِي الذُّكُورَ دُونَ الْإِنَاثِ وَقَالَ الْأَخَوَاتُ بِمَنْزِلَةِ الْبَنَاتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دو بیٹیوں اور ایک پوتی اور پوتے کو وراثت میں شریک قرار دیتی تھیں دو بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دیتی تھیں۔ اور باقی بچ جانے والے مال میں پوتی کو حصہ قرار دیتی تھیں۔ حضرت عبداللہ انہیں شریک قرار نہیں دیتے تھے وہ صرف مردوں پوتوں کو وراثت میں حصہ دیتے تھے لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے یہ ارشاد فرماتے تھے بہنیں بھی بیٹیوں کی مانند ہیں۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← معبد بن خالد، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2933

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2934

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي سَهْلٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ فِي بِنْتٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ وَابْنِ ابْنٍ إِنْ كَانَتْ الْمُقَاسَمَةُ بَيْنَهُمْ أَقَلَّ مِنْ السُّدُسِ أَعْطَاهُمْ السُّدُسَ وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ السُّدُسِ أَعْطَاهُمْ السُّدُسَ

شعبی بیان کرتے ہیں بیٹی اور پوتی اور پوتے کے بارے میں حضرت ابن مسعود یہ فرماتے ہیں ان کے درمیان باہمی تقسیم اگر چھٹے حصے سے کم ہو تو انہیں چھٹاحصہ دیا جائے گا اور اگر وہ چھٹے حصے سے زیادہ ہو تو بھی انہیں صرف چھٹا حصہ دیا جائے گا۔

الشَّعْبِيِّ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ ← أَبِي سَهْلٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2934

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2935

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ كَانَ يُشَرِّكُ فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ هَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَثْبَتُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَا وَلَكِنِّي رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَأَهْلَ الْمَدِينَةِ يُشَرِّكُونَ فِي ابْنَتَيْنِ وَبِنْتِ ابْنٍ وَابْنِ ابْنٍ وَأُخْتَيْنِ

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں مسروق انہیں وراثت میں شریک قرار دیا کرتے تھے علقمہ نے ان سے کہا کیا حضرت عبداللہ سے بڑا عالم بھی کوئی ہے انہوں نے جواب دیا نہیں لیکن میں نے حضرت زید بن ثابت اور اہل مدینہ کو دیکھا ہے کہ وہ اس بارے میں بیٹیوں کے ہمراہ پوتی اور پوتے اور بہنوں کو وراثت میں شریک قرار دیتے تھے۔

لَهُ عَلْقَمَةُ هَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَثْبَتُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ أَنَّهُ كَانَ يُشَرِّكُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدٍ

Hadith 2935

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2936

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ ثُمَّ رَفَعَهَا فَبَلَغَتْ عَشْرَةً لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ سَهْمٌ وَلِلْإِخْوَةِ مِنْ الْأُمِّ الثُّلُثُ سَهْمَانِ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ

قاضی شریح لیثی عورت کے بارے میں فرماتے تھے جس نے پسماندگان میں شوہر ماں، سگی بہن اور باپ کی طرف سے شریک بہن اور ماں کی طرف سے شریک بھائی چھوڑے ہوں۔ قاضی صاحب یہ تقسیم چھ سے شروع کرتے تھے۔ پھر اسے بڑھا کر دس تک لے آتے تھے جس میں سے شوہر کو نصف حصہ دیتے ہیں جوتین حصے ہیں سگی بہن کو نصف دیتے ہیں۔ یہ تین حصے ہیں۔ ماں کو چھٹاحصہ دیتے ہیں جو ایک حصہ ہے ماں کی طرف سے شریک بھائیوں کو ایک تہائی حصہ دیتے ہیں یہ دوحصے ہیں اور باپ کی طرف سے شریک بہن کو ایک حصہ دیتے ہیں یوں دوتہائی حصے کو مکمل کر دیتے ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2936

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2937

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا وَزَيْدًا كَانَا لَا يَحْجُبَانِ بِالْكُفَّارِ وَلَا بِالْمَمْلُوكِينَ وَلَا يُوَرِّثَانِهِمْ شَيْئًا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَحْجُبُ بِالْكُفَّارِ وَبِالْمَمْلُوكِينَ وَلَا يُوَرِّثُهُمْ

شعبی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید کافروں اور غلاموں کی وجہ سے کسی کو محجوب قرار نہیں دیتے تھے اور نہ ہی کسی چیز کا وارث قرار دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ کفار اور غلاموں کی وجہ سے ورثاء کو محجوب قرار دیتے تھے اور ان کفار اور غلاموں کو وارث قرار نہیں دیتے۔

أَشْعَثَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Hadith 2937

chevron_left Previous
12345…28
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door