Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2571

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُتَشَابِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى فَيُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ

حضرت نعمان بن بشیربیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے حلال اور حرام واضح ہیں ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ ہیں جن سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں جو شخص ان چیزوں سے بچ جائے گا وہ اپنی عزت اور دین کو محفوظ رکھے گا۔ جو شخص ان چیزوں میں مبتلا ہوجائے گا وہ حرام میں بھی مبتلا ہوجائے گا اس کی مثال اس چرواہے کی طرح ہے جو کسی چراگاہ کے آس پاس جانور چراتا رہے تو اس بات کا امکان رہے گا کہ وہ اس چراگاہ میں داخل ہوجائیگا۔ بے شک ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور بے شک اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ خبردار جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ ٹھیک رہے تو سارا جسم ٹھیک رہے گا اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجائے گا خبردار وہ دل ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2571

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2572

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَا تَحْفَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ مَسْأَلَةٍ لَا أَدْرِي مَا هِيَ فَقَالَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ

ابوحوراء بیان کرتے ہیں میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی کوئی بات یاد رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ایک شخص نے آپ سے کوئی سوال کیا تھا مجھے نہیں معلوم وہ سوال کیا تھا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ کر اس چیز کو اپناؤ جو شک میں مبتلا نہ کرے۔

دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لاَ يَرِيبُك. ← مَسْأَلَةٍ لَا أَدْرِي مَا هِيَ ← سَأَلَهُ رَجُلٌ ← قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَا تَحْفَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2572

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2573

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ الْفِهْرِيِّ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَابِصَةَ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ فَضَرَبَ بِهَا صَدْرَهُ وَقَالَ اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ يَا وَابِصَةُ ثَلَاثًا الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ

حضرت وابصہ بن معبد اسدی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت وابصہ سے ارشاد فرمایا تم نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کرتے ہو انہوں نے فرمایا جی ہاں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کر کے انہیں حضرت وابصہ کے سینے پر مارتے ہوئے ارشاد فرمایا اپنے آپ سے پوچھو اپنے دل سے پوچھو۔ اے وابصہ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی نیکی وہ ہے جس سے تمہارا نفس مطمئن ہو اور تمہارا دل مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو تمہارے من میں کھٹکے تمہارا سینہ اس کے بارے میں متردد ہو خواہ لوگ اس کے بارے میں تمہیں کوئی فتوی دیں۔

وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ ← أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ الْفِهْرِيِّ ← الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2573

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2574

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ فَقَالَ أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ قَضَى أَنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

ابوحرہ رقاشی اپنے چچا کا بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی میں لوگوں کو آپ کے سامنے سے ہٹارہا تھا آپ نے ارشاد فرمایا خبردار زمانہ جاہلیت کا ہر سود کالعدم ہے خبردار بے شک اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیاہے کہ سب سے پہلا سود جسے کالعدم قرار دیا جائے گا وہ عباس بن عبدالمطلب کا وصول کرنے والا سود ہے تمہارا اصل مال تمہارے پاس رہے گا۔ نہ تم زیادتی کرو اور نہ تمہارے ساتھ زیادتی کی جائے۔

عَمِّہٖ ← أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2574

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2575

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور اسے کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← هُزَيْلٍ ← أَبِي قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2575

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2576

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ بِحَلَالٍ أَمْ بِحَرَامٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب کوئی شخص اپنے حاصل ہونے والے مال کے بارے میں کوئی بھی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ حلال ہے یا حرام ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2576

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2577

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَقَّ مَا يَأْكُلُ الرَّجُلُ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان جس کھانے کا سب سے زیادہ مستحق ہے وہ اس کی اپنی پاکیزہ کمائی ہے اور اس کی اولاد بھی اس کی پاکیزہ کمائی کا حصہ ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمَّتِهِ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2577

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2578

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ حَتَّى إِذَا اشْرَأَبُّوا قَالَ التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنْ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ يَقُولُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رِفَاعَةَ وَإِنَّمَا هُوَ إِسْمَعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ

اسماعیل بن رفاعہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت المعلی میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اے تاجروں کے گروہ۔ جب وہ لوگ متوجہ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا قیامت کے روز تاجروں کو گناہ گار لوگوں کی صورت میں اکٹھا کیا جائے گا۔ ماسوائے اس تاجر کے جو اللہ سے ڈرے اور نیکی کرے اور سچ بولے۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابونعیم نامی راوی نے ایک راوی کا نام عبیداللہ بن رفاعہ ذکر کیا ہے حالانکہ وہ راوی اسماعیل بن عبید بن رفاعہ ہے۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رِفَاعَةَ وَإِنَّمَا هُوَ إِسْمَعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ← أَبُو مُحَمَّد كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ ← التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنْ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْبَقِيعِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ حَتَّى إِذَا اشْرَأَبُّوا ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَعِيلَ بْنِ رِفَاعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2578

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2579

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ قَالَ عَبْد اللَّهِ لَا عِلْمَ لِي بِهِ إِنَّ الْحَسَنَ سَمِعَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ هَذَا هُوَ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء کے ساتھ ہوگا۔ امام دارمی فرماتے ہیں مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ حضرت حسن نے یہ حدیث حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی ہے یا نہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت کے راوی ابوحمزہ ابراہیم کے ساتھی ہیں اور ان کا نام میمون اعور ہے۔

مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ← عَبْد اللَّهِ لَا عِلْمَ لِي بِهِ إِنَّ الْحَسَنَ ← «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ» ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← الْحَسَنِ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2579

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2580

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے لئے خیرخواہی اختیار کرنے کی بیعت کی تھی۔

«بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ» ← جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَعِيلُ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2580

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2581

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِطَعَامٍ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَأَعْجَبَهُ حُسْنُهُ فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي جَوْفِهِ فَأَخْرَجَ شَيْئًا لَيْسَ كَالظَّاهِرِ فَأَفَّفَ بِصَاحِبِ الطَّعَامِ ثُمَّ قَالَ لَا غِشَّ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی بازار کے پاس سے گزرے وہاں آپ نے غلہ پایا وہ آپ کو بہت پسند آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا تو اندر سے کچھ اناج نکلا جو باہر والے کی مانند نہیں تھا آپ نے اس اناج کے مالک سے فرمایا تم پر افسوس ہے۔ پھر فرمایا مسلمانوں کے درمیان دھوکہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو شخص ہمیں دھوکہ دے گا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2581

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2582

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قیامت کے دن ہر وعدہ شکن کے لئے مخصوص جھنڈا ہوگا اور کہا جائے گا یہ فلاں شخص کی عہد شکنی ہے۔

لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ ← النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2582

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door