Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2392

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ الْجُرْحُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ أَنْ يَقْتَصَّ أَوْ يَعْفُوَ أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ فَإِنْ أَخَذَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا

حضرت ابوشریح خزاعی بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص قتل ہوجائے یا زخمی ہوجائے اسے تین میں اسے ایک بات کا اختیار ہے اگر وہ چوتھی بات کا ارادہ کرے گا تو تم اس کا ہاتھ پکڑ لو یا تو وہ قصاص لے یا معاف کردے یادیت لے اگر وہ اس میں کچھ لے لیتا ہے پھر اس کے بعد بھی کچھ اور مانگتا ہے تو اس کے لئے جہنم ہوگا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← سفيان بن أبي العوجاء السلمي ← الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2392

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2393

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ أَنَّ مَنْ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ فَإِنَّهُ قَوَدُ يَدِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد اعْتَبَطَ قَتَلَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ

ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اپنے والد کے حوالے سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا تھا اور اس خط میں یہ بات تحریر کی کہ جو شخص کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے اور قتل کی گواہی ثابت ہوجائے اس کا قصاص لیا جائے گا البتہ مقتول کے ورثاء راض ہوں تو وہ دیت لے سکتے ہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت میں استعمال ہونے والے لفظ" اعتبط " سے مراد کسی وجہ کے بغیر قتل کرنا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2393

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2394

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ أَحَدُ بَنِي حَارِثَةَ إِلَى خَيْبَرَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ يُرِيدُونَ الْمِيرَةَ بِخَيْبَرَ قَالَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَتُلَّتْ عُنُقُهُ حَتَّى نُخِعَ ثُمَّ طُرِحَ فِي مَنْهَلٍ مِنْ مَنَاهِلِ خَيْبَرَ فَاسْتُصْرِخَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَاسْتَخْرَجُوهُ فَغَيَّبُوهُ ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَتَقَدَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ ذَا قِدَمٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَا عَمِّهِ مَعَهُ حُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَمُحَيِّصَةُ فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا وَهُوَ صَاحِبُ الدَّمِ وَذَا قَدَمٍ فِي الْقَوْمِ فَلَمَّا تَكَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُبْرَ الْكُبْرَ قَالَ فَاسْتَأْخَرَ فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ثُمَّ هُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ ثُمَّ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا ثُمَّ نُسَلِّمُهُ إِلَيْكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ عَلَى مَا لَا نَعْلَمُ مَا نَدْرِي مَنْ قَتَلَهُ إِلَّا أَنَّ يَهُودَ عَدُوُّنَا وَبَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قُتِلَ قَالَ فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَبُرَءَاءُ مِنْ دَمِ صَاحِبِكُمْ ثُمَّ يَبْرَءُونَ مِنْهُ قَالُوا مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ أَيْمَانَ يَهُودَ مَا فِيهِمْ أَكْبَرُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ بِمِائَةِ نَاقَةٍ

حضرت سہل بن ابوحثمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن سہل جن کا تعلق بنوحارثہ سے تھا وہ اپنی قوم کے چند افراد کے ہمراہ خیبر تشریف لے گئے انہوں نے وہاں خبیر میں کچھ کام کرنا تھا اس دوران حضرت عبداللہ کو قتل کردیا گیا ان کی گردن گھونٹ دی گئی اور خیبر کے ایک تالاب میں پھینک دیا گیا ان کے ساتھی انہیں تلاش کرتے ہوئے وہاں آئے انہیں وہاں سے نکالا قتل کے وقت یہ لوگ ان کے پاس موجود نہیں تھے پھر یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ آئے اور ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل آگے بڑھے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خاص مقام رکھتے تھے ان کے دو چچا زاد بھی ان کے ساتھ تھے جن کا نام حویصہ بن مسعود اور محیصہ بن مسعود تھا عبدالرحمن بات شروع کرنے لگے وہ عمر میں سب سے کم تھے اور خون کے وارث بھی وہی تھے اور اپنی قوم میں نمایاں مقام بھی رکھتے تھے جب انہوں نے بات شروع کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے بڑے کو موقع دیا جائے وہ پیچھے ہوگئے حضرت حویصہ نے بات شروع کی پھر عبدالرحمن نے بات شروع کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ قاتل کا نام لو اور اس بارے میں حلف اٹھاؤ پچاس مرتبہ حلف اٹھاؤ میں اسے تمہارے سپرد کر دوں گا انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کیسے حلف اٹھاسکتے ہیں جب کہ ہمیں پتاہی نہیں ہے کہ کس نے انہیں قتل کیا ہے البتہ یہودی ہمارے دشمن ہیں اور یہ قتل بھی ان کے درمیان ہواہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ تمہارے سامنے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر تمہارے ساتھی کے قتل سے بری الذمہ ہوجائیں گے۔ انہوں نے عرض کی ہم یہودیوں کی قسم قبول نہیں کریں گے کیونکہ ان کے نزدیک کسی گناہ کی بات پر قسم اٹھانا جھوٹی قسم اٹھانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان حضرات کو سو اونٹنیاں دیت کے طور پر اداکیں۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2394

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2395

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ أَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ

ابوبکر رضی اللہ عنہ بن محمد بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا اس میں یہ بات تحریر کی تھی مرد کو عورت کے عوض میں قتل کیا جاسکتا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2395

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2396

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَبُعِثَ إِلَيْهِ فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ

حضرت انس بیان کرتے ہیں ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا اس سے دریافت کیا گیا کہ تمہارے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے فلاں نے؟ یا فلاں نے جب ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کیا اس یہودی کو بلایا گیا اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2396

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2397

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عَلِمْتَ شَيْئًا مِنْ الْوَحْيِ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ الرَّجُلَ فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِمُشْرِكٍ

حضرت ابوجحیفہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی اے امیرالمومنین آپ وحی کے بارے میں کسی ایسی چیز کا علم رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو انہوں نے جواب دیا نہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے میں ایسی کسی بات کا علم نہیں رکھتا بلکہ یہ فہم ہے جو قرآن پڑھنے والے شخص کو عطاکی جاتی ہے اور صحیفے میں موجود کچھ احکام ہیں راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا صحیفے میں کیا حکم موجود ہے انہوں نے جواب دیا دیت کا ہے قیدی کو آزاد کرنے کا ہے اور یہ حکم ہے کہ کسی مسلمان کو کسی مشرک کے عوض قتل نہیں کیا جائے گا۔

أَبِي جُحَيْفَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَقُ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2397

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2398

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَونٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُقَادُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد میں حدود قائم نہیں کی جاسکتی اور کسی باپ کو اس کے بیٹے کے عوض میں قتل نہیں کیا جاسکتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2398

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2399

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ قَالَ ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ هَذَا الْحَدِيثَ وَكَانَ يَقُولُ لَا يُقْتَلُ حُرٌّ بِعَبْدٍ

حضرت سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کردے ہم بھی اسے قتل کریں گے اور جو اس کی ناک کاٹ دے ہم بھی اس کی ناک کاٹیں گے راوی بیان کرتے ہیں پھر حسن اس حدیث کو بھول گئے اور پھر وہ یہ فتوی دینے لگے کسی آزاد شخص کو غلام کے عوض میں قتل نہیں کیا جاسکتا۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2399

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2400

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَوْفٍ عَنْ حَمْزَةَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ أَتَعْفُو قَالَ لَا قَالَ فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ قَالَ لَا قَالَ فَتَقْتُلُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ قَالَ فَتَرَكَهُ قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ قَدْ عَفَا عَنْهُ

حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ جب ایک قاتل شخص کو آپ کی خدمت میں لایا گیا جسے قتل کے جرم میں پکڑا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے کہا کیا تم اسے معاف کردوگے اس نے جواب دیا نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم دیت وصول کرو گے تو اس نے عرض کی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو اس نے عرض کی جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم اسے معاف کردو تو تمہارے گناہ اور تمہارے مقتول کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں چلے جائیں گے راوی بیان کرتے ہیں اس شخص نے اسے چھوڑ دیا میں نے دیکھا کہ وہ خود اس قاتل کے تسمے کھول رہا تھا جس کو اس نے معاف کیا تھا۔

نَعَمْ ← فَتَقْتُلُهُ ← لَا۔ ← فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ← لَا۔ ← رَسُولُ اللَّهِ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ أَتَعْفُو ← شَهِدْتُ النَّبِيَّ حِينَ أُتِيَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ ← أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ← حَمْزَةَ أَبِي عُمَرَ ← عَوْفٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2400

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2401

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ أَوْ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں کہ کسی کو اللہ کاشریک ٹھہرانا والدین کی نافرمانی کرنا۔ اور کسی کو ناحق قتل کرنا۔ راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں جھوٹی قسم اٹھانا۔

الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ أَوْ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2401

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2402

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ثابت بن ضحاک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے جو شخص دنیا میں جس چیز کے ذریعے خود کشی کرے گا قیامت کے دن اسی چیز کے ذریعے اسے عذاب دیا جائے گا۔

ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2402

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2403

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوہے کے ذریعے خود کشی کرے گا وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا جو شخص زہر کے ذریعے خودکشی کرے گا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ چاٹتا رہے گا جو شخص پہاڑ سے کود کر خودکشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ چھلانگیں لگاتا رہے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2403

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door