Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2524

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جنگ کےدوران کسی کافر کو قتل کرے گا اس کافر کاجنگی سامان اسے ملے گا حضرت ابوطلحہ نے اس دن بیس افراد کو قتل کیا اور ان کا سامان ان کو مل گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Hadith 2524

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2525

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ هُوَ عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے ایک شخص کو مقابلے کی دعوت دی اور اسے قتل کردیا تو نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنگی سامان مجھے عطا کیا ۔

بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ سَلَبَهُ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ← ابْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ هُوَ عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2525

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2526

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُسْلِمِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافی ادائیگی کو ناپسند کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے خوش حال مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ غریبوں کو اضافی طور پر ملنے والا مال دیدیں۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ← أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Hadith 2526

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2527

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ہے دھاگہ اور سوئی بھی (امام تک) پہنچادو اور خیانت کرنے سے بچو کیونکہ قیامت کے دن خیانت اپنے کرنے والے کے لئے شرمندگی کا باعث ہوگی۔

Hadith 2527

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2528

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلًى لِتُجِيبَ قَالَ حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ غَزَوْنَا الْمَغْرِبَ وَعَلَيْنَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ فَافْتَتَحْنَا قَرْيَةً يُقَالُ لَهَا جَرْبَةُ فَقَامَ فِينَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ خَطِيبًا فَقَالَ إِنِّي لَا أَقُومُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحْنَاهَا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبَنَّ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَجْحَفَهَا أَوْ قَالَ أَعْجَفَهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَنَا أَشُكُّ فِيهِ رَدَّهَا وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ

حضرت حنش صنعانی بیان کرتے ہیں ہم مراکش میں ایک جنگ میں شریک ہوئے حضرت رویفع بن ثابت انصاری ہمارے امیر تھے ہم نے گاؤں فتح کرلیا جس کا نام جربہ تھا حضرت رویفع ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا میں یہاں یہی باتیں بیان کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں جو آپ نے غزوہ خیبر کی فتح کے موقع پر ہمیں ارشاد فرمائی تھیں آپ نے فرمایا تھا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ جب وہ جانور بیکار ہوجائے تو اسے (بیت المال کو) واپس کردے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب وہ پرانا ہوجائے تو اسے واپس کردے۔

حنش الصنعاني ← أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلًى لِتُجِيبَ ← يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Hadith 2528

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2529

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلًا فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ أَوْ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا قَالَ لِي يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُمْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ فَقُمْتُ فَنَادَيْتُ فِي النَّاسِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب بیان کرتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ لوگ مارے گئے دوسرے لوگوں نے کہا فلاں شخص شہید ہوگیا انہوں نے کئی لوگوں کو ذکر کیا اور کہا وہ شخص بھی شہید ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اسے جہنم میں دیکھاہے اس کے جسم پر ایک عباء (راوی کو شک ہے یا شاید) ایک چادر تھی جو اس نے خیانت کے طور پر لی تھی (حضرت عمر فرماتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن خطاب اٹھو اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہونگے (حضرت عمر فرماتے ہیں) میں اٹھا اور میں نے لوگوں میں یہ اعلان کردیا۔

فُلَانٌ شَهِيدٌ، ← فُلاَنٌ شَهِيدٌ حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلًا, ← قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 2529

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2530

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ فَاضْرِبُوهُ وَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ

سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ (جس نے مال غنیمت میں) خیانت کی ہو اسے مارو اور اس کا سازوسامان جلادو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← صالح بن محمد بن زائدة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Hadith 2530

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2531

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَهْبَ وَلَا إِغْلَالَ وَلَا إِسْلَالَ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْإِسْلَالُ السَّرِقَةُ

کثیر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے لوٹ مار (جائز نہیں) اور مال غنیمت میں خیانت کرنا جائز نہیں ہے اور چوری بھی جائز نہیں ہے جو شخص خیانت کرے گا جو چیز اس نے خیانت کی ہے وہ قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ) "اسلال " سے مراد چوری کرنا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ

Hadith 2531

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2532

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ ابْنَ أَرْطَاةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ لَقَطَعْتُهَا

حضرت جنادہ ابوامیہ بیان کرتے ہیں اگر میں نے ابن ارطات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جنگ کے دوران ہاتھ نہیں کاٹے جاسکتے تو میں اس چور کے ہاتھ کاٹ دیتا۔

لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ لَقَطَعْتُهَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنَ أَرْطَاةَ ← لَوْلَا أَنِّي ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ لَهِيعَةَ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ،

Hadith 2532

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2533

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأَمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعِرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبِطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوهُ

حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ایک شخص کو صدقہ کا مال وصول کرنے کا عامل مقرر کیا وہ عامل اپنا کام ختم کرنے کے بعد نبی کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کی یا رسول اللہ یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے نبی اکرم نے فرمایا تم اپنے ماں باپ کے گھر پر کیوں نہیں بیٹھ گئے تاکہ تم اس بات کا جائزہ لیتے کہ تمہیں تحفے کے طور پر کچھ دیاجاتا یا نہ دیاجاتا۔ پھر شام کے وقت نماز کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا یہ عام لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انہیں عامل مقرر کرتے ہیں اور پھر یہ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھ جاتا تاکہ پھر جائزہ لے کہ اسے تحفہ ملتا ہے یا نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے تم میں سے جو بھی خیانت کرے گا قیامت کے دن وہ اس چیز کو اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا اگر وہ اونٹ ہوگا تو اس اونٹ کو اٹھا کر لائے گا جو آوازیں نکال رہا ہوگا اگر وہ گائے ہوگی تو اس گائے کو اٹھا کر لائے جو بول رہی ہو گی جو بکری کی خیانت کرے گا وہ اس بکری کو اٹھا کر لائے گا میں نے تبلیغ کردی ہے حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں یہ بات میرے ہمراہ حضرت زید بن ثابت نے نبی اکرم کی زبانی سنی تھی تم ان سے پوچھ سکتے ہو۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Hadith 2533

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2534

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنٍ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً فَقَبِلَهَا

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں ذی یزن کے حکمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک "حلہ" تحفے کے طور پر پیش کیا تھا جسے اس نے تینتس (٣٣) اونٹوں کے عوض خریدا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کرلیا۔

ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2534

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2535

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ بَعَثَ صَاحِبُ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا

ابوحمید بیان کرتے ہیں ایلہ کے حکمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مکتوب بھیجا اور سفید خچربھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جوابی خط لکھا اور اسے تحفے کے طور پر چادر بھیجی ۔

إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا ← بَعَثَ صَاحِبُ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِكِتَابٍ وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ ← أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عباس بن سهل الساعدي ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Hadith 2535

chevron_left Previous
1…45678
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door