Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2619

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ قَامَ نَاسٌ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ يَبِيعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْعَطَاءِ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى

ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ کے عہد حکومت میں کچھ لوگوں نے تنخواہ کے عوض میں سونے اور چاندی کے برتن فروخت کئے تو حضرت عبادہ بن صامت کھڑے ہوئے اور فرمایا بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو اور گندم کے عوض میں گندم اور کھجوروں کے عوض میں کھجور اور جو کے عوض میں جو اور نمک کے عوض میں نمک کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ انہیں برابر فروخت کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ دونوں ایک جیسے ہوں جب کوئی شخص ان میں کوئی اضافہ کرے گا یا کرو ائے گا تو وہ سودی لین دین ہوگا۔

أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2619

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2620

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي الدَّيْنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ مَعْنَاهُ دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت اسامہ بن زید نے مجھے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود ادھار میں ہوتا ہے امام محمد دارمی فرماتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ دو درہم کے عوض میں ایک درہم (قرض دیا جائے)

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2620

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2621

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ وَرُبَّمَا قَالَ أَقْبِضُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ قَالَ لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِكَ مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کئے میں نے انہیں دیناروں کے عوض میں فروخت کیا تھا لیکن معاوضے میں درہم وصول کرلیے اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ میں نے درہم کے عوض میں فروخت کیا اور دینار وصول کرلیے (اس روایت کے الفاظ میں اختلاف ہے) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے انہیں قبضے میں لیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کئے ہیں میں نے انہیں دینار کے عوض میں فروخت کیا ہے اور معاوضے میں درہم وصول کئے یا درہم کے عوض میں فروخت کیا تھا اور معاوضے میں دینار وصول کرلیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر تم نے آج کے سودے میں خریداہے جب تک تم دونوں فریق جدا نہ ہوئے ہو اور تمہارے درمیان کوئی اور شرط نہیں تھی۔ (یا قیمت کی ادائیگی باقی نہ رہ گئی تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 2621

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2622

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ دِرْعَهُ لَمَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس وقت آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تین صاع کے عوض میں رہن رکھی ہوئی تھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2622

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2623

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ فِي سَنَتَيْنِ وَثَلَاثٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِّفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ يَذْكُرُهُ زَمَانًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ثُمَّ شَكَّكَهُ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ دو یا تین سال کے وعدے پر سلف کرلیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھلوں پر سلف کرلیا کرو جب کہ ان کی مقدار اور وزن معلوم ہو سفیان اس حدیث کو طویل عرصے تک بیان کرتے رہے اور اس میں یہ بات بھی ذکر کی کہ ادائیگی کی مدت بھی طے شدہ ہونی چاہیے عبداللہ بن کبیر نے انہیں اس بارے میں شک میں مبتلا کردیا۔

قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ فِي سَنَتَيْنِ وَثَلَاثٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2623

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2624

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَنَ لَهُمْ دَرَاهِمَ فَأَرْجَحَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طے شدہ ادائیگی کے برابر دہم کا وزن کرکے دیا اور اس میں اضافہ کیا۔

جَابِرًا ← مُحَارِبٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Hadith 2624

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2625

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ الْبَحْرَيْنِ إِلَى مَكَّةَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ أَوْ اشْتَرَى مِنَّا سَرَاوِيلَ وَثَمَّ وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ فَلَمَّا ذَهَبَ يَمْشِي قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سوید بن قیس بیان کرتے ہیں میں اور مخرمہ عبدی نے بحرین سے ایک کپڑا خریدا اور مکہ لے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ہمارے ساتھ ایک پاجامے کا سودا کیا راوی کو شک ہے آپ نے ہم سے ایک پاجامہ خریدا وہاں وزن کرنے والا ایک شخص موجود تھا جو معاوضے کا وزن کرتا تھا آپ نے اس وزن کرنے والے سے فرمایا تم وزن کرو اور زیادہ تول دینا۔ (یعنی قیمت زیادہ کرنا) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ تو اللہ کے رسول تھے۔

سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2625

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2626

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرض کی ادائیگی میں صاحب مال آدمی کا تاخیر کرنا ظلم ہے جب کسی شخص کو بقیہ قرض کی وصولی کسی کے حوالے سے کیا جائے تو اسے ایسا کرلینا چاہیے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 2626

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2627

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى يَا كَعْبُ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيْ الشَّطْرَ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ

عبداللہ بن کعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے ابن ابی درد سے اپنے قرض کی واپسی کا مسجد میں مطالبہ کیا جو ابن ابی حدرد کے ذمے لازم تھا ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے گھر میں موجود تھے آپ نے آواز سن لی آپ ان دونوں کے پاس تشریف لائے اور بلند آواز سے کہا اے کعب انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا تم اپنا اتنا قرض معاف کر دو آپ نے اشارے کے ذریعے انہیں حکم دیا کہ نصف قرض معاف کردو حضرت کعب نے عرض کی میں نے ایساہی کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد سے ارشاد فرمایا اٹھو اور تم بقیہ قرض ادا کردو۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Hadith 2627

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2628

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ أَبِي الْيَسَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ قَالَ فَبَزَقَ فِي صَحِيفَتِهِ فَقَالَ اذْهَبْ فَهِيَ لَكَ لِغَرِيمِهِ وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ مُعْسِرًا

حضرت ابوایسر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے جو شخص کسی تنگ دست مقروض کو مہلت دے یا اسے کچھ قرض معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص کو اپنے رحمت کے سائے میں رکھے گا جس دن اللہ کی رحمت کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے اسے صحیفے (اس قرض کا معاہدہ تحریر تھا پر تھوک دیا اور بولے جاؤ یہ تمہارا ہے) یعنی یہ مقروض سے کہا راوی کہتے ہیں انہوں نے یہ بات بتائی کہ وہ مقروض تنگ دست شخص تھا۔

أَبِي الْيَسَرِ ← رِبْعِيٍّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 2628

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2629

حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِيمِهِ أَوْ مَحَا عَنْهُ كَانَ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے مقروض کو مہلت دے یا اسے کچھ قرض معاف کردے تو قیامت کے دن وہ شخص عرش کے سائے میں ہوگا۔

غَرِيمِهِ أَوْ مَحَا عَنْهُ كَانَ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← مَنْ نَفَّسَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ

Hadith 2629

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2630

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا يَحْيَى أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ أَوْ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی مفلس آدمی کے پاس اپنا مال بعینہ پائے تو دوسرے کے مقابلے میں وہ شخص اس کا زیادہ مستحق ہوگا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ ← أَنَّهُ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَنَّهُ ← يَحْيَى أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2630

chevron_left Previous
1…456…9
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door