Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1846

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَبَّى قَالَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ يَحْيَى وَذَكَرَ نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَزِيدُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلبیہ پڑھا کرتے تھے۔" میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے ہیں اور بادشاہی میں بھی تیرا کوئی شریک نہیں نافع بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کلمات میں ان کلمات کا اضافہ کیا کرتے تھے میں حاضر ہوں رغبت اور عمل تیرے ہی لئے ہیں میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 1846

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1847

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرَائِيلُ فَقَالَ مُرْ أَصْحَابَكَ أَوْ مَنْ مَعَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ أَوْ بِالْإِهْلَالِ

خلاد بن سائب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے آپ اپنے ساتھیوں کو یہ حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پڑھیں۔

أَبِيهِ ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 1847

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1848

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ

عبداللہ بن ابوبکرؓ اسی اسناد کے ساتھ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 1848

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1849

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ قَالَ فَحَدَّثْتُ عِكْرِمَةَ فَحَدَّثَنِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ فَكَيْفَ أَقُولُ قَالَ قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت زبیر بن عبدالمطلب کی صاحبزادی ضباعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یا رسول اللہ میں حج کرنا چاہتی ہوں میں کیا نیت کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تم یہ نیت کرو میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں آگے جانے کے قابل نہ رہوں (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تمہیں وہی سہولت حاصل ہوگی جس کا تم نے استثناء کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتْ النَّبِيَّ فَقَالَتْ ← فَحَدَّثْتُ عِكْرِمَةَ فَحَدَّثَنِي ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Hadith 1849

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1850

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ہے۔

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 1850

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1851

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدُ إِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ وَإِنَّ ابْنَ زِيَادٍ أَمَرَنِي فَاكْتَوَيْتُ فَاحْتُبِسَ عَنِّي حَتَّى ذَهَبَ أَثَرُ الْمَكَاوِي وَاعْلَمْ أَنَّ الْمُتْعَةَ حَلَالٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيٌّ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا بَدَا لَهُ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد اس حدیث کے ذریعے نفع دے مجھے فرشتے سلام کیا کرتے تھے۔ ابن زیاد نے مجھے یہ ہدایت کی میں نے انہیں داغ لگوا دیا تو سلام آنا بند ہوگیا یہاں تک کہ داغ کا اثر ختم ہوگیا۔ (تو سلام آنا شروع ہوگیا) تم یہ بات جان لو اللہ کی کتاب میں حج تمتع حلال ہے اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں کیا اس کے بارے میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا ایک صاحب نے اپنی رائے کے مطابق جو مناسب سمجھا اس کے بارے میں بیان کردیا۔

مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 1851

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1852

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ يَسْأَلُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ تَقُولُ بِالتَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ قَالَ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ فَقَالَ قَدْ كَانَ عُمَرُ يَنْهَى عَنْهَا فَأَنْتَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ قَالَ عُمَرُ خَيْرٌ مِنِّي وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ

محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے حج کے موقع پر حضرت معاویہ کو حضرت سعد بن مالک سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ حج تمتع کے بارے میں کیا کہتے ہیں عمرے کو حج کے ساتھ ملا دینا۔ انہوں نے جواب دیا یہ بہت بہتر ہے حضرت معاویہ نے کہا حضرت عمر تو اس سے منع کیا کرتے تھے اور آپ حضرت عمر سے زیادہ بہتر ہیں؟ حضرت سعد نے فرمایا عمر مجھ سے بہتر ہے لیکن یہ کام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے کیونکہ وہ حضرت عمر سے بھی بہتر ہیں۔

عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ يَسْأَلُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ: كَيْفَ تَقُولُ بِالتَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ؟ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Hadith 1852

Sahih

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1853

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَجَّ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِي أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتَ اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ قَالَ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسِي فَجَعَلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فَقَالَ لِي رَجُلٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدًا بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ فَقُلْتُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ أَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ

حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ حج کرکے فارغ ہوچکے تھے اور بطحاء میں آپ نے پڑاؤ کیا ہوا تھا آپ نے مجھ سے دریافت کیا کیا تم نے حج کرلیا ہے میں نے عرض کی جی ہاں آپ نے دریافت کیا تم نے کون سا احرام باندھا تھا؟ میں نے عرض کی میں نے یہ نیت کی تھی میں حاضر ہوں اور میں وہی احرام باندھتا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت اچھا کیا اب جاؤ اور بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا مروہ کا چکر لگاؤ اور پھر احرام کھول دو حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کا چکر لگایا۔ پھر میں بنوقیس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے پاس آیا انہوں نے میرے سر میں سے جوئیں نکالیں اس کے بعد میں لوگوں کو یہی فتوی دیتارہا ایک مرتبہ ایک شخص نے مجھ کو کہا اے عبداللہ بن قیس اپنے پاس سے فتاوی بیان کرنا بند کر دو آپ نہیں جانتے آپ کے بعد حج کے احکام کے بارے میں امیرالمومنین نے کیا حکم دیا ہے۔ (حضرت ابوموسی اشعری فرماتے ہیں) میں نے کہا اے لوگو میں نے تمہیں جتنے بھی فتوی دیئے ان سے باز آجاؤ امیرالمومنین تمہارے پاس تشریف لانے والے تم ان کی پیروی کرو جب حضرت عمر تشریف لائے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اگر ہم اللہ کی کتاب کے حکم پر عمل کریں تو اللہ کی کتاب میں حج وعمرہ کو مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا جائز لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا تھا جب تک قربانی کا جانور اپنے مخصوص مقام تک نہیں پہنچ گیا۔

أَحْسَنْتَ اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ ← قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ ← كَيْفَ أَهْلَلْتَ ← لِي: «أَحَجَجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ حِينَ حَجَّ وَهُوَ مُنِيخٌ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقٍ ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Hadith 1853

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1854

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَنْ قُتِلَ مِنْهُنَّ الْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی قتل کردے تو اسے کوئی بھی گناہ نہیں ہوگا کوا چوہا چیل بچھو اور باؤلا کتا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 1854

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1855

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحِدَأَةِ وَالْغُرَابِ وَالْفَأْرَةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْكَلْبِ الْعَقُورِ قَالَ عَبْد اللَّهِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ الْأَسْوَدُ

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ فاسق جانوروں کو حل اور حرم میں قتل کرنے کا حکم دیا ہے چیل کوا چوہا بچھو اور باؤلا کتا۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں بعض روایات میں باؤلے کتے کی بجائے کالے کتے کا ذ کر آیا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَقُ

Hadith 1855

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1856

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا إِنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عائشہؓ رسول اللہﷺ سے پہلی حدیث کی طرح نقل کرتی ہیں ۔

النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ وَعَنْ عُرْوَةَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← بَعْضُ أَصْحَابِنَا إِنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Hadith 1856

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1857

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں بچھنے لگوائے تھے۔

احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1857

chevron_left Previous
1234…14
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door