Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1967

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم اپنا پاؤں لگام میں رکھتے تھے اور آپ کی اونٹنی کھڑی ہوجاتی تھی تو آپ مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سے تلبیہ پڑھنا شروع کردیتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 1967

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1968

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ يَضْمِدُهَا بِالصَّبِرِ

حضرت ابان بن عثمان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے جب حالت احرام میں کسی شخص کو آنکھوں میں تکلیف ہوجائے تو وہ صبر کے ذریعے آنکھوں پر لیپ کرے۔

أَبِيهِ ← أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ

Hadith 1968

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1969

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پاس دو نوافل ادا کئے پھر آپ صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہی طریقہ سنت ہے ۔

قَدِمَ النَّبِيُّ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا ← ابْنِ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Hadith 1969

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1970

قَالَ شُعْبَةُ فَحَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ هِيَ السُّنَّةُ

شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ایوب نے عمرو بن دینار کے واسطے سے نقل کیا کہ ابن عمر نے کہا:"یہی سنت ہے ۔"

هِيَ السُّنَّةُ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ فَحَدَّثَنِي أَيُّوبُ

Hadith 1970

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1971

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگ پہلے جس طرف سے چاہتے واپس چلے جاتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص اس طرح واپس نہ جائے بلکہ اس کا سب سے آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے۔

کَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي کُلِّ وَجْهٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1971

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1972

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا أَفَاضَتْ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حیض والی خاتون کو یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ طواف افاضہ کرلیں تو دوبارہ بیت اللہ کا طواف کئے بغیر واپس جا سکتی ہیں۔

رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا أَفَاضَتْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 1972

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1973

قَالَ وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ عَامَ الْأَوَّلِ أَنَّهَا لَا تَنْفِرُ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ تَنْفِرُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ

اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ : میں نے عمرؓ سے پہلے سال سنا کہ وہ نہ جائے ۔ پھر میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا:"وہ چلی جائے نبیﷺ نے اسے رخصت دی ہے ۔"

تَنْفِرُ ← وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ عَامَ الْأَوَّلِ أَنَّهَا لَا تَنْفِرُ ثُمَّ

Hadith 1973

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1974

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ حَبْسِ النِّسَاءِ عَنْ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ إِذَا حِضْنَ قَبْلَ النَّفْرِ وَقَدْ أَفَضْنَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ إِنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَذْكُرُ رُخْصَةً لِلنِّسَاءِ وَذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِعَامٍ

ابن شہاب بیان کرتے ہیں طاؤس یا یمانی نے بتایا کہ انہوں نے عبداللہ بن عامر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر واپس روانگی سے پہلے خواتین کو حیض آجائے اور وہ بیت اللہ کا الوداعی طواف نہ کرسکیں تو کیا ان کی وجہ سے رک جایا جائے گا جب کہ وہ قربانی کے دن طواف افاضہ کرچکی ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بات بیان کی کہ خواتین کو یہ رخصت دی گئی ہے راوی کہتے ہیں یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے وصال سے ایک سال پہلے کی بات ہے۔

الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ إِذَا حِضْنَ قَبْلَ النَّفْرِ وَقَدْ أَفَضْنَ يَوْمَ النَّحْرِ ← حَبْسِ النِّسَاءِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَهُوَ يُسْأَلُ ← طاوس اليماني أنه ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 1974

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1975

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رِجَالًا يَبْعَثُ أَحَدُهُمْ بِالْهَدْيِ مَعَ الرَّجُلِ فَيَقُولُ إِذَا بَلَغْتَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَقَلِّدْهُ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ الْمَكَانَ لَمْ يَزَلْ مُحْرِمًا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ قَالَ فَسَمِعْتُ صَفْقَتَهَا بِيَدِهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ وَقَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِالْهَدْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ مَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ

مسروق بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا اے ام المومنین بعض لوگ اپنی قربانی کے جانور کسی اور شخص کے ہمراہ مکہ مکرمہ بھیج دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں جب یہ فلاں جگہ پہنچ جائے تو وہ جانور کے گلے میں ہار ڈال دیں جب یہ فلاں جگہ پر پہنچے تو اس وقت تک وہ (جس نے قربانی کا جانور) بھیجا ہے حالت احرام میں رہے گا جب تک لوگ کھول نہیں دیتے۔ مسروق کہتے ہیں میں نے پردے کے پیچھے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تالی بجانے کی آواز سنی انہوں نے فرمایا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لئے ہار بنایا کرتی تھی آپ انہیں مکہ مکرمہ بھیج دیتے تھے لیکن آپ اپنے اوپر ایسی کوئی چیز حرام نہیں کرتے تھے جو کسی بھی شخص کے لئے اپنے اہل خانہ کے حوالے سے جائز ہو یہاں تک کہ لوگ حج کرنے کے بعد واپس آجاتے تھے۔

لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رِجَالًا يَبْعَثُ أَحَدُهُمْ بِالْهَدْيِ مَعَ الرَّجُلِ ← مَسْرُوقٍ أَنَّهُ ← عَامِرٍ، ← اسمعيل يعنى ابن ابى خالد ← يعلى

Hadith 1975

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1976

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَدْيِهِ مُقَلَّدَةً وَيُقِيمُ بِالْمَدِينَةِ وَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لئے ہار میں بنایا کرتی تھی آپ وہ جانور بھیج دیتے تھے ان کے گلوں میں ہار ہوتے تھے اور خود مدینہ منورہ میں مقیم رہتے تھے۔ اور ان جانوروں کی قربانی تک کسی ایسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے تھے (جس کو انجام دینا حالت احرام والے شخص کے لئے جائز نہ ہو۔)

عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Hadith 1976

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1977

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهَا خَيْرًا عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بِنَاءً يُظِلُّكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم منی میں آپ کے لئے کوئی عمارت نہ بنا دیں تاکہ آپ اس کے سائے میں رہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں منی میں جو پہلے پہنچ جائے وہ اپنا جانور بٹھا سکتا ہے ۔ (اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهَا خَيْرًا ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَقُ

Hadith 1977

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1978

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدٍ وَقُرِئَ عَلَى مَالِكٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر ایک خود تھا آپ نے اسے اتارا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ابن خطل کعبہ کے پردے کے پیچھے چھپا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے قتل کردو۔ عبداللہ بن خالد بیان کرتے ہیں امام مالک کے سامنے یہ حدیث بیان کی گئی کہ ابن شہاب بیان کرتے ہیں اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں نہیں تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ

Hadith 1978

chevron_left Previous
1…11121314
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door