Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2746

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے لئے اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2746

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2747

أَخْبَرَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دونعمتیں ہیں اور ان دونوں کے بارے میں بہت سے لوگ نقصان کا شکار ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبَاهُ ← عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2747

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2748

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے یہں جب کوئی شخص کچھ لوگوں کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے جسے وہ لوگ ناپسند کرتے ہوں تو اس شخص کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالاجائے گا۔

مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2748

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2749

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ وَالْآخِرَةَ عَلَيْكَ

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نامحرم چیز کی طرف پہلی نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو کیونکہ پہلی کی تمہیں اجازت ہے لیکن دوسری کا تمہیں گناہ ہوگا۔

لِي ← عَلِيٍّ، ← سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2749

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2750

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ فِي الْإِسْلَامِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا قَالَ اتَّقِ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ قَالَ فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ

حضرت عبداللہ بن سفیان بیان کرتے ہیں اپنے والد کے حوالے سے کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کسی ایسے اسلامی عمل کے بارے میں بتائیں جس کے بارے میں مجھے کسی اور سے دریافت نہ کرناپڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ سے ڈرو اور پھر استقامت اختیار کرو۔ حضرت سفیان بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی پھر اس کے بعد کون سی چیز ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اس کی حفاظت کرو۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2750

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2751

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ قَالَ قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَكْثَرُ مَا تَخَوَّفُ عَلَيَّ قَالَ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا

حضرت سفیان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کسی ایسے کام کا حکم دیں جس کے ذریعے میں محفوظ ہوجاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم یہ اقرار کرو کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو۔ حضرت سفیان کہتے ہیں میں نے عرض کی اے للہ کے نبی آپ کو میرے بارے میں کس بات کا زیادہ اندیشہ ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر کہا اس کا۔

قُلْتُ ← سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2751

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2752

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ کون سا مسلمان افضل ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جس کی زبان اور ہوں۔

قِيلَ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2752

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2753

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَمَتَ نَجَا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہو بن عاص بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص خاموش رہا اس نے نجات پالی۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُقْبَةَ ← إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2753

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2754

أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ مَا الْغِيبَةُ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ وَإِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں آپ سے دریافت کیا گیا غیبت کیا چیز ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بھائی کی اس بات کا ذکر کرو جو اسے ناپسند ہو عرض کی کی گئی اگرچہ میرے بھائی میں وہ بات موجود ہو جو میں نے بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اگر نہیں موجود تو تم نے اس پر تہمت لگائی۔

فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ← ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ وَإِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ مَا الْغِيبَةُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2754

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2755

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ شَرَّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ وَلَا يَصْلُحُ مِنْ الْكَذِبِ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ ابْنَهُ ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ صَدَقَ وَبَرَّ وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ كَذَبَ وَفَجَرَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا هَلْ أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ وَإِنَّ الْعَضْهَ هِيَ النَّمِيمَةُ الَّتِي تُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ

حضرت عبداللہ اس حدیث کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں سب سے بڑاخیال جھوٹ کا خیال ہے جھوٹ کسی بھی حالت میں صحیح نہیں ہے نہ ہی سنجیدگی کے ساتھ اور نہ ہی مذاق کے ساتھ اور کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ اپنے بیٹے کے ساتھ کوئی وعدہ کرے تو اسے پورانہ کرے بے شک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے بے شک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے سچے شخص سے کہا جائے گا اس نے سچ بولا اور نیکی کی جبکہ جھوٹے سے کہا جائے گا کہ اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا۔ جس طرح آدمی جھوٹ بولتا ہے یہاں تک کہ اسے اللہ کی بارگاہ میں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اللہ کی بارگاہ میں سچا لکھ دیا جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا تمہیں بتاؤں کہ غصہ کیا ہے۔ غصہ چغل خوری ہے جن کے ذریعے تم لوگوں میں فساد پھیلاسکتے ہو۔

أَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبِي إِسْحَقَ ← إدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2755

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2756

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2756

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2757

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ قَالَ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ وَقَالَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے لوگو بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاکیزہ چیزوں کو پسند کرتا ہے اس نے اہل ایمان کو وہی حکم دیاہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیاہے اور ارشاد فرمایا ہے اے رسولو پاکیزہ چیز میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو عمل کرتے ہو بے شک میں اس کا علم رکھتا ہوں۔ اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے اے ایمان والو ہم نے تمہیں جو پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرے اور اس کے بال بکھرے ہوئے اور غبارآلود ہوں پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف کرکے دعا کرے اے میرے پروردگار اے میرے پروردگار جبکہ اس کا کھانا حرام ہو اس کا لباس حرام ہو اور اس کا پیناحرام ہو اس کو حرام کے ذریعے غذاپہنچائی گئی ہو تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2757

chevron_left Previous
1234…12
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door