Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2253

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ حِينَ يُجَامِعُ أَهْلَهُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنْ قَضَى اللَّهُ وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص صحبت کے وقت یہ دعا پڑھ لے۔ اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہوں اے اللہ ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو اولاد تو ہمیں عطا کرے گا اسے بھی شیطان سے دورکھ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اولاد مقدر کی ہو تو شیطان اس اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 2253

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2254

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ هَرَمِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ

حضرت خزیمہ بن ثابت بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا۔ تم خواتین کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ ← هَرَمِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْخَطْمِيِّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 2254

Sahih

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2255

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ الْيَهُودَ قَالُوا لِلْمُسْلِمِينَ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُدْبِرَةٌ جَاءَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ

حضرت عبداللہ بن مسعودبیان کرتے ہیں یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا جو شخص پیچھے سے عورت کی اگلی شرمگاہ میں صحبت کرتا ہے اس کی اولاد اندھی ہوتی ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں تم اپنے کھیت میں جس طرف سے چاہو آؤ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ الْيَهُودَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 2255

Sahih

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2256

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى سَوْدَةَ وَهِيَ تَصْنَعُ طِيبًا وَعِنْدَهَا نِسَاءٌ فَأَخْلَيْنَهُ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ رَأَى امْرَأَةً تُعْجِبُهُ فَلْيَقُمْ إِلَى أَهْلِهِ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کو دیکھا وہ آپ کو اچھی لگی آپ حضرت سودہ کے پاس آئے وہ اس وقت خوشبو بنارہی تھی ان کے پاس کچھ دیگر خواتین بھی موجود تھیں وہ خواتین اٹھ کر چلی گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا جو شخص کسی عورت کی طرف دیکھے وہ عورت اسے اچھی لگے تو اس شخص کو چاہیے کہ اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلے کیونکہ اس کی بیوی کے پاس بھی وہ کچھ ہوگا جو اس عورت کے پاس ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ حُلاَّمٍ ← أَبِي إِسْحَقَ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Hadith 2256

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2257

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي مَا أَعْجَلَكَ يَا جَابِرُ قَالَ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ أَفَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا نَدْخُلُ قَالَ أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک سفر میں شریک تھے جب ہم واپس آرہے تھے تو میں تیزی سے آگے نکل گیا ایک سوار پیچھے سے میرے قریب آگیا میں نے توجہ کی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ نے مجھ سے دریافت کیا اے جابر رضی اللہ عنہ تم جلدی کیوں جا رہے ہو؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میری شادی نئی نئی ہوئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا تم نے کسی کنواری لڑکی کے ساتھ شادی کی ہے یا کسی بیوہ کے ساتھ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جواب دیا بیوہ سے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم نے کسی کنواری لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی پھر آپ نے ارشاد فرمایا جب تم گھر جانے لگو تو سمجھ داری کا مظاہرہ کرنا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ منورہ آئے اور اپنے گھروں میں جانے لگے تو آپ نے فرمایا ٹھہر جاؤ ہم رات کے وقت گھر جائیں گے تاکہ جس عورت کے بال بکھرے ہوئے ہوں وہ انہیں سنوار لے اور جس عورت نے بغل یا موئے زیرناف بال صاف کرنے ہوں وہ انہیں صاف کرلے۔

أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ← فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا نَدْخُلُ ← لِي إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ← ثُمَّ ← فَهَلَّا بِکْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ ← قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا ← أَفَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا ← إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ← بِرَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ لِي مَا أَعْجَلَكَ يَا جَابِرُ ← فَالْتَفَتُّ فَإِذَا ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← سَيَّارٍ، ← هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ

Hadith 2257

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2258

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنْ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْغِيلَةُ أَنْ يُجَامِعَهَا وَهِيَ تُرْضِعُ

حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں غیلہ سے منع کروں گا پھر مجھے یہ خیال آیا کہ ایرانی اور رومی لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ امام دارمی فرماتے ہیں غیلہ سے مراد یہ ہے کہ جس وقت عورت دودھ پلا رہی ہو اس وقت اس کے ساتھ صحبت کرنا۔

جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيِّ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 2258

Sahih

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2259

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا قَطُّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے کسی کو نہیں مارا البتہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے۔ (دشمن پر حملہ کیا ہے)

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2259

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2260

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ ذَئِرْنَ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ

حضرت ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا اللہ کی کنیزوں کو مارو نہیں۔ حضرت عمر بن خطاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی خواتین اپنے شوہروں کا مقابلہ کرنے لگی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو رخصت عطا کی وہ انہیں مار سکتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے پاس بکثرت خواتین آنے لگیں جو اپنے شوہروں کی شکایت پیش کرتی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا محمد کے اہل خانہ کے پاس بہت سی خواتین آرہی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی ہیں ایسے لوگ اچھے لوگ نہیں ہیں۔ (جو اپنی بیویوں کو مارتے ہیں)

إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ

Hadith 2260

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2261

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمَعَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمًا فَوَعَظَهُمْ فِي النِّسَاءِ فَقَالَ مَا بَالُ الرَّجُلِ يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا فِي آخِرِ يَوْمِهِ

عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خواتین کے بارے میں وعظ ونصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا مرد اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کیوں مارتا ہے حالانکہ اسی دن کے آخری حصے میں تم نے اسی کے ساتھ ہم بستری کرنا ہوتی ہے ۔

خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ النَّاسَ يَوْمًا فَوَعَظَهُمْ فِي النِّسَاءِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2261

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2262

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ فَإِنْ تُقِمْهَا كَسَرْتَهَا فَدَارِهَا فَإِنَّ فِيهَا أَوَدًا وَبُلْغَةً

حضرت ابوذر غفاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اگر تم اسے سیدھا کرو گے تو تم اس کو توڑ دوگے تم اس کا خیال رکھو یہی عقل مندی اور سمجھ داری کا ثبوت ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Hadith 2262

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2263

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا وَإِنْ تَسْتَمْتِعْ تَسْتَمْتِعْ وَفِيهَا عِوَجٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہوگے تو تم اسے توڑ دوگے اور اگر تم اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہوگے تو اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے فائدہ حاصل کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 2263

Sahih

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2264

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَوَ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ تَعَالَى أَنْ تَكُونَ إِلَّا كَانَتْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کیا تم لوگ ایساہی کرتے ہو اگر تم یہ بھی نہ کرو تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ جس جان کی پیدائش کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیاہے وہ پیدا ہوکر ہی رہے گی۔

الْعَزْل ← سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ

Hadith 2264

chevron_left Previous
1…456…9
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door