Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2303

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ

نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے اپنی اہلیہ طلاق دے دی وہ خاتون اس وقت حالت حیض میں تھی حضرت عمر نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو انہوں نے فرمایا اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دو کہ اس عورت سے رجوع کرلے اور اسے اپنے پاس رکھے یہاں کہ اسے حیض آجائے پھر پاک ہوجائے پھر اگر وہ (ابن عمر) چاہے تو اس عورت کو روک لے اگر چاہے تو اس کو طلاق دے دے یہ وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔

ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 2303

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2304

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَذْكُرُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعٌ أَوْ حَامِلٌ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ کوہدایت کرو کہ وہ اس عورت سے رجوع کرلے اور پھر اس عورت کو اس وقت طلاق دے جب وہ پاکی کی حالت میں ہو۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابن مبارک نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور وکیع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں (یا وہ حاملہ ہو)۔

أَبُو مُحَمَّد رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعٌ أَوْ حَامِلٌ ← مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ ← لِلنَّبِيِّ حِينَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ ← سَالِمًا يَذْكُرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 2304

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2305

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ قَالَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضرت عمربیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے حضرت حفصہ کو طلاق دے دی تھی اور پھر ان سے رجوع کرلیا تھا۔

طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا ← عُمَرَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Hadith 2305

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2306

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَأَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ أَنْكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ لَيْسَ عِنْدَنَا هَذَا الْحَدِيثُ بِالْبَصْرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ

حضرت انس بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے سیدہ حفصہ کو طلاق دے دی تھی اور پھر ان سے رجوع کرلیا تھا۔ امام ابومحمد دارمی بیان کرتے ہیں حضرت مدینی نے اس حدیث کو منکر قرار دیاہے اور یہ فرمایا ہےہمارے نزدیک یہ حدیث حمید نامی محدث سے منقول ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Hadith 2306

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2307

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ الْحَكَمُ قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ أَفْصِلُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ إِمْلَاكٍ وَلَا عَتَاقَ حَتَّى يَبْتَاعَ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ مَنْ سُلَيْمَانُ قَالَ أَحْسَبُ كَاتِبًا مِنْ كُتَّابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ

حکم بیان کرتے ہیں یحیی بن حمزہ نے مجھ سے بیان کیا میں یہ بات یقین سے کرسکتاہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے اہل یمن کو خط کے ذریعے یہ حکم بھیجا تھا کہ قرآن کو صرف باوضو ہاتھ لگاسکتا ہے اور شادی سے پہلے طلاق نہیں دی جاسکتی اور (غلام یا کنیز) کو خرید نے سے پہلے آزاد نہیں کیا جاسکتا۔ امام ابومحمد دارمی سے اس حدیث کے راوی سلیمان بن ابوداؤدجنہوں نے زہری سے یہ روایت نقل کی ہے کے بارے میں دریافت کیا گیا توامام ابومحمد دارمی نے کہا میراخیال ہے کہ یہ صاحب حضرت عمربن عبدالعزیز کے سیکرٹری تھے۔

لِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ أَفْصِلُ ← الْحَكَمِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Hadith 2307

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2308

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى الْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي قَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ فَنَادَى خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَرَى مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں رفاعہ قرظی کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں موجود تھے اور خالد بن سعید بن عاص دروازے پر موجود تھے کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت دی جائے اس خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ میں رفاعہ کی اہلیہ تھی انہوں نے مجھے طلاق بتہ دے دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے دریافت کیا کہ کیا تم چاہتی ہو کہ تم دوبارہ رفاعہ کے پاس چلی جاؤ؟ نہیں(یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا) جب تک تمہارا دوسرا شوہر تمہارا شہد نہ چکھ لے اور تم اس کا شہد نہ چکھ لو خالد بن سعید نے بلند آواز میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ یہ عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی موجودگی میں کس طرح کی باتیں کرتی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2308

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2309

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَلَّقَ رِفَاعَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَدَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنْ مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَتِي هَذِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ أَوْ قَالَ تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں رفاعہ یہ ایک صاحب ہیں جو بنوقریظہ سے تعلق رکھتے تھے " نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی اس خاتون کے ساتھ عبدالرحمن بن زید نے شادی کرلی وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم ان کی حیثیت میری چادرکے پلو جیسی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے اس خاتون سے کہا کہ شاید تم یہ چاہتی ہو کہ تم رفاعہ کے پاس چلی جاؤ؟ نہیں (ایسا اس وقت تک نہیں ہوسکتا) جب تک وہ (تمہارادوسراشوہر) تمہارا شہد نہ چکھ لے (راوی کو شک ہے شایدیہ الفاظ ہیں) یہاں تک کہ تم اس کاشہد نہ چکھ لو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ،

Hadith 2309

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2310

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْخِيَرَةِ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا

مسروق بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے (بیوی کو) اختیاردیئے جانے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا وہ طلاق ہوگئی تھی۔

الْخِيَرَةِ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَفَكَانَ طَلَاقًا ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ← يعلى

Hadith 2310

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2311

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ

حضرت ثوبان روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایا جو خاتون کسی تکلیف کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبوحرام ہوگی"۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 2311

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2312

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ تَزَوَّجَهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ هَمَّ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَكَانَتْ جَارَةً لَهُ وَأَنَّ ثَابِتًا ضَرَبَهَا فَأَصْبَحَتْ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَلَسِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَرَأَى إِنْسَانًا فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ فَقَالَ مَا شَأْنُكِ قَالَتْ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٌ فَأَتَى ثَابِتٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ خُذْ مِنْهَا وَخَلِّ سَبِيلَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي كُلُّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ فَأَخَذَ مِنْهَا وَقَعَدَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا

عمرہ بیان کرتی ہیں حبیبہ بنت سہل کے ساتھ ثابت بن قیس نے شادی کرلی اس خاتون کو پتہ چلا کہ نبی اکرم اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں وہ خاتون نبی کی پڑوسی تھی ایک مرتبہ ثابت بن قیس نے اس کی پٹائی کردی اگلے دن صبح سویرے میں وہ خاتون نبی کے دروازے پر موجود تھی۔ جب نبی باہر تشریف لائے اور کسی انسان کو دیکھا تودریافت کیا کون ہے؟ تو اس نے عرض کی میں حبیبہ بنت سہل ہوں نبی نے فرمایا کہ تمہارا کیا مسئلہ ہے اس نے عرض کی کہ میں اور ثابت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ راوی بیان کرتے ہیں ثابت نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں ہدایت کی تم اس سے اپنا دیا ہوا مہر وصول کرلو اور اسے آزاد کردو۔ اس خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ انہوں نے جو کچھ مجھے دیاہے وہ میرے پاس موجود ہے۔ راوی بیان کرتی ہیں حضرت ثابت نے وہ سب کچھ وصول کیا اور وہ خاتون واپس اپنے خاندان میں چلی گئی۔

يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2312

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2313

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ بَلَغَنِي حَدِيثٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ وَهُوَ فِي قَرْيَةٍ لَهُ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا أَرَدْتَ فَقَالَ وَاحِدَةً قَالَ آللَّهِ قَالَ آللَّهِ قَالَ هُوَ مَا نَوَيْتَ

بنوعبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب زبیربن سعید بیان کرتے ہیں مجھے عبداللہ بن علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت کا پتہ چلاجوانہی کے محلے میں رہتے تھے کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے والدنے مجھے یہ حدیث بتائی ہے۔ کہ میرے دادا نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بات کا ذکر کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایا تمہارا اراہ کیا تھا (تمہاری نیت کیا تھی) انہوں نے عرض کی ایک طلاق نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے دریافت کیا اللہ کی قسم انہوں نے عرض کی اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایا پھر وہ تمہاری نیت کے مطابق ہوئی ہے۔

جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ وَهُوَ فِي قَرْيَةٍ لَهُ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ ← بلغني حديث ← الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 2313

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2314

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ قَالَ كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنْ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ فِي لَيْلِي شَيْئًا فَيَتَتَابَعَ بِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ أُصْبِحَ قَالَ فَتَظَاهَرْتُ إِلَى أَنْ يَنْسَلِخَ فَبَيْنَا هِيَ لَيْلَةً تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَمَا لَبِثْتُ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ وَقُلْتُ امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَمْشِي مَعَكَ مَا نَأْمَنُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ الْقُرْآنُ أَوْ أَنْ يَكُونَ فِيكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةٌ يَلْزَمُنَا عَارُهَا وَلَنُسْلِمَنَّكَ بِجَرِيرَتِكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ خَبَرِي فَقَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا صَابِرٌ نَفْسِي فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ قَالَ فَأَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قُلْتُ وَهَلْ أَصَابَنِي الَّذِي أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ قَالَ فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا وَحْشَى مَا لَنَا طَعَامٌ قَالَ فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَكُلْ بَقِيَّتَهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ قَالَ فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمْ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْيِ وَقَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ

سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں میں ایک ایسا شخص تھا جو بیوی کے ساتھ اتنی مرتبہ صحبت کیا کرتا تھا جو عام طور پر لوگ نہیں کرتے جب رمضان کا مہینہ آیا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید میں رات کے وقت ایسی کسی حرکت کا مرتکب ہوجاؤں گا میں اس سے بچنے کی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی وہ بیان کرتے ہیں میں نے مہینہ ختم ہونے کی مدت تک کے لئے ظہار کرلیا اسی دوران رات کے وقت میری بیوی میری خدمت میں حاضر ہوئی اس کا کچھ حصہ میرے سامنے بے پردہ ہوگیا تو میں اس کی طرف لپکنے سے باز نہیں رہ سکا جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور انہیں اس کے بارے میں بتایا اور ان سے کہا کہ تم میرے ساتھ نبی کریم کے پاس چلو لوگ بولے نہیں اللہ کی قسم ہم تمہارے ساتھ نہیں چلیں گے کیونکہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ تمہارے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہوجائے گا یا نبی پاک تمہارے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں گے جس سے ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ہم تمہیں تمہارے جرم کے حوالے کرتے ہیں۔ سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں خود ہی نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساراواقعہ بیان کیا نبی نے دریافت کیا یہ تم نے کیا کیا۔ میں نے عرض کی میں نے ایساہی کیا ہے آپ نے پھر دریافت کیا اے سلمہ تم نے ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے عرض کی میں نے ایسا کیا ہے آپ نے دریافت کیا اے سلمہ تم نے ایسا کیا ہے میں نے عرض کیا میں نے ایساہی کیا ہے اور اب میں اپنے آپ کو پیش کردیاہے آپ میرے بارے میں وہ حکم دیں جو اللہ نے آپ کو حکم دیاہے نبی نے فرمایا تم غلام آزاد کردو۔ سلمہ کہتے ہیں میں نے اپنی گردن کی پشت پرہاتھ مارا اور عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میرے پاس تو صرف بیوی ہے کوئی غلام نہیں۔ نبی اکرم نے فرمایا تم ایک وسق کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اس نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے گزشتہ رات ہم نے بھوکے رہ کر گزارہ کیا ہے ہمارے پاس تو کھانا ہی نہیں ہے۔ نبی اکرم نے فرمایا جو صاحب بنوزریق سے صدقہ وصول کرنے پر مامور ہیں تم ان کے پاس جاؤ وہ تمہیں اس صدقے میں سے کچھ دیدے گا تم ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھجوریں کھلا دینا جو بچ جائے وہ تمہارے اور تمہارے گھروالوں کے لئے ہیں۔ سلمہ بیان کرتے ہیں میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور کہا میں نے تم لوگوں کے پاس تنگی اور غلط رائے پائی ہے اور میں نے اپنے نبی کریم کے پاس بہترین اور کشادہ رائے پائی ہے آپ نے مجھے تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیاہے۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Hadith 2314

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door