Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2669

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ مَا رَجَعَكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا اسْتَأْذَنَ الْمُسْتَأْذِنُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا وَأَنَا فِي قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ فَزِعٌ مِنْ وَعِيدِ عُمَرَ إِيَّاهُ فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ مِنْكُمْ رَجُلًا سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا شَهِدَ لِي بِهِ قَالَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَقُلْتُ أَخْبِرْهُ أَنِّي مَعَكَ عَلَى هَذَا وَقَالَ ذَاكَ آخَرُونَ فَسُرِّيَ عَنْ أَبِي مُوسَى

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری نے حضرت عمر کے ہاں داخل ہونے کی تین مرتبہ اجازت مانگی انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے حضرت عمر نے دریافت کیا آپ واپس کیوں چلے گئے انہوں نے جواب دیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو واپس چلاجائے اگر مل جائے توٹھیک ہے۔ حضرت عمر بولے ہاں تو آپ اپنے ساتھ کوئی ایسا شخص لائے جاو اس بات کی گواہی دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ورنہ میں پھر آپ کوسخت سزادوں گا۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری ہمارے پاس تشریف لائے میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا حضرت عمر نے انہیں جو دھمکی دی تھی وہ اس سے گھبرائے ہوئے تھے وہ ہمارے پاس آکرکھڑے ہوئے اور بولے میں آپ حضرات کو قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ آپ میں جس شخص نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے وہ میرے حق میں گواہی دے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سر اٹھایا اور بولا کہ آپ انہیں بتادیں کہ میں اس بارے میں آپ کے ساتھ ہوں دوسرے لوگوں نے بھی یہ بات کہی تو حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ خوش ہوگئے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2669

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2670

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ بَابَهُ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا قَالَ أَنَا أَنَا فَكَرِهَ ذَاكَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آیا میں نے آپ کے دروازے پر دستک دی آپ نے دریافت کیا کون ہے میں نے عرض کی میں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں میں۔ راوی کہتے ہیں یعنی آپ نے اس جواب کو ناپسند کیا۔

فَكَرِهَ ذَاكَ ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَضَرَبْتُ بَابَهُ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2670

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2671

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ يَذْكُرُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا أَوْ يُخَوِّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ قَالَ سُفْيَانُ قَوْلُهُ أَوْ يُخَوِّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ مَا أَدْرِي شَيْءٌ قَالَهُ مُحَارِبٌ أَوْ شَيْءٌ هُوَ فِي الْحَدِيثِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص رات کے وقت سفر سے سیدھا اپنی بیوی کے پاس چلاجائے یا اس کے کردار کی ٹوہ لینے کی کوشش کرے یا اس کی خامیاں تلاش کرے۔ سفیان بیان کرتے ہیں اس روایت میں یہ الفاظ اس کے کردار میں عیب ڈھونڈنے کی کوشش کرے یا اس کی خامیاں تلاش کرنے کی کوشش کرے مجھے نہیں پتہ اس کی کیا حثییت ہے یہ محارب نامی راوی کے الفاظ ہیں یاحدیث کا حصہ ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محارب بن دثار يذكر ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2671

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2672

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے آئے اور بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکل کھڑا ہوا جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہوسکتا۔ سب سے پہلی بات آپ کی زبانی میں نے یہ سنی آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو سلام کو عام کرو کھاناکھلاؤ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو اور اس وقت نماز ادا کر جب لوگ سورہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

«قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ← لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2672

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2673

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کرے جب اسے چھینک آئے تو اس کا جواب دے جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے جب دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے جب اس کا انتقال ہوجائے توجنازے میں شریک ہو اور اس کے لئے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے کرتا ہے اور اس کی غیرموجودگی میں اس کے لئے خیرخواہی سے کام لے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2673

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2674

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِىءٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَائِمُ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ

حضرت فضالہ بن زید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سوار شخص پیدل شخص کوسلام کرے گا اور کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے کوسلام کرے گا اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں گے۔

يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَائِمُ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَبُو هَانِىءٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2674

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2675

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكَ قُلْ عَلَيْكَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی یہودی سلام کرے السام علیک تمہیں موت آجائے تو تم جواب دو وعلیک۔ تمہیں بھی موت آجائے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2675

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2676

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ

سیار بیان کرتے ہیں میں حضرت ثابت کے ہمراہ جارہا تھا وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا پھر حضرت ثابت نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ حضرت انس کے ساتھ جارہے تھے ان کا گزر بچوں کے پاس سے ہوا تو انہوں نے ان کوسلام کیا اور حضرت انس نے یہ حدیث بیان کی کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو سلام کیا۔

سَيَّارٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2676

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2677

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنِي شَهْرٌ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ فِي نِسْوَةٍ مَرَّ عَلَيْهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ

حضرت اسماء بنت یزید بن سکن مایہ بنوعبداشہل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہیں وہ بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ وہ چند خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان خواتین کو سلام کیا۔

شَهْرٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2677

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2678

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَتْ وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا ان پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیز دیکھ لیتے تھے جو میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2678

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2679

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ حِينَ قَضَى صَلَاتَهُ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّا بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ قُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ

حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں آپ کے پاس آیا میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اسلامی طریقے کے مطابق سلام کیا۔ آپ نے جواب دیا تمہیں بھی سلام اور اللہ کی رحمتیں ہوں تمہارا کہاں سے تعلق ہے حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں میں نے جواب دیا غفار قبیلے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو بڑھایا تو میں نے دل میں خیال کیا شاید آپ نے غفار قبیلے سے میری نسبت کو پسند نہیں کیا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2679

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2680

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ عَشْرٌ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ عِشْرُونَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ ثَلَاثُونَ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی السلام علیکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور ارشاد فرمایا اس شخص کو دس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور صاحب آئے تو انہوں نے سلام کیا اور بولے السلام علیکم ورحمتہ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا اور ارشاد فرمایا (ان صاحب کو بیس نیکیاں ملی ہیں) پھر ایک صاحب آءے انہوں نے سلام کیا اور بولے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا اور ارشاد فرمایا ان صاحب کو تیس نیکیاں ملی ہیں۔

ثلاثون. ← السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ ← عِشْرُونَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ← السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ ← عَشْرٌ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ← السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2680

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door