Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2289

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ عَمَّهَا أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْذِنَهُ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَتْ جَاءَ عَمِّي أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ فَرَدَدْتُهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ قَالَ أَوَ لَيْسَ بِعَمِّكِ قَالَتْ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ان کے چچا جو ابوقیس کے بھائی تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں آنے کی اجازت مانگی اس وقت پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں اندرآنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور عرض کی میرے چچا جو ابوقیس کے بھائی ہیں تشریف لائے تھے لیکن میں نے انہیں واپس کردیاہے تاکہ پہلے آپ سے اجازت حاصل کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ تمہارے چچا نہیں ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا مجھے ایک خاتون نے دودھ پلایا تھا مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چچاہیں انہیں اندرآنے دے سکتی ہو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو ولادت کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔

أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2289

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2290

أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو ولادت کے ذریعے ہوتی ہے۔

يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ،

Hadith 2290

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2291

قَالَ مَالِكٌ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ نے پہلی حدیث کی طرح فرمایا۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← مَالِكٌ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ

Hadith 2291

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2292

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں ایک یا دو گھونٹ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 2292

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2293

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً وَعِنْدِي أُخْرَى فَزَعَمَتْ الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتْ الْحُدْثَى فَقَالَ لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ

ام فضل بیان کرتی ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی میں نے ایک خاتون سے شادی کرلی میری پہلے سے ایک بیوی تھی پہلے والی بیوی یہ کہتی ہے کہ اس نے دوسری والی بیوی کو دودھ پلایا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک یا دو گھونٹ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 2293

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2294

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَزَلَ الْقُرْآنُ بِعَشْرِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ مِمَّا يُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں قرآن پاک میں یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس گھونٹ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا پھر پانچ گھونٹ رہ گیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو یہ آیت قرآن کا حصہ تھی اور تلاوت کی جاتی تھی۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ، ← إِسْحَقُ

Hadith 2294

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2295

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ قَالَ الْغُرَّةُ الْعَبْدُ أَوْ الْأَمَةُ

حجاج بن حجاج اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ میں دودھ پلانے کا معاوضہ کیسے ادا کرسکتاہوں آپ نے فرمایا پیشانی (یعنی غلام) کے ذریعے خواہ وہ کوئی غلام ہو یا کنیز ہو۔

أَبِيهِ أَنَّهُ ← حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← عَبْدَةُ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 2295

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2296

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ثُمَّ قَالَ لَمْ يُحَدِّثْنِيهِ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ قَالَ تَزَوَّجْتُ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي قَالَ أَبُو عَاصِمٍ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ قَالَ كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ وَنَهَاهُ عَنْهَا قَالَ أَبُو عَاصِمٍ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ وَلَمْ يَقُلْ نَهَاهُ عَنْهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَذَا عِنْدَنَا

عتبہ بن حارث بیان کرتے ہیں میں نے ابووہاب کی صاحبزادی سے شادی کرلی ایک سیاہ فام کنیز آئی اور بولی میں نے تم دونوں کو دودھ پلایاہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے میری طرف سے منہ پھیرلیا۔ ابوعاصم کی روایت میں یہ بات ہے کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب حکم آچکاہے تو پھراب کیا مسئلہ ہے پھر آپ نے اس صاحب کو اس خاتون سے منع کردیا ابوعاصم بیان کرتے ہیں ایک روایت میں منع کرنے کے الفاظ نہیں ہیں امام ابومحمد فرماتے ہیں ہمارے نزدیک بھی یہی حکم ہے۔

أَبُو مُحَمَّد كَذَا عِنْدَنَا ← ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ وَلَمْ يَقُلْ نَهَاهُ عَنْهَا ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ وَنَهَاهُ عَنْهَا ← فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ← تَزَوَّجْتُ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ ← الْقَوْمَ ← لَمْ يُحَدِّثْنِيهِ وَلَكِنْ ← عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ثُمَّ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2296

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2297

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقُلْتُ إِنَّهُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اس وقت ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا گویا آپ نے ان کی موجودگی کو ناپسند کیا میں نے عرض کی یہ میرے بھائی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے رضاعی بھائیوں کی تحقیق کرلیا کرو کیونکہ رضاعت بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Hadith 2297

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2298

أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَأَنَا فُضُلٌ وَإِنَّمَا نَرَاهُ وَلَدًا وَكَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ تَبَنَّاهُ كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا لِسَالِمٍ خَاصَّةً

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں سہلہ بنت سہیل جو حضرت ابوحذیفہ کی اہلیہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کی یا رسول اللہ ابوحذیفہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہمارے ہاں آیا کرتا ہے اور میں نے اس وقت چادر وغیرہ نہیں لی ہوئی تھی ہم اسے اپنا بیٹا سمجھتے ہیں ابوحذیفہ نے اس لڑکے کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی ان بچوں کو ان کے باپ کے نام سے بلاؤ اللہ کے نزدیک یہی بات انصاف کے مطابق ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو ہدایت کی کہ وہ سالم کو اپنا دودھ پلادیں امام دارمی فرماتے ہیں یہ حکم سالم کے ساتھ مخصوص ہے۔

كَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ رَسُولَ اللَّهِ ← جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ

Hadith 2298

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2299

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ الْهُزَيْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے اس کے اوپر لعنت فرمائی ہے۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْهُزَيْلِ ← أَبِي قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 2299

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2300

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ امْرَأَةَ أَبِي سُفْيَانَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ جُنَاحٌ فَقَالَ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں حضرت معاویہ کی والدہ جو ہند جو ابوسفیان کی اہلیہ تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے وہ میری اور میرے بچوں کی ضرورت کے مطابق خرچ نہیں کرتے میں ان کی لاعلمی میں اسے حاصل کرسکتی ہوں مجھے اس سے کوئی گناہ ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مناسب طور پر تمہاری اور تمہاری اولاد کے لئے کافی ہو تم حاصل کرلیا کرو ۔

عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ امْرَأَةَ أَبِي سُفْيَانَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَتْ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2300

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door