Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2241

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلَا أُصْدِقَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ فَوْقَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً أَلَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغَالِي بِصَدَاقِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَبْقَى لَهَا فِي نَفْسِهِ عَدَاوَةٌ حَتَّى يَقُولَ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ

ابوعجفاء بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب کو خطبہ دیتے ہوئے سنا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا خبردار خواتین کے مہر میں غیرضروری اضافہ نہ کرو کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں عزت کانشان ہوتی یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرہیز گاری کانشان ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے سب سے زیادہ حق دار تھے آپ نے اپنی ازواج میں کسی خاتون کا یاصاحبزادیوں میں کسی کامہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا خبردار کوئی شخص بیوی کو مہر تو زیادہ دے دیتا ہے لیکن دل میں اس عورت کے لئے عداوت باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ سوچتا ہے تمہاری وجہ سے مجھے بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2241

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2242

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِي فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا فَقَالَ أَعْطِهَا ثَوْبًا فَقَالَ لَا أَجِدُ قَالَ أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَاعْتَلَّ لَهُ فَقَالَ مَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون حاضر ہوئی اور عرض کی وہ اپنا آپ اللہ کے رسول کے نام کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے کسی خاتون کے ساتھ شادی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ایک صاحب نے عرض کیا اس کی شادی میرے ساتھ کردیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہر کے طور پر اسے کوئی کپڑا دے دو ان صاحب نے عرض کی وہ میرے پاس نہیں ہے آپ نے فرمایا اسے کچھ دیدو خواہ وہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ان صاحب نے اس سے بھی معذوری ظاہر کی تو آپ نے ارشاد فرمایا تمہیں قرآن مجید کتنایاد ہے اس نے عرض کی اتنا آپ نے فرمایا تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کی تعلیم دینے پر میں تمہاری شادی اس عورت کے ساتھ کرتا ہوں۔

فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ ← کَذَا وَکَذَا؟ ← مَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ ← أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَاعْتَلَّ لَهُ ← لا أجد ← أَعْطِهَا ثَوْبًا ← رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا ← رَسُولُ اللَّهِ مَا لِي فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ ← إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ← أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Hadith 2242

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2243

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِهِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ہمیں نکاح کا خطبہ سکھایا تھا ۔ ہرطرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے (راوی کو شک ہے شاید الفاظ یہ ہیں) بے شک حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں ہم اپنے نفس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں جسے اللہ ہدایت عطا کردے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور جسے وہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں۔ پھر آپ نے ان تین آیات کی تلاوت کی۔ "اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے گی مگر یہ کہ تم مسلمان ہو یعنی تم مرتے وقت مسلمان ہونا۔ اے ایمان والو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کاجوڑا بنایا ہے اور پھر ان دونوں کے ذریعے بے شمار مردوں اور عورتوں کو پھیلادیا اس اللہ سے ڈرو جس کے نام کے واسطے سے تم رشتہ داری کے حقوق کا تقاضا کرتے ہو بے شک اللہ تمہارا نگہبان ہے۔ اے ایمان والو۔ اللہ سے ڈرو اور سچی بات کہو وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا جو صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ عظیم کامیابی حاصل کرے گا۔ (راوی کہتے ہیں پھر اس کے بعد وہ شخص اپنی حاجت کے بارے میں بات کرے)۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبَا عُبَيْدَةَ، ← أَبُو إِسْحَقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَحَجَّاجٌ

Hadith 2243

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2244

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ

حضرت عقبہ بن عامر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔

إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ ← النَّبِيِّ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2244

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2245

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ صُفْرَةً فَقَالَ مَا هَذِهِ الصُّفْرَةُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ

حضرت انس بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف پر زرد رنگ کانشان دیکھا تودریافت کیا یہ زرد رنگ کس چیز کا ہے انہوں نے عرض کی میں نے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض میں خاتون سے شادی کرلی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ برکت عطا فرمائے تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری قربان کرکے دعوت کرو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Hadith 2245

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2246

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيُجِبْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَنْبَغِي أَنْ يُجِيبَ وَلَيْسَ الْأَكْلُ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کو ولیمہ کی دعوت میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرلینی چاہیے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اسے دعوت قبول کرلینی چاہیے البتہ جا کر کھانا کھانا اس پر واجب نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 2246

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2247

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جس شخص کی دوبیویاں ہوں وہ دونوں میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو تو جب قیامت کا دن آئے گا تو اس کا ایک پہلو مائل ہوگا۔

مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 2247

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2248

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ هَذِهِ قِسْمَتِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم کرتے ہوئے انصاف سے کام لیتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے اے اللہ یہ وہ تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں تو اس چیز کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ

Hadith 2248

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2249

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے لگتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ان میں سے جس کسی کا نام نکل آتا آپ اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← إِسْمَعِيلُ

Hadith 2249

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2250

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ

حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا باکرہ کے پاس سات دن اور ثیبہ کے پاس تین دن رہا جائے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يعلى

Hadith 2250

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2251

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا وَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي

حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کی تو آپ ان کے ہاں تین دن رہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا تمہارے میاں کے سامنے تمہاری حثییت کم نہیں ہے۔ اگر تم چاہو میں تمہارے پاس سات دن تک رہ سکتاہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Hadith 2251

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2252

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي قَالَ وَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ عَلَى النِّسَاءِ فِي شَوَّالٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شوال کے مہینے میں شادی کی اور میں شوال کے مہینے میں ہی آپ کے ہاں آئی آپ کی بارگاہ میں جو حثییت مجھے حاصل ہے وہ اور کسے حاصل ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس بات کو مستحب قرار دیتی تھیں کہ خواتین کی رخصتی شوال کے مہینے میں کی جائے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 2252

chevron_left Previous
12345…9
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door