Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2265

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ يَرُدُّ الْحَدِيثَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ أَفَيَعْزِلُ عَنْهَا وَتَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَيَعْزِلُ عَنْهَا قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرًا وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ایک شخص کی کنیز ہے وہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اسے یہ پسند نہیں کہ وہ حاملہ ہوجائے وہ اس کے ساتھ عزل کرتا ہے اسی طرح ایک شخص کی بیوی ہے جو بچے کو دودھ پلاتی ہے وہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور یہ بات اسے پسند نہیں کہ وہ حاملہ ہوجائے کیا وہ اس کے ساتھ عزل کرسکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم ایسا نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ توطے شدہ ہے۔ ابن عون بیان کرتے ہیں میں نے اس بات کا ذکر حضرت حسن بصری سے کیا تو وہ بولے اللہ کی قسم یہ زجر (ناپسندیدگی ظاہر کر کے روکنے) کی مانند ہے۔

قُلْنَا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ يَرُدُّ الْحَدِيثَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2265

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2266

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ لِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں ہے اس لئے اس نے فحش چیزوں کو حرام قرار دیاہے اور اللہ سے زیادہ کسی کو اپنی تعریف پسند نہیں ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Hadith 2266

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2267

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ

ابن جابر بیان کرتے ہیں میرے والد نے مجھے یہ روایت سنائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک قسم کی غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ غیرت جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ (ریبہ) ہے جوشک کے بارے میں ہو اور جس غیرت کو اللہ پسند نہیں کرتا وہ ریبہ کے علاوہ ہے جو شک کے علاوہ دیگر معاملات میں ہو۔

أَبِي ← ابْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Hadith 2267

Sahih

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2268

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ يَقُولُ لَوْ وَجَدْتُ مَعَهَا رَجُلًا لَضَرَبْتُهَا بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ أَنَا أَغَيْرُ مِنْ سَعْدٍ وَاللَّهُ أَغَيْرُ مِنِّي وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا شَخْصَ أَغَيْرُ مِنْ اللَّهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ الْمَعَاذِرِ وَلِذَلِكَ بَعَثَ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِكَ وَعَدَ الْجَنَّةَ

حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتا چلا کہ حضرت سعد بن عبادہ یہ کہتے ہیں کہ اگر میں اپنی بیوی کے ہمراہ کسی شخص کو پاؤں تو اس عورت کو اپنی تلوار سے قتل کردوں اور کوئی درگزر نہ کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگوں کو کیا سعد کی غیرت پر حیرت ہورہی ہے میں سعد سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت والاہے اسی لئے اس نے ظاہری اور خفیہ ہرطرح کے فحش کاموں کو حرام قرار دیاہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت والانہیں ہے اور نہ ہی اس کے نزدیک عذر سے زیادہ کوئی اور چیز محبوب ہے اس لئے اس نے انبیاء کو خوشخبری سنانےوالا اور ڈرانے والابناکرمبعوث کیا ہے اور اللہ سے زیادہ کسی بھی شخص کو اپنی تعریف پسند نہیں ہے اسی لئے اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔

رَسُولُ اللَّهِ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ← لَوْ وَجَدْتُ مَعَهَا رَجُلًا لَضَرَبْتُهَا بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ ← بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ← الْمُغِيرَةِ، ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Hadith 2268

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2269

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر سے الگ رہتی ہے تو فرشتے اس وقت تک لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ واپس نہ آجائے۔

إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Hadith 2269

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2270

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَيَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَتْ تِلْكَ بَعْدُ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں عویمر عجلانی نے عرض کی یا رسول اللہ۔ آپ کے خیال کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاتا ہے تو اسے اس کو قتل کردینا چاہیے تاکہ لوگ اس شخص کو بھی قتل کردیں یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تمہارے اور تمہاری بیویوں کے بارے میں کوئی حکم نازل کردے گا تم جاؤ اور اس عورت کو لے کر آؤ۔ حضرت سہل بیان کرتے ہیں پھر ان دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کے ساتھ لعان کیا اس وقت میں بھی لوگوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب وہ دونوں لعان کرچکے تو عویمر کہتے ہیں یارسول اللہ اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے پاس رہنے دیتا ہوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹاالزام لگایا ہے (حضرت سہل بیان کرتے ہیں) پھر عویمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی ہدایت دینے سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدیں۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں اس کے بعد لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ رہ گیا (کہ وہ لعان کرنے کے بعد بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں) ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Hadith 2270

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2271

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدَ بَنِي عَجْلَانَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں عویمر، عاصم بن عدی کے پاس آئے وہ بنوعجلان کے سردار تھے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا راوی کہتے ہیں تاہم اس روایت میں تین طلاقیں دینے کا ذکر نہیں ہے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2271

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2272

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سُئِلْتُ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمَارَةِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ قَالَ فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَنْزِلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ فَقَالَ إِنَّهُ قَائِلٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَدْخُلَ عَلَيْهِ قَالَ فَسَمِعَ ابْنُ عُمَرَ صَوْتِي فَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ ادْخُلْ فَمَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ وَهُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدٌ مِرْفَقَةً أَوْ قَالَ نُمْرُقَةً شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ حَشْوُهَا لِيفٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ وَإِنْ تَكَلَّمَ فَمِثْلُ ذَلِكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَقَامَ لِحَاجَتِهِ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدْ ابْتُلِيتُ بِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ حَتَّى خَتَمَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ قَالَ فَدَعَا الرَّجُلَ فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَذَكَّرَهُ بِاللَّهِ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَقَالَ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ دَعَا الْمَرَأَةَ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ فَدَعَا الرَّجُلَ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنْ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ أُتِيَ بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں مجھ سے حضرت مصعب بن زبیر کی حکومت کے زمانہ میں لعان کرنے والوں کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان علیحدگی کرادی جائے گی مجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ میں کیا جواب دوں۔ سعید کہتے ہیں میں اٹھا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر آیا میں نے ان کے خادم سے کہا میرے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو۔ خادم نے جواب دیا وہ قیلولہ کر رہے ہیں تم ان کے پاس نہیں جاسکتے سعید بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے شاید یہ میری آواز سن لی تو انہوں نے اندر سے دریافت کیا کیا ابن جبیر ہے؟ میں نے جواب دیا جی ہاں۔ انہوں نے جواب دیا آجاؤ تم اس وقت کسی ضروری کام سے آئے ہوگے سعید بیان کرتے ہیں میں اندران کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی ٹانگوں پر ایک چادر اوڑھی ہوئی ہے اور لیٹے ہوئے ہیں اور اپنے بازو (راوی کو شک ہے یا شاید) نمرقہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں اس تکیے کے اندر پتے بھرے ہوئے ہیں میں نے عرض کی اے ابوعبدالرحمن لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی انہوں نے جواب دیا سبحان اللہ اس بارے میں سب سے پہلے فلاں شخص نے سوال کیا تھا اس نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کے خیال میں اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو گناہ کرتے ہوئے دیکھے تو اسے کیا کرنا چاہیے اگر وہ خاموش رہتا ہے تو ایک بڑے جرم پر خاموش ہے اور اگر وہ یہ بیان کرتا ہے تو ایسی بات بیان کرے گا (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا وہ صاحب اٹھ کرچلے گئے اس کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے آپ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا اس میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ راوی کہتے ہیں اللہ نے سورت نور کی یہ آیت نازل کی۔ "جولوگ اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہوتا صرف وہ خود گواہ ہوتا ہے تو اس اکیلے شخص کی گواہی چار گواہوں کے برابر ہوگی وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے گا کہ وہ سچ کہہ رہاہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹ بول رہاہو اور عورت سے عذاب ہٹادیا جائے گا اگر وہ اللہ کے نام کی چار مرتبہ یہ گواہی دے کہ وہ مرد جھوٹ بول رہاہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس عورت پر اللہ کاغضب نازل ہو اگر مرد سچ کہہ رہاہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی پھر آپ نے ان صاحب کو بلایا اور یہ آیات اس کے سامنے تلاوت کرنے کے بعد اسے اللہ کے خوف سے ڈرایا اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے وہ صاحب بولے میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بلایا اور اسے نصیحت کی یہ بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں آسان ہے وہ عورت بولی اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے یہ صاحب جھوٹ بول رہے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو بلوایا ان صاحب نے اللہ کے نام پر چار مرتبہ یہ قسم اٹھا کر گواہی دی کہ وہ سچ کہہ رہاہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹ بول رہاہو۔ پھر اس خاتون کو لایا گیا اس نے اللہ کے نام پر چار مرتبہ یہ گواہی دی کہ وہ صاحب جھوٹ بول رہے ہیں اور پانچویں مرتبہ یہ کہا کہ اگر وہ صاحب سچے ہوں تو اس خاتون پر اللہ کی لعنت ہو۔ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروادی۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2272

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2273

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنِي مَالِكٌ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروادی تھی اور بچے کا نسب اس کی ماں کے ساتھ ثابت کیا تھا۔

فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعًا ← مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Hadith 2273

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2274

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ أَوْ أَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرلے وہ ظالم ہوگا۔

جَابِرًا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 2274

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2275

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ زَانٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرلے وہ ظالم شمار ہوگا۔

أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ زَانٍ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ← مَالِکُ بْنُ إِسْمَعِيلَ

Hadith 2275

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2276

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ

سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ مرفوع حدیث نقل کرتے ہیں بچہ عورت کے شوہر کاشمار ہوگا اور زنا کرنے والے کو پتھر مارے جائیں گے۔

الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2276

chevron_left Previous
1…56789
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door