Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2217

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام کی موجودگی میں نکاح کا پیغام نہ بھیجے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے یہاں تک کہ وہ شخص اسے اس کی اجازت دیدے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 2217

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2218

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ وَكَتَبَهُ مِنْهَا كِتَابًا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي مِنْهُمْ النَّفَقَةَ فَقَالُوا لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ وَانْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَانُهَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى إِنْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَلَمَّا حَلَّتْ ذَكَرَتْ أَنَّ مُعَاوِيَةَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ فَأَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ أُسَامَةَ فَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَكَحَتْ أُسَامَةَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَا فَاطِمَةُ اتَّقِي اللَّهَ فَقَدْ عَلِمْتِ فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَالْفَاحِشَةُ أَنْ تَبْذُوَ عَلَى أَهْلِهَا فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يُخْرِجُوهَا

حضرت فاطمہ بنت قیس بیان کرتی ہیں وہ بنومخزوم سے تعلق رکھنے والے قریشی شخص کی بیوی تھیں اس شخص نے انہیں طلاق بتہ دیدی۔ انہوں نے اپنے میاں کے خاندان والوں کے پاس کسی شخص کو بھیجا تاکہ ان سے خرچ کا مطالبہ کریں تو ان خاندان والوں نے جواب دیا تمہیں کوئی خرچ نہیں ملے گی اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے فاطمہ بنت قیس سے فرمایا تمہیں خرچ نہیں ملے گا تمہیں عدت بسر کرنی ہے تم ام شریک کے گھر منتقل ہوجاؤ اور پھر آکر مجھ سے ملنا پھر آپ نے فرمایا ام شریک کے ہاں تو اس کے مہاجر بھائی آتے جاتے رہتے ہیں۔ تم ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجاؤ کیونکہ وہ نابیناہیں اگر تم اپنی چادر سر سے اتار بھی دوگی تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکیں گے لیکن تم مجھ سے مل ضرور لینا۔ فاطمہ بنت قیس حضرت ابن ام مکتوم کے ہاں چلی گئی جب ان کی عدت ختم ہوگئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کی کہ حضرت معاویہ اور حضرت ابوجہم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا معاویہ کے پاس تو پیسے نہیں ہیں اور ابوجہم وہ گردن سے عصا اتارتا ہی نہیں ہے تم اسامہ سے شادی کیوں نہیں کرلیتی۔ فاطمہ بنت قیس کے خاندان والوں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ لیکن فاطمہ بنت قیس نے یہی کہا اللہ کی قسم میں صرف اسی شخص کے ساتھ شادی کروں گی جس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے پھر حضرت فاطمہ بنت قیس نے حضرت اسامہ کے ساتھ شادی کرلی۔ محمد بن ابراہیم بولے اے فاطمہ اللہ سے ڈرو تم جانتی ہو کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ نے ارشاد فرمایا۔ اے نبی جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو تو انہیں عدت میں طلاق دو اور ان کی عدت پوری کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے انہیں اپنے گھروں سے مت نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں البتہ اگر وہ واضح فحاشی کی مرتکب ہو تو انہیں نکالا جاسکتا ہے۔ یہاں فاحشہ سے مراد یہ ہے کہ وہ عورت اپنے خاوند کے ساتھ بدزبانی کرے اگر ایسا کرے تو پھر خاوند کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اسے اپنے گھر سے نکال دے۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2218

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2219

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ حَدَّثَنَا عَامِرٌ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْعَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا أَوْ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوْ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا وَلَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے اپنی بیوی کی بھتیجی کے ساتھ شادی کی جائے یا اپنی بیوی کی پھوپھی کےساتھ شادی کرلی جائے یا اپنی بیوی کی بھانجی کے ساتھ شادی کرلی جائے یا اپنی بیوی کی خالہ کے ساتھ شادی کرلی جائے یا بیوی کی چھوٹی بہن کے ساتھ شادی کرلی جائے یا بیوی کی بڑی بہن کے ساتھ شادی کرلی جائے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2219

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2220

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے نکاح میں عورت اور اس کی پھوپھی یا عورت اور اس کی خالہ کو جمع کیا جائے۔ یعنی دونوں کے ساتھ بیک وقت نکاح کیا جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Hadith 2220

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2221

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ قَالَ مَالِكٌ وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ الْآخَرَ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَرَى بَيْنَهُمَا نِكَاحًا قَالَ لَا يُعْجِبُنِي

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع کیا ہے۔ امام مالک بیان کرتے ہیں شغار سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی بیٹی سے شادی کرلے اس شرط پر کہ وہ دوسرا شخص اس پہلے شخص کی بیٹی کے ساتھ شادی کرے گا اور دونوں کا کوئی مہر نہیں ہوگا۔ امام دارمی سے سوال کیا آپ کے نزدیک دونوں کا نکاح ہوجاتا ہے انہوں نے جواب دیا مجھے پسند نہیں ہے۔

مَالِكٌ وَالشِّغَارُ ← الشِّغَارِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 2221

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2222

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْكِحُوا الصَّالِحِينَ وَالصَّالِحَاتِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد وَسَقَطَ عَلَيَّ مِنْ الْحَدِيثِ فَمَا تَبِعَهُمْ بَعْدُ فَحَسَنٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں نیک عورتوں اور نیک مردوں کی شادی کردو۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث کا کچھ حصہ مجھے بھول گیا ہے اس کے بعد جو انہیں ملے گا وہ بہتر ہوگا۔

أَبُو مُحَمَّد وَسَقَطَ عَلَيَّ مِنْ الْحَدِيثِ فَمَا تَبِعَهُمْ بَعْدُ فَحَسَنٌ ← أَنْكِحُوا الصَّالِحِينَ وَالصَّالِحَاتِ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← وَهْبِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2222

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2223

أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مَالِکُ بْنُ إِسْمَعِيلَ

Hadith 2223

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2224

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ یہ حدیث شیئر کریں

لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Hadith 2224

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2225

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ اشْتَجَرُوا قَالَ أَبُو عَاصِمٍ وَقَالَ مَرَّةً فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا قَالَ أَبُو عَاصِمٍ أَمْلَاهُ عَلَيَّ سَنَةَ سِتٍّ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو عورت ولی کی اجازت کی بغیر نکاح کرے گی اس کا نکاح باطل ہوگا اس کا نکاح باطل ہوگا اس کا نکاح باطل ہوگا ۔ اگر جھگڑا ہوجائے تو جس کا ولی نہ ہو اس کا حاکم وقت ولی ہوتا ہے اگر وہ شخص اس عورت کے ساتھ صحبت کرچکا ہو تو اس عورت کو مہر ملے گا اس وجہ سے جو اس مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا ۔ اس حدیث کے راوی ابوعاصم بیان کرتے ہیں ابوعاصم بیان کرتے ہیں میرے استاد نے یہ حدیث ایک سوچھیالیس ہجری میں مجھے املا کرو ائی تھی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2225

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2226

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ وَإِنْ أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یتیم لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 2226

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2227

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ثیبہ کا نکاح اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور باکرہ کا نکاح اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے اس کی اجازت خاموشی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Hadith 2227

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2228

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

سیدنا ابوہریرۃ نے اسی حدیث کو دوسری سند سے رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ← أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Hadith 2228

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door