Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2500

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول نے بنونضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا دیئے تھے۔

حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 2500

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2501

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الدَّوْسِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ إِنْ ظَفِرْتُمْ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ فَحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ بَعَثَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ بِتَحْرِيقِ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ثُمَّ رَأَيْتُ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا اللَّهُ فَإِنْ ظَفِرْتُمْ بِهِمَا فَاقْتُلُوهُمَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دوسی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا اور ہدایت کی جب تم فلاں اور فلاں شخص کو پکڑو تو پکڑ کر انہیں آگ میں جلا دینا۔ اگلے دن آپ نے ہمیں پیغام بھجوایا میں نے تمہیں ان دو افراد کو جلانے کا حکم دیا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ آگ کے ذریعے عذاب دے اگر تم ان دونوں پر قابو پالو تو انہیں قتل کردینا۔

إِنْ ظَفِرْتُمْ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ فَحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ بَعَثَ إِلَيْنَا ← بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي سَرِيَّةٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ ← أَبِي إِسْحَقَ الدَّوْسِيِّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Hadith 2501

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2502

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وُجِدَ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک جنگ کے دوران ایک خاتون مقتول پائی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیاہے۔

قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ← وُجِدَ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Hadith 2502

Sahih

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2503

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَظَفِرَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْقَتْلِ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ ذَهَبَ بِهُمْ الْقَتْلُ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ أَلَا لَا تُقْتَلَنَّ ذُرِّيَّةٌ ثَلَاثًا

اسود بن سریع بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ہم نے کچھ مشرکین پکڑ لئے لوگوں نے تیزی سے قتل کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ انہوں نے کچھ بچوں کو قتل کردیا جب اس کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے یہ لوگوں کو قتل کرتے جارہے ہیں یہاں تک کہ بچوں کو بھی قتل کردیا خبردار کوئی بھی شخص بچوں کو قتل نہ کرے۔ (یہ بات آپ نے تین بار اشاد فرمائی)

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2503

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2504

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ تُرِكَ فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ الشَّعْرَ فَلَمْ يَقْتُلُونِي يَعْنِي يَوْمَ قُرَيْظَةَ

حضرت عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا جس بچے کی داڑھی نکلی ہوئی تھی اسے قتل کردیا گیا اور جس کی نہیں نکلی ہوئی تھی اسے چھوڑ دیا گیا میں ان لوگوں میں سے ایک تھا جس کی داڑھی نہیں نکلی ہوئی تھی تو مسلمانوں نے مجھے قتل نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں یہ بنوقریظہ سے جنگ کے دنوں کی بات ہے۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2504

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2505

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قیدی کو رہا کرو اور بھوکے شخص کو کھانا کھلاؤ۔

فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2505

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2506

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادَى رَجُلًا بِرَجُلَيْنِ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو افراد کے مقابلے میں ایک شخص کو فدیہ کے طور پر ادا کیا ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 2506

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2507

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا يُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا

حضرت ابوذرغفاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے پانچ خصوصیات عطاکی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا کی گئی مجھے سرخ اور سیاہ فام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا اور میرے لئے تمام روئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی دشمن ایک ماہ کے فاصلے سے مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے اور مجھ سے یہ کہا گیا کہ تم مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا تو میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھ لیاہے اور اگر اللہ نے چاہا تو جو شخص کسی کو اللہ کا شریک نہیں سمجھتا یہ شفاعت اسے نصیب ہوگی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مُجَاهِدٍ ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Hadith 2507

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2508

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعْرَانَةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي الْإِسْنَادِ

حضرت ابووائل بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت جعرانہ کے مقام پر تقسیم کیا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی ہیں۔

عَبْد اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي الْإِسْنَادِ ← قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعْرَانَةِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 2508

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2509

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ فَتْحَ خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ فَوَقَعْنَا فِي رِحَالِهِمْ فَابْتَدَرَ النَّاسُ مَا وَجَدُوا مِنْ جَزُورٍ قَالَ فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ فَارَتْ الْقُدُورُ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُكْفِئَتْ قَالَ ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشْرَةٍ شَاةً قَالَ وَكَانَ بَنُو فُلَانٍ مَعَهُ تِسْعَةً وَكُنْتُ وَحْدِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِمْ فَكُنَّا عَشْرَةً بَيْنَنَا شَاةٌ قَالَ عَبْد اللَّهِ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكُمْ يَقُولُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ كَأَنَّهُ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يَحْفَظْهُ

عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں فتح خبیر کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا مشرکین شکست سے دوچار تھے ہم لوگوں نے ان کی رہائش گاہوں پر حملہ کردیا لوگوں کے قبضے میں جو بھی چیز آئی انہوں نے اسے حاصل کرلیا یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ ہانڈیاں تک رکھ لی گئیں ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی تو انہیں انڈیل دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان وہ مال تقسیم کیا اور دس افراد کو ایک بکری عطاکی۔ راوی کہتے ہیں فلاں قبیلے کے لوگوں میں نو افراد تھے اور میں اکیلا تھا میں ان کی طرف متوجہ ہوا یوں ہم دس افراد کے درمیان ایک بکری آگئی۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← زيد1 ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ

Hadith 2509

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2510

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ فَأُلِّفْتُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الصَّوَابُ عِنْدِي مَا قَالَ زَكَرِيَّا فِي الْإِسْنَادِ

عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نبیﷺ سے سابق حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔ ( اس میں ہے )) فرماتے ہیں کہ مجھے ان سے جوڑ دیا گیا۔ ابو محمد داری کہتے ہیں:" میرے نزدیک صحیح وہ ہے جو زکریا نے دوسری حدیث کی سند میں کہا۔"

زَكَرِيَّا فِي الْإِسْنَادِ ← أَبُو مُحَمَّد الصَّوَابُ عِنْدِي مَا ← فَأُلِّفْتُ إِلَيْهِمْ ← النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Hadith 2510

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2511

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بَنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا

یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تاکہ ان میں سے کچھ امور کے بارے میں سوال کریں تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں یہ لکھا۔ تم نے ذوی القربی کے حصے کے بارے میں دریافت کیا ہے جس کا ذکر اللہ نے کیا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں لیکن لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔

اللہُ ← سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ← إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَ ← أَشْيَاء: ← نَجْدَةُ بَنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ← يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Hadith 2511

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door