Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2141

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْكَلَاعِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ قَالَ زَيْدٌ يَعْنِي الْإِسْلَامَ كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ كَفْيَ الْخَمْرِ فَقِيلَ فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ فِيهَا مَا بَيَّنَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا فَيَسْتَحِلُّونَهَا

حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے سب سے پہلے اس چیز کو انڈیلا جائے گا جیسے برتن کو انڈیلا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں یعنی اسلام میں شراب کو سب سے پہلے عام استعمال کیا جائے گا) عرض کی گئی یا رسول اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں واضح کردیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ لوگ اس کا نام تبدیل کردیں گے اور اسے حلال قرار دے دیں گے۔

زَيْدٌ يَعْنِي الْإِسْلَامَ كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ كَفْيَ الْخَمْرِ فَقِيلَ فَكَيْفَ ← إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي وَهْبٍ الْكَلَاعِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى،

Hadith 2141

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2142

أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي أَبُو وَهْبٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ دِينِكُمْ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ ثُمَّ مُلْكٌ وَرَحْمَةٌ ثُمَّ مُلْكٌ أَعْفَرُ ثُمَّ مُلْكٌ وَجَبَرُوتٌ يُسْتَحَلُّ فِيهَا الْخَمْرُ وَالْحَرِيرُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْأَعْفَرُ شِبْهُ التُّرَابِ لَيْسَ فِيهِ طَمَعٌ

حضرت ابوعبیدہ بن جراح بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے دین کا آغاز نبوت اور رحمت سے ہوا پھر رحمت اور حکومت رہے گی پھر بے فائدہ حکومت ہوگی پھر حکومت اور ظلم آجائیں گے جس میں شراب اور ریشم کو حلال قرار دے دیا جائے گا۔ امام ابومحمد دارمی سے اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ"اغفر" کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا وہ اسے مٹی سے تشبیہ دیتے ہیں یعنی وہ چیز جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔

أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← أَبُو وَهْبٍ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 2142

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2143

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا طُعْمَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَيَانٍ التَّغْلِبِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد إِنَّمَا هُوَ عُمَرُ بْنُ بَيَانٍ

حضرت مغیرہ بن شعبہ کے صاحبزادے عروہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص شراب فروخت کرےتو اسے خنزیر کی بھی خریدفروخت شروع کردینی چاہیے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث کی سند میں ایک راوی کا نام عمر بن بیان منقول کرتے ہیں اس کا نام عمر بن بیان ہے۔

أَبُو مُحَمَّد إِنَّمَا هُوَ عُمَرُ بْنُ بَيَانٍ ← مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← عَمْرُو بْنُ بَيَانٍ التَّغْلِبِيُّ ← طُعْمَةُ ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Hadith 2143

Sahih

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2144

حَدَّثَنَا يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ فَقَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدِيقٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَوْ مِنْ دَوْسٍ فَلَقِيَهُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِيَةٍ مِنْ خَمْرٍ يُهْدِيهَا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا فُلَانُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا قَالَ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَى غُلَامِهِ فَقَالَ اذْهَبْ فَبِعْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاذَا أَمَرْتَهُ يَا فُلَانُ قَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ فِي الْبَطْحَاءِ

عبدالرحمن بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شراب کی خرید و فروخت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوست تھا جو ثقیف یا شاید دوس کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا فتح کے سال وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اس کے پاس شراب کا ایک مشکیزہ تھا وہ اس نے تحفے کے طور پر آپ کی خدمت میں پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے فلاں کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہوا اور بولاجاؤ وہ فروخت کردو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اے فلاں تم نے اس کو کیا ہدایت کی ہے اس نے کہا میں نے اسے فروخت کرنے کی ہدایت کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس کی خرید و فروخت کو بھی حرام قرار دیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت وہ شراب میدان میں بہا دی گئی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يعلى

Hadith 2144

Sahih

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2145

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَمَا عَلِمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا قَالَ سُفْيَانُ جَمَلُوهَا أَذَابُوهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر کو اطلاع ملی حضرت سمرہ شراب فروخت کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ سمرہ کو موت دیدے کیا اسے پتہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت کرے کہ ان پر چربی کی فروخت حرام قرار دی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کرنا شروع کردیا سفیان کہتے ہیں جملوھا کا مطلب ہے اسے پگھلا دینا۔

بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَمَا عَلِمَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Hadith 2145

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2146

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِذَا سَكِرَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ يَعْنِي فِي الرَّابِعَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص مدہوش ہوجائے تو اسے کوڑے لگاؤ جب کوئی نشہ کرے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر جب نشہ کرے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر جب نشہ کرے تو اسے کوڑے لگاؤ اگر پھر نشہ کرے تو اس کی گردن اڑادو۔ یعنی یہ بات آپ نے چوتھی مرتبہ فرمائی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي،

Hadith 2146

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2147

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زنا کرنے والا زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا۔ چوری کرنے والا چوری کرتے وقت مومن نہیں ہوتا اور شراب پینے والا شراب پیتے وقت مومن نہیں ہوتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2147

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2148

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السِّقَاءِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ

حضرت جابر بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ تیار کیا کرتے تھے اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو برتن میں تیار کیا کرتے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2148

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2149

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَاهُ أَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ خَرَجْنَا مِنْ حَيْثُ عَلِمْتَ وَنَزَلْنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فَمَنْ وَلِيُّنَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَصْحَابَ كَرْمٍ وَخَمْرٍ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْخَمْرَ فَمَا نَصْنَعُ بِالْكَرْمِ قَالَ اصْنَعُوهُ زَبِيبًا قَالُوا فَمَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ قَالَ انْقَعُوهُ فِي الشِّنَانِ انْقَعُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَانْقَعُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ فَإِنَّهُ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ الْعَصْرَانِ كَانَ خَلًّا قَبْلَ أَنْ يَكُونَ خَمْرًا

عبداللہ بن دیلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ان میں سے ایک صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ہم جس ماحول سے نکل کر آئے ہیں وہ آپ کے علم میں ہے اور جس جگہ پڑاؤ کیا ہے وہ بھی آپ کے علم میں ہے ہمارا حمایتی کون ہوگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم لوگ انگور اور شراب کے مالک ہیں اللہ نے شراب کو تو حرام قرار دیا ہے اب ہم انگوروں کا کیا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تم ان کی نبیذ بنالو انہوں نے عرض کیا ہم اس کی نبیذ کیسے تیار کریں آپ نے ارشاد فرمایا اسے مشکیزہ میں ڈالو اور صبح کے وقت بناؤ تو شام کو پی لو۔ اور شام کے وقت بناؤ تو اسے صبح کے وقت پی لو اور جب اسے اتناعرصہ گزرجائے تو مشروب ہوگی لیکن وہ شراب نہ بنی ہو۔

أَبِيهِ أَنَّ أَبَاهُ أَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ سَأَلَ النَّبِيَّ فَقَالَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، ← يحيى بن أبي عمرو السيباني ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Hadith 2149

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2150

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

حضرت سعد بن جبیر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مٹکے میں نبیذ تیار کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے پھر میری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بیان کے بارے میں بتایا تو انہوں نے جواب دیا ابوعبدالرحمن نے درست کہا ہے۔

صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ← نَبِيذِ الْجَرِّ» ← سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Hadith 2150

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2151

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے دباء اور مزفت (شراب تیار کرنے کے دو برتن) میں نبیذ تیار نہ کرو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Hadith 2151

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2152

أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ سَمِعْتُهُ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَسَأَلْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْ مَنْ كَانَ مُحَرِّمًا مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ قَالَ و حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَعَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ

ابوحکم بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مٹکے میں نبیذ تیار کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے اور دباء میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے میں نے یہی سوال ابن زبیر سے کیا تو انہوں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مانند جواب دیا ابوحکم بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص چاہتا ہو وہ اس چیز کو حرام قرار دے جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے تو اسے نبیذ کو حرام قرار دینا چاہیے ابوحکم بیان کرتے ہیں میرے بھائی نے مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت سنائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے دباء اور مزفت میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے اور خشک اور تر کھجور کی ایک ساتھ نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے۔

ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ سَرَّهُ ← مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ ← الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَسَأَلْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← نَبِيذِ الْجَرِّ» ← سُئِلَ ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ ← أَبَا الْحَکَمِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو زَيْدٍ،

Hadith 2152

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door