Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2643

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ قَضِيبٌ مِنْ أَرَاكٍ

حضرت ابوامامہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہنم کو لازم کردیتا ہے اور جنت اس کے لئے حرام کردیتا ہے۔ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ اگرچہ وہ عام چیز ہو آپ نے فرمایا اگرچہ وہ پیلو کی ایک شاخ ہو۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، ← مَعْبَدِ بْنِ کَعْبٍ السَّلَمِيِّ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2643

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2644

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

سیدنا ابو امامہ حارثیؓ کہتے ہیں انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا پھر پہلی حدیث کی طرح ذکر کیا۔

رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ← أَنَّهُ ← أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ ← أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2644

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2645

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ خَابُوا وَخَسِرُوا فَأَعَادَهَا فَقُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ كَاذِبًا

حضرت ابوذر روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرے گا ان کی طرف نظر کرم نہیں کرے گا ان کاتزکیہ نہیں کرے گا اور ان لوگوں کے لے دردناک عذاب ہوگا حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں میں نے فرمایا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں یہ تو ذلیل بھی ہوئے اور خسارے کا بھی شکار ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی میں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تکبر کے طور پر شلوار یا تہبند کو لٹکا کرچلنے والا شخص، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبَا زُرْعَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَحَجَّاجٌ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2645

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2646

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ظَلَمَ مِنْ الْأَرْضِ شِبْرًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ

حضرت سعید بن زید بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص بطور ظلم زمین کا چھوٹا ساٹکڑا ہتھیالے تو سات زمینوں کے برابر وزنی طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔

مَنْ ظَلَمَ مِنْ الْأَرْضِ شِبْرًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ← طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَهْلٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2646

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2647

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهَا فَلَهُ فِيهَا صَدَقَةٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْعَافِيَةُ الطَّيْرُ وَغَيْرُ ذَلِكَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس زمین سے اجر ملے گا اس زمین سے جو بھی پرندے کھائیں گے وہ اس زمین میں اس شخص کے لئے صدقہ شمار ہوگا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ العافیہ سے مراد پرندے وغیرہ ہیں۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2647

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2648

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ السَّبَائِيُّ الْمَأْرِبِيُّ حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ أَنَّ أَبَاهُ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ الْمِلْحَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَأَقْطَعَهُ ثُمَّ إِنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مِثْلُ مَاءِ الْعِدِّ فَاسْتَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْيَضَ فِي قَطِيعَتِهِ فِي الْمِلْحِ فَقُلْتُ قَدْ أَقَلْتُهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ وَهُوَ مِثْلُ مَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ قَالَ وَقَطَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَكَذَا بِالْجَوْفِ جَوْفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ قَالَ الْفَرَجُ فَهُوَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ

حضرت ابیض بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کا ایک ٹکڑا مانگا جس کا نام شذ مآرب تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عطا کردیا پھر حضرت اقرع بن حابس تمیمی نے عرض کی اے اللہ کے نبی زمانہ جاہلیت میں وہ حصہ میں نے حاصل کیا تھا یہ وہ زمین ہے جہاں پانی نہیں ہوتا اور وہ شخص جو وہاں تک پہنچ جائے وہ اسے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے اس کی مثال پانی کی طرح ہے جو مسلسل جاری ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابیض بن حمال سے وہ قطعہ اراضی واپس کرنے کے لئے کہا۔ حضرت ابیض کہتے یہں میں نے عرض کی میں وہ آپ کو اس شرط پر واپس کروں گا کہ آپ اسے میری طرف سے صدقہ بنادیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے اور اس کی مثال اس پانی کی طرح ہے جو لگاتار بہتا ہے جو شخص اس تک پہنچ جائے اسے حاصل کرلے۔ حضرت ابیض بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ قطعہ اراضی اور کھجوروں کا ایک باغ بطن وادی میں عطا کیا۔ حضرت ابیض کی مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان سے قطعہ اراضی واپس لیا تھا اس کے عوض میں یہ مجھے عطا کیا۔ فرج نامی راوی کہتے ہیں وہ قطعہ اراضی اسی حالت میں رہا جو شخص اس تک پہنچ جائے وہ اسے قبضے میں کرے گا۔

عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ ← الْفَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ السَّبَائِيُّ الْمَأْرِبِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2648

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2649

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا قَالَ فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَعْطِهَا إِيَّاهُ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ

علقمہ بیان کرتے ہیں اپنے والد کے حوالے سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زمین کا ایک ٹکڑا عطا کیا حضرت وائل بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کو میرے ساتھ بھیجا اور ارشاد فرمایا وہ زمین اسے دے دو۔ یحیی بیان کرتے ہیں یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2649

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2650

أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِي فَقَالَ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ أَمُسْلِمٌ غَرَسَ هَذَا أَمْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ فَقَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ طَيْرٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ

حضرت زید بن حارثہ کی اہلیہ سیدہ ام مبشر بیان کرتی ہیں میرے باغ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت کیا اے ام مبشر یہ باغ کسی مسلمان نے لگایاہے یا کافر نے میں نے جواب دیا مسلمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بھی مسلمان پودا لگاتا ہے اس میں سے کوئی جانور یا پرندہ کھاتا ہے تو وہ چیز اس کے لئے صدقہ ہوجاتی ہے۔

يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ أَمُسْلِمٌ غَرَسَ هَذَا أَمْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ فِي حَائِطٍ لِي ← حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو سُفْيَانَ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2650

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2651

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حِمَى الْأَرَاكِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ فَقَالَ أَرَاكَةٌ فِي حِظَارِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ قَالَ فَرَجٌ يَعْنِي أَبْيَضُ بِحِظَارِي الْأَرْضَ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهَا

حضرت ابیض بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چراگاہ کے اردگرد چاردیواری کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی چاردیواری کی کوئی گنجائش نہیں ہے حضرت ابیض نے عرض کی میں اپنی زمین کے اردگرد چار دیواری کرنا چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی چاردیواری کی کوئی ضرورت نہیں ہے فرج نامی راوی بیان کرتے ہیں حظاری سے مراد وہ زمین ہے جہاں کھیت ہوں اور اس کے اردگرد چار دیواری قائم کی گئی ہو۔

النَّبِيُّ لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ ← أَرَاكَةٌ فِي حِظَارِي ← رَسُولُ اللَّهِ لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ ← حِمَى الْأَرَاكِ ← جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← أبيه سعيد ← عمي ثابت بن سعيد ← الْفَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2651

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2652

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ لَا نَدْرِي أَيَّ مَاءٍ قَالَ يَقُولُ لَا أَدْرِي مَاءً جَارِيًا أَوْ الْمَاءَ الْمُسْتَقَى

حضرت ایاس بن عبد مزنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں شامل ہیں بیان کرتے ہیں پانی کو فروخت نہ کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی کو فروخت کرنے سے منع کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عمرو بن دینار فرماتے ہیں ہمیں پتہ نہیں اس سے کون ساپانی مراد ہے وہ فرماتے ہیں مجھے نہیں پتہ اس سے مراد پینے والا پانی ہے یا جسے کنویں سے نکالا جائے۔

لَا أَدْرِي مَاءً جَارِيًا أَوْ الْمَاءَ الْمُسْتَقَى ← بَيْعِ الْمَاءِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ لَا نَدْرِي أَيَّ مَاءٍ ← النَّبِيَّ يَنْهَی ← لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي ← إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2652

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2653

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ سَيَّارٍ رَجُلٍ مِنْ فَزَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ فَالْتَزَمَهُ فَقَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ فَقَالَ الْمِلْحُ وَالْمَاءُ قَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ وَانْتَهَى إِلَى الْمِلْحِ وَالْمَاءِ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ تَقُولُ بِهِ فَأَوْمَأَ بِرَأْسِهِ

بہیسہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اجازت لے کر آپ کی قمیص کے اندر اپنا منہ ڈال کر مہر نبوت کا بوسہ لیا راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو اپنے جسم کے ساتھ لپٹا لیا تھا انہوں نے دریافت کیا وہ کون سی چیز ہے جسے استعمال کرنے سے روکناجائز نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمک اور پانی۔ انہوں نے عرض کی وہ کون سی چیز ہے جس کے استعمال کرنے سے روکنا جائز نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نیکی کروگے تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے انہوں نے پھر اسی طرح دریافت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اگر تم نیکی کروگے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں آپ نے صرف نمک اور پانی کی پابندی کی ہے امام دارمی فرماتے ہیں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے سر کے اشارے سے جواب دیا جی ہاں۔

مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَکَ ← مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← الْمِلْحُ وَالْمَاءُ ← مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← عُثْمَانُ فَالْتَزَمَهُ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ فَاسْتَأْذَنَهُ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ وَقَدْ ← أَبِيهَا ← بهيسة ← أَبِيهِ ← سَيَّارٍ, رَجُلٌ مِنْ فَزَارَةَ, ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2653

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2654

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ أَوْ زَرْعٍ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبروالوں کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ پھلوں اور زراعت کی جو پیدوار ہوگی اس کا نصف حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کریں گے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2654

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door