Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1906

حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ثُمَّ لَبَنَيْتُهَا عَلَى أُسِّ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتْ اسْتَقْصَرَتْ ثُمَّ جَعَلَتْ لَهَا خَلْفًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اگر تمہاری قوم کفر کے زمانے کے نزدیک نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو ڈھا کر اسے حضرت ابراہیم کی بنیادوں کے مطابق تعمیر کرتا کیونکہ قریش نے اسے بناتے ہوئے اسے چھوٹا کردیا تھا اور میں اس کے پیچھے کی طرف والا دروازہ بھی بناتا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1906

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1907

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ فَعَلَ ذَلِكَ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَعَمَدْتُ إِلَى الْحِجْرِ فَجَعَلْتُهُ فِي الْبَيْتِ وَأَلْزَقْتُ بَابَهُ بِالْأَرْضِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں دریافت کیا کیا یہ بیت اللہ کا حصہ ہے آپ نے جواب دیا ہاں میں نے دریافت کیا ان لوگوں نے اس حصے کو بیت اللہ میں شامل کیوں نہیں کیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہوگیا تھا میں نے دریافت کیا ان لوگوں نے اس کا دروازہ اونچا کیوں رکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری قوم نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ وہ جسے چا ہے اندر داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں اندر داخل نہ ہونے دیں اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت نئی نئی چھوڑ کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی اور مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ ان کے دل منکر ہوجائیں گے تو میں حطیم کو بیت اللہ میں شامل کرتا اور اس کا دروازہ زمین کے ساتھ ملا دیتا۔

إِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا ← ((نعم))، قلت: فما لهم لم يدخلوه في البيت؟ ← الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1907

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1908

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ التَّحْصِيبُ لَيْسَ بِشَيْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد التَّحْصِيبُ مَوْضِعٌ بِمَكَّةَ وَهُوَ مَوْضِعٌ بِبَطْحَاءَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تحصیب میں رات بسر کرنا کوئی حکم نہیں ہے یہ جگہ ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں تحصیب مکہ میں ایک جگہ ہے اور یہ بطحاء میں بھی ایک جگہ کا نام ہے۔

أَبُو مُحَمَّد التَّحْصِيبُ مَوْضِعٌ بِمَكَّةَ وَهُوَ مَوْضِعٌ بِبَطْحَاءَ ← التَّحْصِيبُ لَيْسَ بِشَيْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1908

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1909

أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ هُوَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى خَمْسَ صَلَوَاتٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں پانچ نمازیں ادا کیں۔

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ بِمِنًى خَمْسَ صَلَوَاتٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو كُدَيْنَةَ هُوَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1909

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1910

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالْأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَ اصْنَعْ مَا يَصْنَعُ أُمَرَاؤُكَ

عبدالعزیز بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ دریافت کیا آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یاد ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کے دن ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی انہوں نے جواب دیا منی میں، میں نے دریافت کیا روانگی کے دن آپ نے عصر کی نماز کہاں ادا کی تھی۔ انہوں نے جواب دیا بطحاء میں، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم وہی کرو جو تمہارے امراء کرتے ہیں ۔

اصْنَعْ مَا يَصْنَعُ أُمَرَاؤُكَ ← بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ ← قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ← بِمِنًى، ← رَسُولِ اللَّهِ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ ← بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ ← قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1910

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1911

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی پھر آپ منی میں کچھ دیر سوگئے پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف آئے اور اس کا طواف کیا۔

أَنَسِ، أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدٌ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1911

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1912

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَصَلَّى مَعَ عُثْمَانَ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمْ الطُّرُقُ فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ

حضرت عبداللہ نے حضرت عثمان غنی کی اقتداء میں منی میں چار رکعت ادا کرنے کے بعد فرمایا میں نے اس جگہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دو رکعت ادا کی ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں دو رکعت ادا کی ہیں اور حضرت عمر کی اقتداء میں دو رکعت ادا کی ہیں ، پھر تمہارے راستے مختلف ہوگئے کاش مجھے ان چار رکعات کی بجائے دو مقبول رکعات مل جاتی۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سُلَیْمَانَ ← مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1912

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1913

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَأَبَا بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَعُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَعُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ

سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں دو رکعت ادا کی ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو رکعت ادا کی ہیں اور حضرت عمر نے دو رکعت ادا کی ہیں، حضرت عثمان اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں دو رکعت ادا کرتے رہے لیکن بعد میں پوری چار پڑھنے لگے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1913

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1914

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ وَمِنَّا مَنْ يُلَبِّي

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہی منی سے روانہ ہوئے ہم میں سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض لوگ تلبیہ پڑھ رہے تھے۔

خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ مِنًى فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ وَمِنَّا مَنْ يُلَبِّي ← ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1914

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1915

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ عَنْ التَّلْبِيَةِ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ

محمد بن ابوبکر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال کیا ہم لوگ اس وقت منی سے عرفات جا رہے تھے میرا سوال تلبیہ کے بارے میں تھا آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی میں کیا کرتے تھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کچھ لوگ تلبیہ پڑھتے تھے اور ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا اور کچھ لوگ تکبیر پڑھتے تھے ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا۔

كَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ← التَّلْبِيَةِ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَاتٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الثَّقَفِيُّ ← مَالِكٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1915

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1916

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ جُبَيْرٌ أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنْ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَا هُنَا

محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں حضرت جبیر بیان کرتے ہیں میرا اونٹ گم ہوگیا میں اسے تلاش کرنے کے لئے نکلا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ہمراہ عرفہ میں کھڑے ہوئے پایا میں نے سوچا اللہ کی قسم ان کا تعلق حمس (قریش) سے ہے یہ اس وقت یہاں کیا کررہے ہیں (کیونکہ قریش وہاں قیام نہیں کرتے تھے)

مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1916

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1917

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ لَا حَرَجَ ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ لَا حَرَجَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی کی پھر آپ لوگوں کے سامنے بیٹھ گئے ایک صاحب آئے عرض کی یا رسول اللہ میں نے قربانی سے پہلے ہی سر منڈوا لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے ایک اور صاحب آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی طواف کرلیا ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے پھر راوی کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے یہی جواب دیا کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عرفہ سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے اور مزدلفہ سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے اور منی میں ہر جگہ قربانی ہوسکتی ہے اور مکہ کی ہر گلی گزرگاہ اور راستہ قربانی کی جگہ ہے۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1917

chevron_left Previous
1…789…14
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door