Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2806

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَكَاةً وَرَحْمَةً

سیدنا جابرؓ کہتے ہیں نبیﷺ نے پہلی حدیث کی طرح فرمایا۔ مگر اس میں بخشش کی جگہ پاکی اور رحمت کا لفظ ہے ۔

النَّبِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَكَاةً وَرَحْمَةً ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2806

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2807

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ جَبَلَ أُحُدٍ لِي ذَهَبًا أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ عِنْدِي دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ إِلَّا لِغَرِيمٍ

حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور جب میں مرنے لگوں تو اس میں سے میرے پاس ایک دینار یا نصف دینار ہو ماسوائے اس کے جو کسی قرض خواہ کو اداکرنے کے لئے رکھا گیا ہو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← سويد بن الحارث ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2807

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2808

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ قُرْطٍ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ أُمُورًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنْ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُوبِقَاتِ فَذُكِرَ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ صَدَقَ فَأَرَى جَرَّ الْإِزَارِ مِنْ ذَلِكَ

حضرت عبادہ بن قرط فرماتے ہیں کہ تم لوگ بعض چیزوں کو بعض جتنی اہمیت اور حثییت نہیں دیتے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ان امور کو ہلاک کردینے والا سمجھتے تھے۔ امام محمد بن سیرین کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا تو وہ بولے انہوں نے سچ کہا ہے میرے نزدیک تہبند کو کھینچتے ہوئے چلنا بھی ان میں شامل ہے۔

عبادة بن قرطٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2808

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2809

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَوْ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ

حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2809

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2810

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ الْحَفَظَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ اكْتُبُوا لِعَبْدِي فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ الْخَيْرِ مَا كَانَ مَحْبُوسًا فِي وِثَاقِي

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بھی مسلمان کسی بھی جسمانی آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ اس کے محافظ فرشتوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ میرے اس بندے کے ہر ایک دن اور ایک رات کے عوض میں اس کے لئے اتنی ہی بھلائی لکھ دو جب تک یہ میری اس پکڑ میں بندھا ہوا ہے (یعنی بیماری میں مبتلاہے۔)

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2810

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2811

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا فَقَالَ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ قَالَ قُلْتُ ذَلِكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ أَجَلْ وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حُطَّ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت تکلیف میں مبتلا تھے میں نے اپنا ہاتھ آپ کے اوپر رکھا اور عرض کی یا رسول اللہ آپ بخار میں مبتلا ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اتنابخار ہے جتنا دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کی پھر تو آپ کو اجر بھی دوگنا ملے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں۔ جس بھی مسلمان کو کوئی مصیبت یابیماری ملتی ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز لاحق ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کے گناہوں میں سے کچھ گناہ اس طرح جھاڑ دیئے جاتے ہیں جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔

دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يُوعَكُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2811

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2812

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت فرماتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2812

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2813

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يُرَى الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَى فِي وَجْهِكَ بِشْرًا لَمْ نَكُنْ نَرَاهُ قَالَ أَجَلْ إِنَّ مَلَكًا أَتَانِي فَقَالَ لِي يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ لَكَ أَمَا يُرْضِيكَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمَ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا قَالَ قُلْتُ بَلَى

حضرت عبداللہ بن ابوطلحہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے تو عرض کی گئی یا رسول اللہ آج ہم آپ کے چہرہ مبارک پر ایسی خوشی دیکھ رہے ہیں جو ہم نے پہلے نہیں دیکھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں ابھی فرشتہ میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھ سے کہا اے محمد آپ کا پروردگار آپ سے یہ فرما رہے ہیں کہ کیا آپ اس بات سے راضی نہیں ہیں کہ جو شخص آپ پر درود بھیجے گا میں اس پردس رحمتیں نازل کروں گا جو شخص آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پردس مرتبہ سلام بھیجوں گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے کہا ہاں۔ میں اس بات سے راضی ہوں۔

جَاءَ النَّبِيُّ يَوْمًا وَهُوَ يُرَى الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ فَقِيلَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سُلَيْمَانَ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2813

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2814

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین پر گھومتے پھرتے ہیں اور میری امت کی طرف سے سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زَاذَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2814

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2815

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ

محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، احمد ہوں میں وہ ماحی ہوں کہ اللہ نے میرے ذریعے کفر کو مٹادیاہے میں حاشر ہوں قیامت کے دن لوگوں کا میرے پاؤں تلے حشر ہوگا میں عاقب ہوں عاقب وہ نبی ہے جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔

الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ ← الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي ← الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ ← أَحْمَدُ، ← مُحَمَّدٍ ← إن لي أسماء ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2815

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2816

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے کعب بن عجرہ جنت میں ایساگوشت داخل نہیں ہوگا جس کی پرورش حرام مال سے کی گئی ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2816

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2817

أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ رَوْحُ بِنُ أَسْلَمَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ ضَحِكَ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَكُ قَالَ عَجَبًا مِنْ أَمْرِ الْمُؤْمِنِ كُلُّهُ لَهُ خَيْرٌ إِنْ أَصَابَهُ مَا يُحِبُّ حَمِدَ اللَّهَ عَلَيْهِ فَكَانَ لَهُ خَيْرٌ وَإِنْ أَصَابَهُ مَا يَكْرَهُ فَصَبَرَ كَانَ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ أَمْرُهُ لَهُ خَيْرٌ إِلَّا الْمُؤْمِنَ

حضرت صہیب بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرماتھے آپ مسکرادیئے آپ نے فرمایا کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں مسکرارہاہوں لوگوں نے عرض کی آپ کیوں مسکرائے؟ آپ نے ارشاد فرمایا مجھے مومن کے بارے میں حیرت ہوتی ہے کہ ہر چیز اس کے لئے بہتر ہے اگر اسے کوئی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے پسند ہو تو وہ اس پر اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور یہ اس کے لئے بہتر ہوتی ہے اور اگر اسے کوئی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے ناپسند ہو تو وہ اسپر صبر کرتا ہے اور وہ اس کے لئے بہتر ہوتاہے۔ صرف مومن ہی وہ مرد ہے جس کا ہرمعاملہ بہتر ہوتاہے۔

مم تضحك ← أَلاَ تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ ← بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ جَالِسٌ إِذْ ضَحِكَ ← صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ رَوْحُ بِنُ أَسْلَمَ الْبَصْرِيُّ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2817

chevron_left Previous
1…567…12
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door