Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2681

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ الْحُضَيْنِ عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى تَوَضَّأَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّهُ عَلَيْهِ

حضرت مہاجر بن قنفذ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پیشاب کررہے تھے آپ نے اس وقت سلام کا جواب نہیں دیا جب تک وضو نہیں کرلیا جب آپ نے وضو کرلیا تو پھر انہیں سلام کا جواب دیا۔

الْحُضَيْنِ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَقُ

Hadith 2681

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2682

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوا عَلَى النِّسَاءِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْحَمْوُ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ قَالَ يَحْيَى الْحَمْوُ يَعْنِي قَرَابَةَ الزَّوْجِ

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خواتین کے پاس تنہائی میں نہ جاؤ عرض کی یا رسول اللہ دیور جاسکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا دیور تو موت ہے۔ یحییٰ بیان کرتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ الحمو سے مراد شوہر کا قریبی رشتے دار ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ

Hadith 2682

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2683

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يُونُسَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ اصْرِفْ بَصَرَكَ

ابوزرعہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی اجنبی خاتون پر اچانک نظر پڑجانے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اپنی نگاہ پھیرلو۔

نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ اصْرِفْ بَصَرَکَ ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← جَرِيرٌ ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← يُونُسَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Hadith 2683

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2684

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَيْلِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ شِبْرًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ قَالَ قَدْرَ ذِرَاعٍ لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ قَالَ عَبْد اللَّهِ النَّاسُ يَقُولُونَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ

سیدہ ام سلمہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین کے دامن کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں ایک بالشت ہونا چاہیے میں نے عرض کی یا رسول اللہ اس صورت میں ان کے پاؤں ظاہر ہوجائیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر ایک ذراع ہونا چاہیے لیکن اس سے زیادہ نہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں لوگوں نے یہ ہی فتوی دیاہے علماء نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ روایت نافع کے حوالے سے سلیمان بن یسار منقول ہے۔

ذَيْلِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ شِبْرًا فَقُلْتُ ← سُئِلَ النَّبِيُّ ← أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Hadith 2684

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2685

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ عَنْ امْرَأَتِهِ عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ قَالَتْ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى الذَّهَبَ فَتُظْهِرَهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ

حضرت حذیفہ کی بہن نقل کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے خواتین کیا تمہارے پاس چاندی نیہں ہے جس کا تم زیور بنالو تم میں سے جو خاتون سونے کا زیورپہن کر زیب وزینت کے اظہار کی کوشش کرے گی اسے اس سونے کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔

خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ ← امْرَأَتِهِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2685

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2686

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مُوسَى أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ لِيُوجَدَ رِيحُهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ وَكُلُّ عَيْنٍ زَانٍ وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ يَرْفَعُهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جو بھی خاتون خوشبواستعمال کرتی ہے اور پھر گھر سے باہر نکلتی ہے تاکہ اس کی خوشبو پھیلے تو وہ زناکرنے والی کے مترادف ہے اور ہر آنکھ زانی ہوتی ہے ابوعاصم کہتے ہیں بعض لوگوں نے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔

Hadith 2686

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2687

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ فَقَالَتْ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ مَا تَقُولُ قَالَ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ مَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا فَقَالَتْ بَلَى قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْهُ فَقَالَتْ فَإِنِّي أَرَى أَهْلَكَ يَفْعَلُونَهُ قَالَ فَادْخُلِي فَانْظُرِي فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا فَقَالَ لَوْ كَانَتْ كَذَلِكِ مَا جَامَعْتُهَا

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر لعنت کرے جو اپنے چہرے کے بالوں کو اکھاڑتی ہیں اور جو انہیں کھڑواتی ہیں اور ان پر لعنت کرے جو اپنے دانت باریک کرتی ہیں اور خوبصورت ہونے کے لئے اسی طرح کے طریقے استعمال کرتی ہیں اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں اس بات کی خبر بنواسد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کوہوئی جنہیں ام یعقوب کہا جاتا تھا وہ آئیں اور بولیں میں نے سناہے آپ اس طرح خواتین پر لعنت کرتے ہیں حضرت عبداللہ نے جواب دیا میں ایسی خواتین پر لعنت کیوں نہ کرو جس پر اللہ کے رسول نے لعنت کی ہے اور جس کا حکم اللہ کی کتاب میں موجود ہے وہ خاتون بولی میں نے پورا قرآن مجید پڑھاہے مجھے تو اس میں یہ بات نظر نہیں آئی جو آپ فرما رہے ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا اگر واقعی تم نے پڑھا ہوتا تو تمہیں یہ بات نظر آجاتی کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی۔ اور رسول تمہیں جو حکم دیں اسے حاصل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ زبردست عقاب کرنے والاہے ۔ وہ خاتون بولی ہاں حضرت عبداللہ بولے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے وہ خاتون بولی مجھے پتہ چلاہے کہ آپ کی اہلیہ یہ کام کرتی ہیں حضرت عبدالہ بولے تم جاؤ اور جا کر خود یکھ لو وہ خاتون گئی اور اس نے دیکھا کہ وہاں تو ایسی کوئی بات نہیں تھی حضرت عبداللہ بولے اگر وہ ایساکرتی ہوتی تو میں اس کے ساتھ تعلق قائم نہیں کرتا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2687

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2688

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ أَخْبَرَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيُّ عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحَجْرِيِّ عَنْ أَبِي عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ عَشْرِ خِصَالٍ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ فِي شِعَارٍ وَاحِدٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ وَمُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ فِي شِعَارٍ وَاحِدٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ وَالنَّتْفِ وَالْوَشْمِ وَالنُّهْبَةِ وَرُكُوبِ النُّمُورِ وَاتِّخَاذِ الدِّيبَاجِ هَا هُنَا عَلَى الْعَاتِقَيْنِ وَفِي أَسْفَلِ الثِّيَابِ قَالَ عَبْد اللَّهِ أَبُو عَامِرٍ شَيْخٌ لَهُمْ وَالْمُكَامَعَةُ الْمُضَاجَعَةُ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوریحانہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع کیا ہے ایک یہ کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ برہنہ طور پر ایک لحاف میں نہ لیٹے اور ان دونوں کے درمیان کوئی کپڑا نہ ہو۔ دوسرا کوئی خاتون دوسری خاتون کے ساتھ ایک ہی لحاف میں مکمل طور پر نہ لیٹے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز نہ ہو اور بال اکھاڑنا اور گودنا اور کوئی چیز لوٹ لینا اور چیتے کی کھال کو زین کے طور پر استعمال کرنا اور کندھوں کے اوپر ریشمی کپڑا رکھنا یا کپڑوں کے نیچے ریشمی کپڑا پہننا۔ امام عبداللہ دارمی فرماتے ہیں حضرت ابوعامر ان کے شیخ ہیں اور اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ مکامعہ کا مطلب ایک ساتھ لیٹناہے۔

ابا ريحانة صاحب رسول الله ← أَبِي عَامِرٍ ← أَبِي الْحَصِينِ الْحَجَرِيِّ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيُّ ← يحيى بن ايوب الحضرمي ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 2688

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2689

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ قَالَ فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا أَوْ فُلَانَةً قَالَ عَبْد اللَّهِ فَأَشُكُّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان مردوں پر لعنت کی ہے جوہیجڑوں جیسی شکل اختیار کرتے ہیں اور ان خواتین پر لعنت کی ہے جو مردوں جیسی وضع قطع اختیار کرتی ہیں آپ نے ارشاد فرمایا انہیں اپنے گھر سے نکال دو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو اس طریقے سے نکال دیا تھا اور حضرت عمر نے فلاں مرد اور فلاں عورت کو نکال دیا تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ شک مجھے ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى ← هِشَامٌ -هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ-، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ

Hadith 2689

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2690

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذِي مُنْكَشِفَةٌ فَقَالَ خَمِّرْ عَلَيْكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ

زرعہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ اصحاب صفہ میں شامل تھے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف فرماتھے میری ران سے کپڑا ہٹ گیا آپ نے ارشاد فرمایا اسے ڈھانپ لو کیا تمہیں پتہ نہیں ہے ران قابل پردہ ہے ۔

خَمِّرْ عَلَيْكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ ← جَلَسَ عِنْدَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَفَخِذِي مُنْكَشِفَةٌ ← أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ← زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي النَّضْرِ ← مَالِكٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Hadith 2690

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2691

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ يَسْتَفْتِينَهَا فَقَالَتْ لَعَلَّكُنَّ مِنْ النِّسْوَةِ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ قُلْنَ نَعَمْ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ

سالم بن ابوجعد بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حمص سے تعلق رکھنے والی چند خواتین آئیں تاکہ آپ سے کچھ مسائل دریافت کریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دریافت کیا شاید تم ہی وہ خواتین ہو جو حمام میں داخل ہوتی ہو انہوں نے جواب دیا جی ہاں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوارشاد فرماتے ہوئے سناہے جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کہیں اور اپنے کپڑے اتارے گی اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو پردہ موجود ہے وہ اسے پھاڑ دے گی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← لَعَلَّكُنَّ مِنْ النِّسْوَةِ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ قُلْنَ نَعَمْ ← دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ يَسْتَفْتِينَهَا ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Hadith 2691

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2692

قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ

ابو ملیح نے بھی سیدہ عائشہؓ سے اس حدیث کا بیان کیا۔

عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← سَالِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو مُحَمَّد

Hadith 2692

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door