Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2327

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا لَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا فِي أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ مَحِيضِهَا نُبْذَةً مِنْ كُسْتٍ وَأَظْفَارٍ

حضرت ام عطیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں کوئی بھی عورت شوہر کے علاوہ کسی اور کے مرنے پر تین سے زیادہ سوگ نہیں کرسکتی۔ شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن کرے گی اس دوران وہ عصب کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا استعمال نہیں کرے گی نہ خوشبو لگائے گی اور نہ سرمہ لگائے گی البتہ جب حیض سے پاک ہوگی اور غسل کرے گی اس وقت تھوڑی سی خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔

النَّبِيِّ ← أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← زَائِدَۃَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2327

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2328

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْذَنَ لَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ زَوْجِي قَدْ خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا فَأَدْرَكَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ بِطَرَفِ الْقَدُومِ قَتَلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ فَقُلْتُ إِنَّهُ لَمْ يَدَعْنِي فِي بَيْتٍ أَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةٍ فَقَالَ امْكُثِي حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ فَاعْتَدَّتْ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَ ذَلِكَ وَقَضَى بِهِ

سعد بن اسحق اپنی پھوپھی زینب بنت کعب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں فریعہ بنت مالک نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ آپ اسے اجازت دیں کہ وہ اپنے خاندان میں واپس چلی جائیں کیونکہ اس کا شوہر اپنے مفرور غلاموں کو تلاش کرنے کے لئے نکلا جب اس نے قدوم کے پاس انہیں پایا تو ان کے غلاموں نے ان کو قتل کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تک عدت ختم نہیں ہوجاتی تم اپنے گھر میں رہو۔ میں نے عرض کی میرے شوہر نے ایسا کوئی گھر نہیں چھوڑا جس کی میں مالک ہوں نہ کوئی خرچ چھوڑا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہیں رہو جب تک عدت ختم نہیں ہوجاتی راوی بیان کرتے ہیں تو اس عورت نے اس گھر میں چار ماہ دس دن عدت بسر کی۔ زینب بنت کعب بیان کرتی ہیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں انہوں نے کسی کو بھجوا کر مجھ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو میں نے اس بارے میں بتایا تو انہوں نے اس کی پیروی کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ دیا۔

سَعْدِ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ← مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Hadith 2328

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2329

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلًا لَهَا فَقَالَ لَهَا رَجُلٌ لَيْسَ لَكِ أَنْ تَخْرُجِي قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ اخْرُجِي فَجُدِّي نَخْلَكِ فَلَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَصْنَعِي مَعْرُوفًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میری خالہ کو طلاق دے دی گئی انہوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ وہ اپنے کھجوروں کے باغ کی دیکھ بھال کیا کریں تو ایک شخص نے ان سے کہا کہ تمہیں اس بات کی اجازت نہیں کہ تم گھر سے باہر نکلو وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گھر سے باہر نکلو اور اپنے باغ میں کام کرو۔ شاید تم اسے صدقہ کردو یا نیکی کے کسی اور کام میں استعمال کرو۔

فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ← لَهَا رَجُلٌ لَيْسَ لَكِ أَنْ تَخْرُجِي ← طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلًا لَهَا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2329

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2330

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا وَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَ حُرًّا وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ هَذَا قِيلَ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے بریرہ نامی کنیز کو خریدنے کا ارادہ کیا اس کے مالکوں نے یہ شرط عائد کی کہ ولاء کا حق انہیں حاصل ہوگا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کا تذکرہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اسے خرید لو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ہوتا ہے (راوی بیان کرتے ہیں ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسے خرید کر آزاد کردیا۔ اس کنیز کو اس کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا اس کا شوہر آزاد تھا۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کہاں سے آیاہے عرض کی گئی کہ یہ بریرہ کو صدقہ کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے یہ ہدیہ ہے۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Hadith 2330

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2331

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا لَيْسَ فِيهِ لَحْمٌ فَقَالَ أَلَمْ أَرَ لَكُمْ قِدْرًا مَنْصُوبَةً قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْ لَنَا قَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا مِنْهَا هَدِيَّةٌ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ فَلَمَّا عُتِقَتْ خُيِّرَتْ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے تو میں نے ان کے سامنے کھانا رکھا اس میں گوشت نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے دیکھا تو تھا کہ تم نے ہنڈیا رکھی ہوئی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو صدقہ کے طور پر دیا گیا ہے لیکن اس نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیاہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے لئے صدقہ ہے لیکن ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ (راوی کہتے ہیں) اس کا شوہر تھا جب وہ خاتون آزاد ہوئی تو اس کو اختیار دیا گیا۔

أَلَمْ أَرَ لَكُمْ قِدْرًا مَنْصُوبَةً قُلْتُ ← دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَيَّ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا لَيْسَ فِيهِ لَحْمٌ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ

Hadith 2331

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2332

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الضَّحَّاكِ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ حِينَ أَعْتَقَتْهَا عَائِشَةُ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُضُّهَا عَلَيْهِ فَجَعَلَتْ تَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ لِي أَنْ أُفَارِقَهُ قَالَ بَلَى قَالَتْ فَقَدْ فَارَقْتُهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب انہوں نے بریرہ کو آزاد کیا تو اس کا شوہر ایک غلام تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ کو یہ ترغیب دیتے رہے اور وہ یہ عرض کرتی رہی کہ مجھے اس سے علیحدہ ہونے کا اختیار نہیں ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تو اس نے عرض کی کہ میں اس سے علیحدگی اختیار کرتی ہوں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ← عبد الرحمن بن الضحاك

Hadith 2332

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2333

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا فَقَالَ لَهَا لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْمُرُنِي قَالَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ قَالَتْ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بریرہ کے شوہر غلام تھے ان کا نام مغیث تھا مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ ان کے پیچھے جا رہے تھے اور ان کے آنسو ان کی ڈاڑھی پر گر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے عباس تمہیں حیرانگی نہیں ہوئی کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث سے کتنی نفرت کرتی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے کہا کہ تم اس کے ساتھ رہو تو بہتر ہے کیونکہ یہ تمہاری اولاد کا باپ ہے بریرہ نے عرض کی یا رسول اللہ کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ فرمایا نہیں میں سفارش کررہاہوں اس نے عرض کی پھر مجھے اس شخص کی ضرورت نہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2333

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2334

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِوَلَدِي فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِوَلَدِي أَوْ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَهِمَا أَوْ قَالَ تَسَاهَمَا أَبُو عَاصِمٍ الشَّاكُّ فَجَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي وَلَدِي أَوْ فِي ابْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا غُلَامُ هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ وَقَدْ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ فَاتْبَعْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ

ابومیمونہ سلیمان بیان کرتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس میں موجود تھا کہ ایک خاتون ان کے پاس آئی اور عرض کی میراشوہر یہ چاہتا ہے کہ میرے بچے کو اپنے ساتھ لے جائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک عورت آئی اور بولی کہ میراشوہر یہ چاہتا ہے کہ وہ میرے بچے کو اپنے ساتھ لے جائے حالانکہ اس نے مجھے نفع بھی دیاہے اور مجھے ابوعنبہ کے کنوئیں سے سیراب بھی کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم دونوں حصہ مقرر کرلو۔یا شاید یہ الفاظ ہیں قرعہ اندازی کرلو اسی دوران اس کا شوہر بھی آگیا اور بولا کہ میری اولاد کے بدلے میں کون سے جھگڑا کرسکتاہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے سے فرمایا کہ اے لڑکے یہ تمہاری امی ہے اور یہ تمہارے ابو ہیں تم ان دونوں میں سے جس کا چاہو ہاتھ تھام لو۔ راوی بیان کرتے ہیں تم ان میں سے جس کے ساتھ چاہو چلے جاؤ تو لڑکے نے اپنی والدہ کا ہاتھ تھام لیا اور اس کے ساتھ چلا گیا۔

كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ ← أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ← هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2334

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2335

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُظَاهِرٌ وَهُوَ ابْنُ أَسْلَمَ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ سَمِعْتُهُ مِنْ مُظَاهِرٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں کنیز کو دو طلاقیں دی جائیں گی اور اس کی عدت دوحیض ہوگی ۔ ابوعاصم بیان کرتے ہیں میں نے یہ بات مظاہر سے سنی ہے۔

مِنْ مُظَاهِرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← لِلْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُظَاهِرٌ وَهُوَ ابْنُ أَسْلَمَ أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2335

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2336

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ مرفوع روایت کرتے طور پر نقل کرتے ہیں اوطاس کے قیدیوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ حاملہ عورت جب تک بچے کو جنم نہ دے اس کے ساتھ صحبت نہ کی جائے اور جو عورت حاملہ نہ ہو اس کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک اس کو ایک مرتبہ حیض نہ آجائے۔

أَبِي سَعِيدٍ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ← شَرِيکٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2336

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door