Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2189

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ عُدُسٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرُّؤْيَا هِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدَّثْ بِهَا فَإِذَا حُدِّثَ بِهَا وَقَعَتْ

وکیع بیان کرتے ہیں ان کے چچا حضرت رزین عقیلی بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب تک خواب کو بیان نہ کیا جائے اس وقت تک وہ موقوف رہتا ہے جب اسے بیان کردیا جائے تو وہ واقع ہوجاتا ہے۔

بِهَا فَإِذَا حُدِّثَ بِهَا وَقَعَتْ ← الرُّؤْيَا هِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Hadith 2189

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2190

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ وَسَأَلَهُ مَكْحُولٌ أَنْ يُحَدِّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى فَقُلْتُ أَنْتَ أَعْلَمُ يَا رَبِّ قَالَ فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَتَلَا وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنْ الْمُوقِنِينَ

حضرت عبدالرحمن بن عائش بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے اپنے پروردگار کو بہترین صورت میں دیکھا اس نے دریافت کیا ملأ اعلی کے لوگ کس بارے میں بحث کر رہے ہیں میں نے عرض کی اے میرے پروردگار تو زیادہ بہتر جانتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر اس نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی اور آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کا مجھے علم ہوگیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین میں موجود سب بادشاہی دکھائی تاکہ وہ اہل یقین میں رہے۔

فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى فَقُلْتُ أَنْتَ أَعْلَمُ يَا رَبِّ ← رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ وَسَأَلَهُ مَكْحُولٌ أَنْ يُحَدِّثَهُ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Hadith 2190

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2191

أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قُطْبَةَ عَنْ يُوسُفَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ مَنْ رَأَى رَبَّهُ فِي الْمَنَامِ دَخَلَ الْجَنَّةَ

ابن سیرین بیان کرتے ہیں جو شخص خواب میں اپنے پروردگار کی زیارت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

مَنْ رَأَى رَبَّهُ فِي الْمَنَامِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يُوسُفُ، ← قُطْبَةَ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ

Hadith 2191

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2192

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا إِذَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ فَمَاذَا تَأَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میں سورہا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا انہیں میرے سامنے پیش کیا گیا انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں ان میں کچھ کی قمیص سینوں تک تھی اور کچھ کی ان سے لمبی تھی پھر میرے سامنے عمر بن خطاب کو لایا گیا ان کی قمیص پاؤں کے نیچے گھسٹ رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرین نے عرض کی یا رسول اللہ آپ نے اس کی تعبیر کیا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا دین۔

نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ ← بَيْنَا إِذَا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 2192

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2193

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لِي مَبِيتٌ إِلَّا فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ يَأْتُونَهُ فَيَقُصُّونَ عَلَيْهِ الرُّؤْيَا قَالَ فَقُلْتُ مَا لِي لَا أَرَى شَيْئًا فَرَأَيْتُ كَأَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ فَيُرْمَى بِهِمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ فِي رَكِيٍّ فَأُخِذْتُ فَلَمَّا دَنَا إِلَى الْبِئْرِ قَالَ رَجُلٌ خُذُوا بِهِ ذَاتَ الْيَمِينِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظْتُ هَمَّتْنِي رُؤْيَايَ وَأَشْفَقْتُ مِنْهَا فَسَأَلْتُ حَفْصَةَ عَنْهَا فَقَالَتْ نِعْمَ مَا رَأَيْتَ فَقُلْتُ لَهَا سَلِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ فَقَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں میں مسجد میں سویا کرتا تھا صبح کے وقت جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ حاضر ہوتے تو آپ کے سامنے اپنے خواب بیان کیا کرتے تھے میں سوچتا تھا مجھے کوئی خواب نظر نہیں آتا ایک مرتبہ میں نے خواب دیکھا کہ لوگ ایک جگہ جمع ہیں انہیں ان کی ٹانگوں سے پکڑ کر ایک کنویں میں ڈالا جارہا ہے مجھے بھی پکڑ لیا گیا جب لوگ کنویں کے قریب ہوئے تو ایک شخص بولا یہ تو دائیں طرف والے ہیں جب میں بیدار ہوا تو مجھے خواب یاد آیا اور میں اس کی وجہ سے پریشان ہوگیا میں نے اس کے بارے میں حضرت حفصہ سے دریافت کیا انہوں نے جواب دیا تم نے اچھا خواب دیکھا ہے میں نے ان سے کہا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں حضرت حفصہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا عبداللہ رضی اللہ عنہ اچھا آدمی ہے اگر یہ رات کے وقت نوافل بھی ادا کیا کرے۔

نَافِعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ، هُوَ ابْنُ عُمَرَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ،

Hadith 2193

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2194

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَكُنْتُ إِذَا نِمْتُ لَمْ أَقُمْ حَتَّى أُصْبِحَ قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي اللَّيْلَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں جب سویا کرتا تھا تو صبح تک اٹھا نہیں کرتا تھا نافع بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتے تھے۔

نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي اللَّيْلَ ← ابْنُ عُمَرَ وَكُنْتُ إِذَا نِمْتُ لَمْ أَقُمْ حَتَّى أُصْبِحَ ← ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيِّ ← مُوسَى بْنُ خَالِدٍ

Hadith 2194

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2195

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ فِي ظُفْرِي أَوْ قَالَ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلَهُ عُمَرَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَوَّلْتَهُ قَالَ الْعِلْمَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا میری خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا میں نے اسے پی لیا اس کا اثر مجھے اپنے ناخنوں میں محسوس ہوا پھر میں نے بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے آپ نے جواب دیا علم۔

بَيْنَا ← ابْنِ عُمَرَ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Hadith 2195

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2196

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّبَنُ الْفِطْرَةُ وَالسَّفِينَةُ نَجَاةٌ وَالْجَمَلُ حُزْنٌ وَالْخُضْرَةُ الْجَنَّةُ وَالْمَرْأَةُ خَيْرٌ

محمد بن قیس بیان کرتے ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے دودھ سے مراد فطرت ہے کشتی سے مراد نجات ہے اونٹ سے مراد غم ہے سبزے سے مراد جنت ہے اور عورت سے مراد بھلائی ہے۔ (یعنی خواب میں اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے۔)

اللَّبَنُ الْفِطْرَةُ وَالسَّفِينَةُ نَجَاةٌ وَالْجَمَلُ حُزْنٌ وَالْخُضْرَةُ الْجَنَّةُ وَالْمَرْأَةُ خَيْرٌ ← بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِیْدُ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Hadith 2196

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا عَلَيَّ فَأَعْبُرَهَا لَهُ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ تَنْطِفُ عَسَلًا وَسَمْنًا وَرَأَيْتُ أُنَاسًا يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَمُسْتَكْثِرٌ وَمُسْتَقِلٌّ وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلًا مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ فَأَعْلَاكَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ الَّذِي بَعْدَكَ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهُ الَّذِي بَعْدَهُ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهُ الَّذِي بَعْدَهُ فَقُطِعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ فَاتَّصَلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَعْبُرَهَا فَقَالَ اعْبُرْهَا وَكَانَ أَعْبَرَ النَّاسِ لِلرُّؤْيَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الْعَسَلُ وَالسَّمْنُ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَةُ الْعَسَلِ وَلِينُ السَّمْنِ وَأَمَّا الَّذِينَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ فَمُسْتَكْثِرٌ وَمُسْتَقِلٌّ فَهُمْ حَمَلَةُ الْقُرْآنِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ فَقَالَ فَمَا الَّذِي أَصَبْتُ وَمَا الَّذِي أَخْطَأْتُ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے جو شخص خواب دیکھے وہ میرے سامنے بیان کرے میں اس کی تعبیر بتایا کروں گا راوی کہتے ہیں ایک شخص آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے آسمانوں اور زمین کےدرمیان بادلوں کا ایک ٹکڑا دیکھا جس میں سے شہد اور گھی برس رہا تھا میں نے آسمان سے لے کر زمین تک لٹکی رسی دیکھی میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اسے حاصل کررہے ہیں کچھ کم حاصل کررہے ہیں اور کچھ زیادہ حاصل کررہے ہیں پھر آپ نے اس رسی کو پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلندی عطا کردی پھر آپ کے بعد ایک صاحب نے اس رسی کو پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھنے لگے، اللہ تعالیٰ انہیں بھی اوپر لے گیا پھر اس کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر کی طرف چڑھے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اوپر چڑھادیا پھر اس کے بعد ایک اور صاحب نے پکڑا اور وہ رسی ٹوٹ گئی پھر اس رسی کو ملا دیا گیا وہ جڑگئی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی تعبیر بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خواب کی تعبیر کے سب سے بڑے ماہر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کی بادل سے مراد اسلام ہے شہد اور گھی سے مراد قرآن ہے جس میں شہد کی مٹھاس اور گھی کی نرمی پائی جاتی ہے لوگوں کا اسے حاصل کرنا اور کم یا زیادہ حاصل کرنا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کرتے ہیں آسمان سے زمین تک لٹکی رسی سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ گامزن ہیں۔ آپ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے اللہ آپ کو بلندی عطا کرتا ہے اور پھر اس کے بعد جو شخص اس کو پکڑتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس کو بھی بلندی عطا کردیتا ہے پھر جو شخص اسے پکڑتا ہے تو اللہ اسے بھی بلندی عطا کردیتا ہے اور پھر جو شخص پکڑے گا تو وہ اس کی وجہ سے منقطع ہوجائے گی اور پھر اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ یا رسول اللہ آپ مجھے بتائیں میرے والد آپ پر قربان ہوں میں نے صحیح تعبیر بیان کی ہے یا غلط؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ صحیح ہے اور کچھ غلط ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتانے سے انکار کردیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Hadith 2197

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2198

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ الْحَرَّانِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ شَمْسًا أَوْ قَمَرًا شَكَّ أَبُو جَعْفَرٍ فِي الْأَرْضِ تُرْفَعُ إِلَى السَّمَاءِ بِأَشْطَانٍ شِدَادٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاكَ ابْنُ أَخِيكَ يَعْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ

حضرت عباس بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں میں نے خواب دیکھا کہ سورج (راوی کو شک ہے) یا چاند زمین میں موجود ہے اور پھر اسے سخت رسیوں کے ذریعے آسمان کی طرف اٹھالیا جاتا ہے انہوں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے بھتیجے (یعنی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔

الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مِسْكِينٌ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ،

Hadith 2198

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2199

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بَرِيدَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ كَأَحْسَنِ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللَّهِ خَيْرٌ فَإِذَا هُوَ النَّفَرُ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْخَيْرِ وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں میں نے خواب دیکھا کہ میں نے ایک تلوار نکالی تو وہ درمیان سے ٹوٹ گئی اس سے مراد غزوہ احد کے موقع پر مومنین کو پیش آنے والی صورت حال ہے پھر میں نے تلوار نکالی تو وہ پہلے سے زیادہ بہتر تھی اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ اور مومنین کا اکٹھا ہونا ہے میں نے خواب میں یہ بھی دیکھا کہ ایک گائے ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے اس سے مراد غزوہ احد کے دن اہل ایمان کی نفری ہے اور بھلائی وہی ہے جو اللہ عطا کرے اور اس سچائی کا ثواب ہے جو غزوہ احد کے بعد ہم تک آیا۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 2199

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2200

أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ وَرَأَيْتُ بَقَرًا يُنْحَرُ فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْمَدِينَةُ وَأَنَّ الْبَقَرَ نَفَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ وَلَوْ أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا دَخَلُوا عَلَيْنَا قَاتَلْنَاهُمْ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا دُخِلَتْ عَلَيْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَتُدْخَلُ عَلَيْنَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَشَأْنَكُمْ إِذًا وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ لِبَعْضٍ رَدَدْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ فَجَاءُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنُكَ فَقَالَ الْآنَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهُ حَتَّى يُقَاتِلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے دیکھا کہ ایک مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں اور پھر میں نے ایک بیل کو دیکھا کہ اسے قربان کیا گیا ہے تو میں نے اس کی تعبیر یہ کہ زرہ سے مراد مدینہ منورہ ہے اور بیل سے مراد مسلمانوں کی نفری ہے اور اللہ بہتری عطاکرنے والاہے اگر ہم مدینہ میں رہیں تو یہ مناسب ہے۔ اگر دشمن اس میں داخل ہوگیا تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے لوگوں نے عرض کیا اللہ کی قسم زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی دشمن ہمارے علاقے میں داخل نہیں ہوسکا تو کیا اسلام کی حالت میں داخل ہوگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر تمہاری مرضی ہے اس کے بعد انصار نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے تسلیم نہیں کی وہ لوگ آئے اور عرض کی یا رسول اللہ جو آپ مناسب سمجھیں ویسا ہی ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے مناسب نہیں کہ جب ہتھیار سجالے توجنگ کرنے سے پہلے اتارے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ

Hadith 2200

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door