Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2631

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن کی جان اس وقت تک لٹکی رہے گی جب تک اس کے ذمے قرض باقی رہے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2631

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2632

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنْ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح جسم سے جدا ہو اور وہ شخص تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوجائے تکبر سے خیانت سے اور قرض سے ۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Hadith 2632

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2633

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا قَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِالْوَفَاءِ قَالَ بِالْوَفَاءِ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص کی میت کو لایا گیا تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو میں اس لئے نہیں پڑھ رہا کیونکہ اس کے ذمے قرض ہے۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی اس کی ادائیگی کا میں ذمہ لیتاہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا پورے کا۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی پورے کا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو الْوَلِيدِ

Hadith 2633

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2634

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ إِلَّا أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْأُدْعَ لَهُ فَأَنَا مَوْلَاهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ قَالَ عَبْد اللَّهِ ضَيَاعًا يَعْنِي عِيَالًا وَقَالَ فَلْأُدْعَ لَهُ يَعْنِي ادْعُونِي لَهُ أَقْضِ عَنْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست اقدس میں میری جان ہے۔ روئے زمین پر جو بھی مومن ہے میں باقی سب لوگوں کے مقابلے میں اس کے زیادہ قریب ہوں لہذا جو مومن کوئی قرض یا کنبہ چھوڑ کر مرے گا تو اس کے بارے میں مجھے بلایا جائے گا کیونکہ میں اس کا نگران ہوں اور جو شخص کوئی مال چھوڑ کر جائے گا تو وہ اس کے قریبی رشتے داروں کو مل جائے گا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ ضیاع سے مراد اہل خانہ ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں مجھے بلایا جائے گا سے مراد یہ ہے کہ تم لوگ اس قرض کی ادائیگی کے لئے مجھے بلاؤ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 2634

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2635

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَقُولُ لِخَازِنِهِ اذْهَبْ فَخُذْ لِي بِدَيْنٍ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَبِيتَ لَيْلَةً إِلَّا وَاللَّهُ مَعِي بَعْدَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کا فضل قرض خواہ کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کردے جب تک وہ کسی ایسے کام کو انجام نہیں دیتا جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنے خزانچی سے کہا تھاجاؤ اور میرے لینے والا لے آؤ کیونکہ جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں کوئی ایسی رات بسر کروں جس میں اللہ میرے ساتھ نہ ہو۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ،

Hadith 2635

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2636

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ

حضرت سمرہ بن جندب روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے آدمی کے ہاتھ نے جو حاصل کیا ہو اس کی ادائیگی اس پر لازم ہے یہاں تک کہ وہ اسے واپس کردے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ،

Hadith 2636

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2637

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ عَنْ شَرِيكٍ وَقَيْسٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَدِّ إِلَى مَنْ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جس شخص نے تمہیں امانت سونپی تھی اس کی امانت اسے واپس ادا کردو اور جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔

أَدِّ إِلَى مَنْ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← شَرِيكٍ وَقَيْسٍ ← طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 2637

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2638

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَهْدَى بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ قَصْعَةً فِيهَا ثَرِيدٌ وَهُوَ فِي بَيْتِ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ فَضَرَبَتْ الْقَصْعَةَ فَانْكَسَرَتْ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ الثَّرِيدَ فَيَرُدُّهُ فِي الصَّحْفَةِ وَهُوَ يَقُولُ كُلُوا غَارَتْ أُمُّكُمْ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى جَاءَتْ قَصْعَةٌ صَحِيحَةٌ فَأَخَذَهَا فَأَعْطَاهَا صَاحِبَةَ الْقَصْعَةِ الْمَكْسُورَةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ نَقُولُ بِهَذَا

حضرت انس روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ نے آپ کی خدمت میں ایک پیالہ بھیجا جس میں ثرید موجود تھا اس وقت آپ دوسری زوجہ کے ہاں تھے اس دوسری زوجہ نے اس پیالے کو مار کر توڑ دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ثرید کو اٹھا کر ہتھیلی پر رکھا اور ارشاد فرمایا کھالو تمہاری والدہ کو غصہ آگیا تھا۔ پھر آپ انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ وہ صحیح پیالہ لے آئیں آپ نے وہ پیالہ لیا اور ان محترمہ کو ادا کیا جو ٹوٹے ہوئے پیالے کی مالک تھیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں ہم بھی اسی بات کے قائل ہیں۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2638

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2639

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنَيْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ الثَّقَفِيِّ أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَجَدَ عَيْبَةً فَأَتَى بِهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ عُرِفَتْ فَذَاكَ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ فَلَمْ تُعْرَفْ فَلَقِيَهُ بِهَا فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي الْمَوْسِمِ فَذَكَرَهَا لَهُ فَقَالَ عُمَرُ هِيَ لَكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي بِهَا فَقَبَضَهَا عُمَرُ فَجَعَلَهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ

سفیان کے دو صاحبزادے عمرو اور عاصم بیان کرتے ہیں حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک تھیلی ملی وہ اسے لے کر حضرت عمر کے پاس آئے حضرت عمر نے ہدایت کی کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو اگر اس کی شناخت ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ تمہاری ہوئی۔ اتنے عرصے کے تک کوئی شناخت نہ ہوئی اگلے سال حج کے موقع پر سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ پھر اس تھیلی کے ہمراہ حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے اور اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا یہ تمہاری ہوئی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کی ہدایت کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے حضرت عمر نے اس تھیلی کو اپنے قبضے میں کرلیا اور اسے بیت المال میں جمع کردیا۔

عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 2639

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2640

أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے لشکر کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیا اور اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر غلبہ نصیب کیا خبردار یہ بات مجھ سے پہلے کسی کے لئے جائز نہیں تھی اور میرے بعد بھی کسی کے لئے جائز نہیں ہوگی کہ وہ مکہ پر حملہ کرے خبردار آج کی اس گھڑی سے یہ قابل احترام ہے اس کی گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اس کے درخت کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور اس میں گری ہوئی چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا البتہ کوئی شخص اعلان کرنے کے لئے اٹھائے تو اسے اس کی اجازت ہے۔

إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ ← أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ

Hadith 2640

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2641

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ الْجَارُودِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ

جارود بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی دوسرے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کاشعلہ ہے۔

الْجَارُودِ، ← اَبِیْ مُسْلِمٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Hadith 2641

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2642

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ عَنْ الْجَارُودِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ لَا تَقْرَبَنَّهَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا قَالَ أَنْشِدْهَا وَلَا تَكْتُمْ وَلَا تُغَيِّبْ فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ

حضرت جارود بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کاشعلہ ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کاشعلہ ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کاشعلہ ہے تم ہرگز اس کے قریب نہ جانا۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ اگر کوئی گری ہوئی چیز ہمیں مل جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کا اعلان کرو تم اسے چھپاؤ نہیں تم اسے پوشیدہ نہیں رکھو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو وہ چیز اس کے سپرد کردو ورنہ اللہ کا مال ہے جسے چاہے عطاکرے۔

الْجَارُودِ، ← أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2642

chevron_left Previous
1…56789
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door