Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2009

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُدَمَّى وَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ فَيَقُولُ إِذَا ذُبِحَتْ الْعَقِيقَةُ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَيُسْتَقْبَلُ بِهَا أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى إِذَا سَالَ شَبَهُ الْخَيْطِ غُسِلَ رَأْسُهُ ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَيُسَمَّى قَالَ عَبْد اللَّهِ وَلَا أُرَاهُ وَاجِبًا

حضرت سمرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان نقل کرتے ہیں ہرلڑ کا اپنے عقیقہ کے عوض میں رہن ہوتا ہے ساتویں دن اس کی طرف سے قربانی کی جائے اور اس کے سر کے بال مونڈ دیئے جائیں اور اسے خون آلود کیا جائے۔ قتادہ خون آلود کرنے کی وضاحت کرتے ہیں کہ جب عقیقہ کا جانور قربان کردیا جائے تو اس کی اون لے کر اسے جانور کی خون کی نالی میں بھگو کر بچے کے سر پر رکھا جائے اور پھر ایک دھاگے جتنا خون بہہ جائے تو پھر اس کا سر دھو کر اس کے سر کے بال صاف کئے جائیں۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں بسم اللہ پڑھنے کا ذکر ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ واجب نہیں ہے۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ

Hadith 2009

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2010

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ

حضرت شداد بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو فرمان یاد رکھے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا ہے اللہ نے تمہارے اوپر احسان لازم کیا ہے جب تم جنگ کے دوران یا سزا کے طور پر کسی کو قتل کرو تو عمدہ طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری کو تیز کر لو اور اپنے قربانی کے جانور کو راحت پہنچاؤ۔

إن الله ← حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ اثْنَتَيْنِ ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2010

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2011

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَرْعَى لِآلِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ غَنَمًا بِسَلْعٍ فَخَافَتْ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا أَنْ تَمُوتَ فَأَخَذَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ وَإِنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک خاتون کعب بن مالک کے خاندان کی بکریاں سلع پہاڑ کے پاس چرایا کرتی تھی ایک مرتبہ اسے اندیشہ ہوا کہ ان میں سے ایک بکری مر جائے گی اس نے ایک پتھر پکڑا اور اس سے اس بکری کو ذبح کردیا جب اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس بکری کا گوشت کھا لیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 2011

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2012

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَعَفَّانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ فَقَالَ لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ قَالَ حَمَّادٌ حَمَلْنَاهُ عَلَى الْمُتَرَدِّي

ابوعشراء اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ کیا حلق اور شہ رگ کے ذریعے ہی جانور پاک ہوتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم اس کے پہلو میں نیزہ چبھو دو تو یہ بھی تمہاری طرف سے جائز ہوگا۔ اس حدیث کے راوی کہتے ہیں حماد کہتے ہیں ہم اس حدیث کو اس صورت پر محمول کرتے ہیں جب کوئی جانور گر جائے۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← أَبِي الْعُشَرَاءِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَعَفَّانُ

Hadith 2012

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2013

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَإِذَا غِلْمَةٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا فَتَفَرَّقُوا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِ

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مدینہ کی ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ وہاں کچھ لوگ ایک مرغی پر تیر اندازی کر رہے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے غصے سے دریافت کیا یہ کون ایسا کررہا ہے وہ بچے بکھر گئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانور کا مثلہ کرے۔

ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا فَتَفَرَّقُوا ← خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَإِذَا غِلْمَةٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 2013

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2014

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةً مَا صَبَرْتُهَا

حضرت ابوایوب انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور پر نشانہ بازی کرنے سے منع کیا ہے۔ حضرت ابوایوب انصاری فرماتے ہیں اگر کوئی مرغی بھی ہو تو میں اس پر بھی نشانہ بازی نہ کروں۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى ← أَبِيهِ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 2014

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2015

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْمُجَثَّمَةُ الْمَصْبُورَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجثمہ سے منع کیا ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں فرماتے ہیں مجثمہ سے مراد یہ ہے کہ کسی جاندار چیز پر نشانہ بازی کی جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Hadith 2015

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2016

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ قَوْمًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا فَقَالَ سَمُّوا أَنْتُمْ وَكُلُوا وَكَانُوا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کچھ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم لوگ کسی جگہ کوئی گوشت پاتے ہیں اس کے بارے میں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بسم اللہ پڑھ کر اسے کھا لیا کرو راوی بیان کرتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کے قریب کا واقعہ ہے۔

عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ قَوْمًا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 2016

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2017

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا

حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں ایک اونٹ بھاگ گیا حاضرین میں سے صرف ایک کے پاس گھوڑا تھا ان صاحب نے اسے تیر مارا اور اونٹ پکڑ لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ فرمایا یہ جانور بھی وحشی جانوروں کی طرح کبھی بھاگ جاتے ہیں تو تم میں سے جس شخص سے یہ بھاگ جائیں اسے اسی طرح کرنا چاہیے۔

عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 2017

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2018

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ دِينَارٍ عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهِ سَأَلَهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قِيلَ وَمَا حَقُّهُ قَالَ أَنْ تَذْبَحَهُ فَتَأْكُلَهُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی چڑیا کو ناحق طور پر قتل کردے اللہ قیامت کے دن اس شخص سے اس بارے میں سوال کرے گا عرض کی گئی یا رسول اللہ اس کا حق کیا ہے آپ نے فرمایا یہ کہ تم اسے کھانے کے لئے ذبح کرو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← صُهَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَامِرٍ ← عَمْرٍو هُوَ ابْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 2018

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2019

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ يُؤْكَلُ قَالَ نَعَمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ماں کو ذبح کرنے سے پیٹ میں بچہ بھی قربان شمار ہوتا ہے ۔ امام درامی سے سوال کیا گیا کیا اسے کھایا جاسکتا ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔

نَعَمْ ← ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ يُؤْكَلُ ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 2019

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2020

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ

حضرت ابوثعلبہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نوکیلے دانتوں والے درندے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔

أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 2020

Sahih

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door