Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2536

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہم کسی مشرک سے مدد حاصل نہیں کرتے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ ← مالک بن أنس ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 2536

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2537

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ عَنْ رَوْحٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ فُضَيْلٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَطْوَلُ مِنْهُ

سیدنا عروۃؓ سیدہ عائشہؓ سے اس سے لمبی حدیث نقل کرتے ہیں۔

عَائِشَةَ أَطْوَلُ مِنْهُ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ ← فُضَيْلٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ، ← إِسْحَقُ

Hadith 2537

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2538

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ أَبِيهِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ كَانَ فِي آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخْرِجُوا يَهُودَ الْحِجَازِ وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ

حضرت ابوعبیدہ بن جراح بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فرمان یہ تھایہود کو حجاز سے نکال دو اور اہل نجران کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔

أَخْرِجُوا يَهُودَ الْحِجَازِ وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ← كَانَ فِي آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ← أَبِيهِ سَمُرَةَ ← سَعْدُ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَفَّانُ،

Hadith 2538

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2539

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتَ بِأَرْضٍ كَمَا ذَكَرْتَ فَلَا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا

حضرت ابوثعلبہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھالیتے ہیں (اسکا حکم کیا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسے علاقے میں رہتے ہو جیسا تم نے بیان کیا ہے تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ اگر ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو تو کھاسکتے ہو لیکن دھو کر۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أَبُو ثَعْلَبَةَ ← أَبُو إِدْرِيسَ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2539

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2540

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَالْتَزَمْتُهُ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَا أُعْطِي مِنْ هَذَا أَحَدًا الْيَوْمَ شَيْئًا فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَسِمُ إِلَيَّ قَالَ عَبْد اللَّهِ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ حُمَيْدٌ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں غزوہ خیبرکے موقع پر مجھے ایک مشکیزہ ملا جس میں چربی موجود تھی میں اس کے پاس آیا اور اسے پکڑ کر کہنے لگا آج میں یہ کسی کو نہیں دوںگا جب میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری بات پر مسکرا رہے تھے امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس حدیث کے راوی ابوحمید نے حضرت عبداللہ زبانی یہ حدیث سنی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← حُمَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Hadith 2540

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2541

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بَجَالَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ

بجالہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے مجوسیوں سے اس وقت تک جزیہ وصول نہیں کیا جب تک حضرت عبدالرحمن بن عوف نے گواہی نہیں دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔

بَجَالَةَ ← عَمْرٍو، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2541

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2542

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تُحَدِّثُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ

حضرت ابونضر بیان کرتے ہیں عقیل بن ابوطالب کے آزاد کردہ غلام ابومرہ بیان کرتے ہیں انہوں ابوطالب کی صاحبزادی حضرت ام ہانی کو یہ بیان کرتے ہوئے سناہے فتح مکہ کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی یا رسول اللہ میرے بھائی حضرت علی ایک شخص کو قتل کرنا چاہتے ہیں جسے میں نے پناہ دی ہے وہ ہبیرہ کا بیٹا ہے فلاں شخص، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اے ام ہانی جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔

أَنَّهُ ← أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Hadith 2542

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2543

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ قَالَ خَرَجْتُ أُسْفِرُ فَرَسًا لِي مِنْ السَّحَرِ فَمَرَرْتُ عَلَى مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ فَسَمِعْتُهُمْ يَشْهَدُونَ أَنَّ مُسَيْلَمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ الشُّرَطَ فَأَخَذُوهُمْ فَجِيءَ بِهِمْ إِلَيْهِ فَتَابَ الْقَوْمُ وَرَجَعُوا عَنْ قَوْلِهِمْ فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ وَقَدَّمَ رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُوَاحَةَ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فَقَالُوا لَهُ تَرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَتَلْتَ هَذَا فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ دَخَلَ هَذَا وَرَجُلٌ وَافِدَيْنِ مِنْ عِنْدِ مُسَيْلَمَةَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَا لَهُ تَشْهَدُ أَنْتَ أَنَّ مُسَيْلَمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَقَتَلْتُكُمَا فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ وَأَمَرَ بِمَسْجِدِهِمْ فَهُدِمَ

ابن معیز سعدی بیان کرتے ہیں میں اپنے گھوڑے کو چرانے کے لئے نکلا میرا گزر بنوحنیفہ (نامی قبیلے) کی مسجد کے پاس سے ہوا میں نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف کچھ سپاہی بھیجے۔ ان سپاہیوں نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں لے کر آگئے ان سب لوگوں نے توبہ کی اور اپنے قول سے رجوع کرلیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیاالبتہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک شخص کو آگے کیا اس کا نام عبداللہ بن نواحہ تھا اور اسے قتل کردیا گیا لوگوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ نے باقی کو تو چھوڑ دیا اس ایک کو قتل کیوں کیا فرمایا ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران یہ شخص اور ایک اور شخص مسیلمہ کے قاصد کے طور پر آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا کیا تم دونوں یہ اعتراف کرتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں اگر میں کسی قاصد کو قتل کرتا تو تم دونوں کو قتل کردیتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں اسی وجہ سے میں نے اس شخص کو قتل کردیا۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے قتل کرنا چاہتے تھے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود کے حکم کے تحت ان لوگوں کی وہ مسجد منہدم کردی گئی۔

ابن معيز السعدي ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 2543

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2544

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ الْغَطَفَانِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ

حضرت ابوبکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص ناحق طور پر کسی معاہد کو قتل کردے اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردے گا۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ الْغَطَفَانِيُّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Hadith 2544

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2545

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَتْ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ فَأُسِرَ وَأُخِذَتْ الْعَضْبَاءُ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَى مَا تَأْخُذُونِي وَتَأْخُذُونَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ وَقَدْ أَسْلَمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ فُدِيَ بِرَجُلَيْنِ فَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِهِ فِيهَا الْعَضْبَاءُ وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا قَالَ أَبُو مُحَمَّد ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً إِبِلُهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَتْ الْمَرْأَةُ وَقَدْ نُوِّمُوا فَجَعَلَتْ لَا تَضَعُ يَدَيْهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا حَتَّى أَتَتْ الْعَضْبَاءَ فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ تَوَجَّهَتْ قِبَلَ الْمَدِينَةِ وَنَذَرَتْ لَئِنْ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمَتْ عُرِفَتْ النَّاقَةُ فَقِيلَ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَتْ الْمَرْأَةُ بِنَذْرِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا أَوْ بِئْسَمَا جَزَتْهَا إِنْ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں بنوعقیل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی اونٹنی جس کا نام عضباء تھا اس کو اس کی اونٹنی سمیت گرفتار کرلیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے وہ بندھا ہوا تھا وہ بولا اے محمد آپ نے مجھے اور میری تیزرفتار اونٹنی کو کیوں پکڑا جبکہ میں اسلام قبول کرچکاہوں ارشاد فرمایا اگر تم یہ اعتراف کرتے ہو تو تم آزاد ہو تمیہں ہرطرح کی بھلائی نصیب ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہم نے تمہیں تمہارے حلیف لوگوں کی زیادتی کی وجہ سے پکڑا ہے راوی کا بیان ہے ثقیف قبیلے کے لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قید کرلیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر تشریف لائے جس پر ایک کمبل پڑا ہوا تھا وہ شخص بولا اے محمد میں بھوکاہوں مجھے کچھ کھلائیے میں پیاساہوں مجھے کچھ پلائیے ارشاد ہوا یہ تمہاری ضرورت یعنی کھانے کا سامان ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر ایک شخص کو دو حضرات کے عوض فدیئے کے طور پر ادا کیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اونٹنی کو اپنی سواری کے لئے رکھ لیا کیونکہ وہ انتہائی تیزرفتار تھی۔ پھر ایک مرتبہ مشرکین نے مدینہ منورہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور انہیں پکڑ لیا جن میں وہ اونٹنی بھی شامل تھی انہوں نے ایک مسلمان خاتون کو بھی قید کرلیا۔ جب ان لوگوں نے پڑاؤ کیا (امام دارمی فرماتے ہیں اس کے بعد راوی نے ایک جملہ نقل کیا ہے) تو ان کے اونٹ کھلے میدان میں تھے جب رات کا وقت ہوا تو وہ خاتون اٹھی وہ لوگ اس وقت سوچکے تھے وہ خاتون جس اونٹ پرہاتھ رکھتی وہ اونٹ آواز نکالتا۔ یہاں تک کہ جب وہ خاتون عضباء کے پاس آئی تو عضباء نے آواز نہ نکالی وہ خاتون اس پر سوار ہوئی اور مدینہ کی طرف چل پڑی اس نے نذرمانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو قربان کردے گی۔ راوی کہتے ہیں جب وہ عورت مدینہ پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو پہچان لیا اور کہا گیا کہ یہ تو اللہ کے رسول کی اونٹنی ہے پھر وہ لوگ اس خاتون کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نذر کے بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا تم نے اس اونٹنی کو بہت برا بدلہ دیاہے اللہ نے اسے اس لئے نجات دی کی تم اسے قربان کردو۔ ؟ اللہ کی نافرمانی والی کسی نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہے اور انسان جس چیز کا مالک نہ ہو اس کے بارے میں بھی کوئی نذر پوری کرنا لازم نہیں ہے ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 2545

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2546

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى بِأَرْبَعٍ حَتَّى صَهَلَ صَوْتُهُ أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَإِنَّ أَجَلَهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ

حضرت محرر بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابوطالب کو بھیجا اس وقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چارباتوں کا اعلان کیا یہاں تک کہ ان کی آواز بیٹھ گئی (وہ باتیں یہ ہیں) خبردار مسلمانوں کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوسکے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا اور کوئی شخص بیت اللہ کا برہنہ طواف نہیں کرسکے گا اور جس شخص کا اللہ کے رسول کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے جب چار ماہ گزرجائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول مشرکین سے بری الذمہ ہونگے۔

أَبِيهِ ← مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الْمُغِيرَةِ، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ،

Hadith 2546

Sahih

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2547

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لَا نُقِرُّ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لِعَلِيٍّ امْحُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحُوهُ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا يَدْخُلَ مَكَّةَ بِسِلَاحٍ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدًا أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ

حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں ذیقعدہ کے مہینے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے انہیں مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا اور یہ شرط رکھی کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف تین دن وہاں قیام کریں تو وہ انہیں مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے۔ جب ان لوگوں نے یہ معاہدہ تحریر کیا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو اللہ کے رسول محمد کررہے ہیں مشرکین نے کہا ہم اس کا اقرار نہیں کریں گے کیونکہ اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو آنے سے کیسے روکتے آپ محمد بن عبداللہ ہیں اس لئے معاہدے میں یہ تحریر کیا جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ محمد رسول اللہ مٹادو انہوں نے عرض کی نہیں اللہ کی قسم میں اسے کبھی بھی نہیں مٹاؤں گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر پکڑی آپ باقاعدہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن آپ نے رسول اللہ کی جگہ یہ تحریر کیا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ کررہے ہیں وہ ہتھیاروں کے ساتھ مکہ میں داخل نہیں ہوں گے البتہ تلواریں میان میں ڈالی ہوئی ہوں گی اور اہل مکہ میں سے جو شخص نکل کر ان کے پاس جائے گا اور ان کی پیروی کرنا چاہے گا اور ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو اسے ساتھ نہیں لے کر جائیں گے اور جو اصحاب مکہ میں رہنا چاہیں گے وہ انہیں منع نہیں کریں گے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے اور وہ مخصوص مدت گزرگئی تو وہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے آپ اپنے آقا سے کہیں کہ وہ یہاں سے تشریف لے جائیں کیونکہ طے شدہ مدت پوری ہوچکی ہے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبُو إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2547

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door