Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2349

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَالثَّقَفِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ قَالَ وَهُوَ شَحْمُ النَّخْلِ وَالْكَثَرُ الْجُمَّارُ

حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پھل اور کثر کی چوری پرہاتھ نہیں کاٹاجائے گا۔ امام دارمی فرماتے ہیں کثر " جمار " کو کہتے ہیں۔

وَهُوَ شَحْمُ النَّخْلِ وَالْكَثَرُ الْجُمَّارُ ← «لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ» ← النَّبِيِّ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← جَرِيرٌ وَالثَّقَفِيُّ ← إِسْحَقُ

Hadith 2349

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2350

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَبِي مَيْمُونٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا قَطْعَ فِي كَثَرٍ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْقَوْلُ مَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ

حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ کثر کی چوری کی وجہ سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو مُحَمَّد الْقَوْلُ مَا ← لَا قَطْعَ فِي كَثَرٍ ← النَّبِيِّ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← أَبِي مَيْمُونٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Hadith 2350

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2351

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ جَابِرٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ وَلَا عَلَى الْمُخْتَلِسِ وَلَا عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ڈاکہ ڈالنے والے، اچکنے والے اور خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا (بلکہ ان کے لئے علیحدہ سے سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔)

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2351

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2352

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ خَمْرًا فَضَرَبَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ ثُمَّ فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ قَالَ فَفَعَلَ

حضرت انس بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لایا گیا اس نے شراب پی تھی آپ نے اسے دوشاخوں سے مارا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایساہی کیا جب حضرت عمر کا دور آیا تو انہوں نے اس بارے میں مشورہ کیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے مشورہ دیا کہ سب سے کم تر حدود اسی کوڑے ہیں تو حضرت عمر نے ایساہی کیا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Hadith 2352

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2353

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ

حضین بن منذررقاشی بیان کرتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کے ساتھ موجود تھا جب ولید بن عقبہ کو لایا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے اور حضرت عمر نے اسی کوڑے لگائے تھے تو یہ سب طریقے سنت ہیں۔

شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ← حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 2353

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2354

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَاضْرِبُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ

عمروبن شرید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص شراب پیے تو اس کو حد میں کوڑے مارو۔ جب وہ دوبار ایسا کرے تو پھر مارو پھر جب وہ ایسا کرے تو پھر مارو اور جب وہ چوتھی مرتبہ ایسا کرے تو اسے قتل کردو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ، ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Hadith 2354

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2355

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ جَابِرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَضْرِبَ أَحَدًا فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ

حضرت ابوبردہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی حدود کے علاوہ کسی اور جرم کے ارتکاب میں کسی شخص کو دس سے زیادہ کوڑے مارے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ جَابِرٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Hadith 2355

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2356

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ زَنَى فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ زَنَى أَرْبَعًا فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اسلم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی پاک کے پاس آیا اس نے خود آپ کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس کو سنگسار کردیا گیا راوی بیان کرتے ہیں وہ شخص محصن تھا۔

جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2356

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2357

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ قَصِيرٍ فِي إِزَارٍ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ فَكَلَّمَهُ فَمَا أَدْرِي مَا يُكَلِّمُهُ بِهِ وَأَنَا بَعِيدٌ مِنْهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْقَوْمُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ثُمَّ قَالَ رُدُّوهُ فَكَلَّمَهُ أَيْضًا وَأَنَا أَسْمَعُ غَيْرَ أَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْقَوْمَ فَقَالَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ وَأَنَا أَسْمَعُهُ ثُمَّ قَالَ كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ مِنْ اللَّبَنِ وَاللَّهِ لَا أَقْدِرُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ

حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ماعز بن مالک کو لایا گیا یہ ایک چھوٹے قد کے صاحب تھے انہوں نے ایک تہبند اوڑھا ہوا تھا اور اوپر چادر نہیں تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بائیں طرف ایک تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اس شخص نے آپ سے کوئی بات کہی مجھے پتا نہیں چلا کہ اس نے آپ سے کیا بات کی ہے کیونکہ میں اس سے دور تھا میرے اور اس کے درمیان کچھ لوگ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی اسے لے جا کر سنگسار کردو۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا اسے واپس لے آؤ پھر اس کے ساتھ آپ نے کوئی بات کی جو میں نہیں سن سکا کیونکہ میرے اور آپ کے درمیان کچھ لوگ تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی اسے جا کر سنگسار کردو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے خطبہ دیا میں نے اسے سنا آپ نے ارشاد فرمایا جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتے ہیں تو ان میں سے کوئی آدمی پیچھے رہ جاتا ہے جو مرغ کی طرح آواز نکالتا ہے اور کسی خاتون کو تھوڑا سادودھ دینا چاہتا ہے اللہ کی قسم ان میں سے جو بھی میرے قابو میں آگیا میں اسے سخت سزا دوں گا۔

سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 2357

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2358

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشِبْلٍ قَالُوا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى أَهْلِ هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ وَإِنِّي سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَيَا أُنَيْسُ اغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَسَلْهَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد اور حضرت شبل بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کردیں اس کے مقابل فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا یہ کہا کہ یہ ٹھیک کہہ رہاہے آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمادیں لیکن یا رسول اللہ آپ مجھے اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بولو۔ وہ بولا میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا اس نے اس شخص کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا میں نے بیٹے کی طرف سے فدیئے کے طوپر ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیاہے میں نے اہل علم حضرات سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کیا جائے گا جبکہ اس کی بیوی کو سنگسار کردیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا ایک سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس مل جائیں گے اور تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کیا جائے گا اے انیس کل تم اس عورت کے پاس جانا اور اگر وہ اعتراف کرلے تو اسے رجم کردینا۔ راوی کہتے ہیں اس عورت نے اعتراف کرلیا تو اسے رجم کردیا گیا ۔

أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشِبْلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2358

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2359

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ بْنِ يَسَارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ

ابوہیثم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں ان لوگوں میں موجود تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا امام دارمی فرماتے ہیں یعنی حضرت معاذ بن مالک کو جب انہیں پتھر لگے تو وہ شدت سے چلائے۔ (راوی کہتے ہیں) ہم نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا۔

أَبِيهِ ← أبي الهيثم بن نصر بن دهر الأسلمي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ بْنِ يَسَارٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Hadith 2359

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2360

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقُوا بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ فَارْجُمُوهُ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَوَاللَّهِ مَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَكِنْ قَامَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ وَالْجَنْدَلِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ماعز بن مالک کو لے جاکر اسے سنگسار کردو راوی کہتے ہیں ہم انہیں بقیع غرقد لے گئے اللہ کی قسم ہم نے انہیں باندھا نہیں اور نہ ہی ان کے لئے گڑھا کھودا پلکہ ہم کھڑے ہوئے اور ہڈی پتھر اور کنکریاں انہیں مارتے رہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Hadith 2360

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door