Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2476

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهَا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ فَكَانَ هَذَا الرَّجُلُ رَجُلًا تَاجِرًا فَكَانَ يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَكَثُرَ مَالُهُ

حضرت صخر غامدی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی اے اللہ میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما۔ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی مہم روانہ کرتے تھے تو اسے دن کے ابتدائی حصے میں روانہ کیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں یہ صاحب یعنی اس حدیث کے راوی حضرت صخر غامدی تاجر آدمی تھے وہ اپنے ملازمین کو دن کے ابتدائی حصے میں تجارت کے لئے بھیجا کرتے تھے۔ تو ان کا مال بہت زیادہ ہوگیا تھا۔

صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، ← عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Hadith 2476

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2477

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَقَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ

حضرت عبدالرحمن بن کعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو عام طور پر جمعرات کے دن روانہ ہوتے۔

لَقَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Hadith 2477

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2478

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بن عاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ کے نزدیک سب سے بہترین ساتھی وہ شخص ہے جو اپنے ساتھی کے لئے سب سے زیادہ بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لئے سب سے بہتر ہو۔

"خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ ← حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Hadith 2478

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2479

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ يُونُسَ وَعُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ وَمَا بَلَغَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا فَصَبَرُوا وَصَدَقُوا فَغُلِبُوا مِنْ قِلَّةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین ساتھی چار ہیں اور بہترین لشکر چار ہزار کاہے اور بہترین مہم چارسو افراد کی ہے اور اگر وہ بارہ ہزار ہوں اور صبر کرلیں اور سچ بولیں تو قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ وَعُقَيْلٍ ← حبان بن علي ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Hadith 2479

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2480

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا وَقَالَ اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو کسی مہم کا امیر مقرر فرماتے تو اسے بطور خاص اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتے اور ارشاد فرماتے اللہ کا نام لے کر جنگ شروع کرنا اور اللہ کے راستے میں لڑنا جو شخص اللہ کا انکار کرے اس سے جنگ کرنا۔ جنگ کرتے رہنا۔ بدعہدی نہیں کرنا خیانت نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2480

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2481

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَاثْبُتُوا وَأَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ فَإِنْ أَجْلَبُوا وَضَجُّوا فَعَلَيْكُمْ بِالصَّمْتِ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں دشمن کا سامنا کرنے کی آرزو نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو جب تمہار اس سے سامنا ہوجائے تو ثابت قدم رہنا اور اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔ اگر وہ چلائیں اور شور کریں تو تم خاموشی اختیار کرو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Hadith 2481

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2482

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو أَيَّامَ حُنَيْنٍ اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَبِكَ أُقَاتِلُ

حضرت صہیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن یہ دعا مانگی۔ اے اللہ میں تیری ہی مدد کے ذریعے چلتا پھرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد کے ذریعے جنگ کرتا ہوں۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Hadith 2482

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2483

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ خِصَالٍ فَأَيَّتُهُمْ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ فَإِنْ فَعَلُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَإِنْ أَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبِيكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّتِكُمْ وَذِمَّةِ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا ثُمَّ اقْضِ فِيهِمْ بِمَا شِئْتَ

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب کسی شخص کو کسی مہم کا امیر مقرر کرتے تو اسے یہ ہدایت کرتے جب تمہارا اپنے کسی مشرک دشمن سے سامنا ہو تو انہیں تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو۔ ان میں سے جو بھی بات وہ قبول کرلیں اس کو ان کی طرف سے تم قبول کرلینا اور ان سے لڑائی سے رک جانا۔ تم انہیں اسلام کی دعوت دو اگر وہ قبول کرلیں تو ان کی طرف سے اسے قبول کرلینا اور لڑائی سے رک جانا۔ اگر نہ مانیں تو پھر تم انہیں دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے کی طرف آجائیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو تم انہیں بتا دینا کہ انہیں وہی کچھ ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور ان کے ذمہ وہی ادائیگی لازم ہوگی جو مہاجرین کے ذمے لازم ہے۔ اگر وہ انکار کریں تو تم انہیں بتانا کہ وہ لوگ دیہاتی مسلمانوں کی مانند ہوں گے ان پر اللہ کے وہ تمام احکام جاری ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں انہیں مال فئی اور مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا البتہ اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں تو انہیں حصہ ملے گا اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کردیں تو تم انہیں جزیہ ادا کرنے کا کہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کی طرف سے یہ قبول کرلو اور لڑائی بند کر دو۔ اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد حاصل کرو اور ان سے جنگ شروع کردو۔ اگر تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور وہ یہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے ذمے اور اس کے نبی کے ذمے کرو تو تم انہیں اللہ کا ذمہ اور اس کے نبی کا ذمہ نہ دو بلکہ انہیں اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ دو اور اپنے ساتھیوں کے ذمہ دو کیونکہ تم اپنے ذمے اور اپنے باپ دادا کے ذمہ کی خلاف ورزی کرو۔ یہ تمہارے حق میں اس سے کم نقصان والا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ذمے کی خلاف ورزی کرو۔ اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ یہ چاہیں کہ تمیں اللہ کے حکم پر لے آئیں تو تم ان کے ساتھ اللہ کے حکم پر معاہدہ نہ کرو بلکہ اپنے فیصلے پر معاہدہ کرو کیونکہ تم جانتے ہو کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم تک پہنچ جاؤ گے یا نہیں پھر تم ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرو۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2483

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2484

قَالَ عَلْقَمَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُقَاتِلَ بْنَ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

سیدنا علقمہؓ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان کے پاس بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم بن ہیصم اور نعمان بن مقرن نے نبیﷺ سے اسی طرح بیان کیا۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ ← عَلْقَمَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُقَاتِلَ بْنَ حَيَّانَ فَقَالَ

Hadith 2484

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2485

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى دَعَاهُمْ قَالَ عَبْد اللَّهِ سُفْيَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے کبھی بھی قوم کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہیں کی جب تک انہیں دعوت نہیں دی۔ امام دارمی فرماتے ہیں سفیان نامی راوی نے ابن ابی نجیح سے یہ حدیث نہیں سنی ہے۔

عَبْد اللَّهِ سُفْيَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ ← مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ قَوْمًا حَتَّى دَعَاهُمْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 2485

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2486

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَكَانَ يَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صبح کی نماز کے وقت حملہ کیا کرتے تھے آپ دھیان رکھتے تھے۔ اگر آپ کواذان کی آواز سنائی دیتی تو حملہ نہیں کرتے تھے اور اگر نہ سنائی دیتی تو حملہ کردیتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Hadith 2486

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2487

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ قَالَ وَكُنْتُ فِي أَسْفَلِ الْقُبَّةِ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ إِلَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَقَالَ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ ثُمَّ قَالَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ شُعْبَةُ وَأَشُكُّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ بَلَى قَالَ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ قَالَ وَهُوَ الَّذِي قَتَلَ أَبَا مَسْعُودٍ قَالَ وَمَا مَاتَ حَتَّى قَتَلَ خَيْرَ إِنْسَانٍ بِالطَّائِفِ

حضرت اوس بن ابواوس ثقفی بیان کرتے ہیں میں ثقیف قبیلے کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نیچے والے قبہ میں موجود تھا اس میں کوئی موجود نہیں تھا صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورہے تھے ایک شخص آپ کے پاس آیا اور آہستہ آواز میں آپ کو کوئی بات کہی آپ نے فرمایا جاؤ اور اسے قتل کردو پھر آپ نے دریافت کیا کہ وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے؟ (شعبہ نامی کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں) اور محمد اللہ کے رسول ہیں اس شخص نے عرض کی جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ یہ اعتراف نہ کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اگر وہ یہ اعتراف کرلیں تو ان کی جان اور اموال میرے لئے محترم ہوجائیں گے البتہ ان کا حق باقی رہے گا۔ راوی کہتے ہیں یہ وہی شخص ہے جس نے حضرت ابومسعود کو قتل کیا تھا راوی کہتے ہیں یہ شخص اس وقت تک نہیں مرا جب تک اس نے طائف میں موجود سب سے بہترین آدمی کو قتل نہ کردیا۔

وَكُنْتُ فِي أَسْفَلِ الْقُبَّةِ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ إِلَّا النَّبِيُّ نَائِمٌ ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ ← أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Hadith 2487

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door