Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2455

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جُمْعًا شَهَادَةٌ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں ماراجانا شہادت ہے۔ طاعون کی وجہ سے مرجانا شہادت ہے پیٹ کے درد کی وجہ سے مرجانا شہادت ہے بچے کی وجہ سے عورت کا مرجانا شہادت ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 2455

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2456

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا السَّمُرُ وَوَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي لَقَدْ خِبْتُ إِذَنْ وَضَلَّ عَمَلِيَهْ

حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لڑائی میں شرکت کی ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا صرف پتے وغیرہ تھے ہم میں سے ہر شخص اس طرح پاخانہ کرتا تھا کہ جیسے بکری کی مینگنیاں ہوتی ہیں اس میں کچھ ملا ہوا نہیں ہوتا تھا اب بنوسعد مجھے کم تر سمجھیں تو پھر تو میں رسوا ہوا اور میرا عمل ضائع ہوا۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَعِيلُ ← يعلى

Hadith 2456

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2457

أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ لَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ مَا نَوَى

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں لڑائی میں شریک ہو اور اس کا لڑائی میں شریک ہونے کا ارادہ صرف کسی رسی کا حصول ہو تو اس کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← يَحْيَی بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ

Hadith 2457

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2458

أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنْ غَزَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ

حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑائی دو طرح کی ہوتی ہے جو شخص اللہ کی رضا کے حصول کے لئے امام کی اطاعت کرتے ہوئے لڑائی میں شریک ہوتاہے۔ اچھی چیز خرچ کرتا ہے اپنے ساتھیوں کے لئے سہولت فراہم کرتا ہے اور فساد سے پرہیز کرتا ہے اس کا سونا اور بیدار ہونا ہر عمل اجر کا باعث ہے اور جو شخص فخر، ریاکاری اور دکھاوے کے لئے لڑائی میں شریک ہوتا ہے امام کی نافرمانی کرتا ہے زمین میں فساد پیدا کرتا ہے وہ کفاف کے ہمراہ واپس نہیں آئے گا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي بَحْرِيَّةَ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ

Hadith 2458

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2459

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوامامہ بیان کرتے ہیں حضرت محمد نے ارشاد فرمایا جو شخص لڑائی میں شریک نہ ہو اور کسی غازی کوسامان فراہم نہ کرے یا کسی غازی کی غیرموجودگی میں اس کے گھروالوں کا خیال نہ رکھے تو قیامت سے پہلے ہی اللہ اسے کسی مصیبت میں مبتلا کرے گا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يحيى بن الحارث ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Hadith 2459

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2460

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَ فِي أَهْلِهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْئًا

حضرت زید بن خالد جہنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کو سامان فراہم کرے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کا خیال رکھے تو اسے بھی غازی کے اجر کی مانند اجر عطا ہوگا۔ اور غازی کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔

اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْئًا ← مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَ فِي أَهْلِهِ ← النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يعلى

Hadith 2460

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2461

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ فَكَتَبَهَا وَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ

حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی "مومنوں میں سے بیٹھے رہ جانے والے برابر نہیں ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو بلایا وہ اونٹ کی کندھے کی ہڈی لے کر آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی۔ حضرت ابن ام مکتوم نے اپنے نابینا ہونے کا عذر پیش کیا تو یہ آیت نازل ہوئی "اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی ضرر نہیں وہ برابر نہیں ہیں۔

الْبَرَاءِ، ← أَبُو إِسْحَقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 2461

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2462

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَيْتِهَا يَوْمًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ فَلَمَّا قَدِمُوا قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَدُقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ

ام حرام بنت ملحان بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر سوگئے جب بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں۔ ارشاد ہوا مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس سمندر کی پشت پر یوں سوار تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ میرا نام بھی ان میں شامل کریں۔ فرمایا تم ان میں شامل ہو۔ پھر رسول اللہ سوگئے جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے میں نے عرض کی کیا بات ہے؟ فرمایا میں خواب میں دیکھتاہوں کہ میری امت کے کچھ لوگ سمندر کی پشت پر سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ میرا نام بھی ان میں شامل کرلیں آپ نے فرمایا تمہارا نام پہلے والوں میں شامل ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر سیدہ ام حرام سے حضرت عبادہ بن صامت نے شادی کرلی وہ ایک بحری جنگ میں شریک ہوئے اور اپنے ساتھ سیدہ ام حرام کو بھی لے گئے جب وہ لوگ ساحل پر پہنچے تو ام حرام کے لئے ایک خچر لایا گیا تاکہ وہ سوار ہوں اس خچر نے انہیں گرادیا جس کی وجہ سے ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ان کا انتقال ہوگیا۔

حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 2462

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2463

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أُدَاوِي الْجَرِيحَ أَوْ الْجَرْحَى وَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ

حضرت ام عطیہ بیان کرتی ہیں مجھے نبی کریم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہونے کاشرف حاصل ہے میں زخمیوں کو دوا پلاتی تھی اور ان کے لئے کھانا تیار کرتی تھی میں لوگوں سے پیچھے قیام گاہ میں رہا کرتی تھی۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2463

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2464

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتْ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب بھی باہر تشریف لے کر جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت حفصہ کے درمیان قرعہ نکلا تو آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 2464

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2465

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي كُنْتُ كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَنَازِلِ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات بیان کی میں نے تم سے ایک حدیث چھپائی تھی جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زبانی سنی تھی کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ تم لوگ مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے لیکن پھر میں نے سوچاکہ مجھے وہ تمہارے سامنے بیان کردینا چاہیے تاکہ ہر شخص اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کرسکے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے "اللہ کی راہ میں ایک دن کے لئے پہرہ دینا دیگر مقامات پر ایک ہزار بسر کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

إِنِّي كُنْتُ كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا ← عُثْمَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ ← أَبِي صَالِحٍ مَوْلَی عُثْمَانَ ← أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 2465

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2466

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ مِشْرَحٍ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُجْرَى لَهُ عَمَلُهُ حَتَّى يُبْعَثَ

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں ایک دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ہر مرنے والے شخص کے عمل کا دفتر بند ہوجاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے مرے کیونکہ اس کے عمل کا اجر اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہ دوبارہ زندہ نہ ہوجائے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مِشْرَحٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Hadith 2466

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door